| 85222 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سوال: والد صاحب کی دوسری زوجہ کامیراث میں حصہ ہوگایانہیں ؟اورکتناحصہ ہوگاَ؟
(ان کو پہلے کچھ رقم مبلغ 12 لاکھ روپے میں زوہیب حسن ان کو ادا کرچکا ہوں )امید ہے آپ حق دار کو اس کا جائز حق ادا کرنے میں مدد فرمائیں گے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والدکی وفات کےبعد دوسری زوجہ بھی وارث ہوگی اورکل مال کا آٹھواں حصہ ان کوملےگا،جیسےاوپرتفصیل گزرچکی ہے۔
موجودہ صورت میں زمینی منزل اورپہلی منزل کی مارکیٹ ویلیوکےمطابق جتنی قیمت بنتی ہے،اس میں ورثہ کےحصو ں کااندازہ لگالیاجائےاورتقسیم کردیاجائے۔
جہاں تک مسئلہ ہےکہ آپ والدکی دوسری زوجہ کومبلغ 12 لاکھ روپےدےچکےہیں تویہ رقم اگرآپ نےوالدہ کوہدیہ کےطورپرنہیں دی،بلکہ میراث میں ملنےوالےان کےحصےکےطورپردی ہےتودیکھاجائےکہ مارکیٹ ویلیوکےمطابق ان کاآٹھواں حصہ کتنابنتاہے؟اگروہ 12 لاکھ ہی بنتاہےتوان کوان کاحصہ مل گیاہے،مزید دینےکی ضرورت نہیں اوراگرکم ہےتومزید دیےجائیں گے،زیادہ ہیں تواضافی رقم واپس لینےکامطالبہ کیاجاسکتاہے۔
حوالہ جات
۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
27/ربیع الثانی 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


