03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کی زمین پر ذاتی کمائی سے مشترکہ رہائش کے لئے تعمیر کئے گئے مکان کا حکم
85232ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

میں نے اپنے والد کی ملکیت میں موجود زمین پر گھر بنانے کے لئے مالی تعاون کیا،گھر کی تعمیر میں خرچ کی گئی رقم میں سے نوے فیصد میری تھی،جبکہ دس فیصد والد صاحب کی تھی،میرے سب سے چھوٹے بھائی ہانی نے اس پروجیکٹ پر کام کیا،جس کے عوض اسے تیس ہزار پاکستانی روپے ماہانہ دیئے گئے،اب وہ اس گھر میں ملکیت کا حق مانگ رہا ہے،کیا اس گھر میں اس کا کوئی حق ہے؟

تنقیح:سائل نے فون پر بتایا کہ گھر کی تعمیر کے وقت صراحت کے ساتھ کوئی معاہدہ وغیرہ نہیں ہوا تھا کہ اس گھر کی حیثیت کیا ہوگی،تعمیر میں لگائی گئی رقم کے حساب سے بھائی اور والد کے درمیان مشترک ہوگا؟یا والد کی زمین ہونے کی وجہ سے دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہوگا،البتہ میرے اور والد صاحب کے ذہن میں یہ بات تھی کہ یہ مکان ہم سب بھائیوں کی مشترکہ رہائش کے لئے تعمیر کررہے ہیں،کیونکہ والد صاحب کی یہ خواہش ہے کہ ہم سب بھائی اکٹھے رہیں،چنانچہ اس مکان کی تعمیر بھی اسی حساب سے کی گئی کہ ایک بڑا کچن بنایا گیا اور ہر بھائی کے لئے الگ الگ کمرہ،اب چھوٹا بھائی یہ مطالبہ کررہا ہے کہ میرا اس گھر میں جتنا حصہ بنتا ہے وہ مجھے دے دیا جائے،میں یہاں نہیں رہنا چاہتا،جبکہ والد صاحب ابھی حیات ہیں،تو آیا اس کا یہ مطالبہ ٹھیک ہے؟

نیز مکان کی تعمیر کے لئے یہ بھائی علیحدہ سے رقم بھجواتا رہا،جسے مکان کی تعمیر میں صرف کیا گیا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ اس مکان کی تعمیر میں نوے فیصد رقم آپ کی ذاتی کمائی کی صرف ہوئی ہے اور دس فیصد رقم آپ کے والد کی اور آپ لوگوں نے اس مکان کی تعمیر فقط مشترکہ رہائش کی نیت سے کی تھی،دیگر بھائیوں کو مالک بنانے کی نیت سے نہیں،اس لئے نوے فیصد تعمیر کے آپ مالک ہوں گے،جبکہ دس فیصد تعمیر اور زمین کے مالک والد ہوں گے،لہذا چھوٹا بھائی جس نے تعمیر میں کوئی حصہ نہیں لیا اسے اس قسم کے مطالبے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

حوالہ جات

"رد المحتار" (6/ 747):

"(عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها (ولو) عمر (لنفسه بلا إذنها العمارة له) ويكون غاصبا للعرصة فيؤمر بالتفريغ بطلبها ذلك (ولها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) في البناء فلا رجوع له ولو اختلفا في الإذن وعدمه، ولا بينة فالقول لمنكره بيمينه، وفي أن العمارة لها أو له فالقول له لأنه هو المتملك كما أفاده شيخنا".

قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :" (قوله عمر دار زوجته إلخ) على هذا التفصيل عمارة كرمها وسائر أملاكها جامع الفصولين، وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له، وله رفعه إلا أن يضر بالبناء، فيمنع ولو بنى لرب الأرض، بلا أمره ينبغي أن يكون متبرعا كما مر اهـ".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

29/ربیع الثانی1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب