| 86249 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
- اگر مورث کا سارا چھوڑا ہوا مال ترکہ کہلائے گا یا کاروباری ترکہ ہی کاروبار کے لئے شمار ہو گا؟
- کیا مورث کے کاروباری قرضے کا تعلق صرف کاروباری ترکے/سرمائے سے ہوتا ہے یا تمام ترکے سے؟
- اگر مورث کے کاروبار میں قرضہ ہو تو مورث کے چھوڑے ہوئے تمام مال سے ادا کیا جانا چاہئے تھا؟
- اس صورت میں اگر بھائی، مورث (والد) کے کاروبار کا ترکہ جو کہ کاروباری قرضے سے کم تھا، وارثین میں تقسیم نہ کریں اور اسی میں سے کچھ رقم سے کاروباری قرضہ اتاریں اور کچھ رقم واپس کاروبار میں لگا کر کاروبار کو بڑھائیں اور اسی کاروبار کی رقم سے آگے جائداد بنائیں اور گھر کی بھی بالائی منزل تعمیر کرائیں، تو کیا تمام وارثین اس کے حقدار ہوں گے؟
- قرضے کی وجہ سے وارثین کی اجازت کے بغیر والد صاحب کے فرم کا نام بدل کر بھائی اپنے نام کروالے تو اس کا کیا حکم ہے؟
- مندرجہ بالا صورت میں والد صاحب کے چلائے ہوئے کاروبار کی گڈول کی کیا حیثیت ہے؟
- کیا بھائی پر لازم ہے کہ وہ والد صاحب (مورث) کے کاروبار کی تمام تفصیلات/اخراجات وارثین کو بتائیں؟
- کیا مورث کے کاروبار کی تقسیم تمام وارثین (بھائیوں سمیت جو کام کر رہے ہیں) کے درمیان لازم ہے؟
- کیا کسی ایک وارث کو چلتے ہوئے کاروبار سے اس کی مرضی کے بغیر بے دخل کیا جا سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
١۔ والد کے چھوڑے ہوئے تمام مال کو ترکہ تصور کیا جائے گا، نہ کہ صرف کاروباری سرمایہ۔
۲۔ مورث کے ذمہ اگر کوئی قرضہ ہو، خواہ وہ کاروباری ہو یا ذاتی، اس کاتعلق تمام ترکہ سےہوتاہے، نہ کہ صرف کاروباری ترکےسے۔
۳۔جی ہاں، مورث کے کاروبار یا ذاتی قرضے کی ادائیگی والد کے چھوڑے ہوئے تمام مال سے کی جائے گی، نہ کہ صرف کاروباری ترکے سے۔
۴۔اگر قرضہ ادا کرنے کے بعد کاروباری سرمایہ وارثوں میں تقسیم نہیں کیا گیا اور کسی بھائی نے وہ سرمایہ کاروبار میں دوبارہ لگا کر جائداد بنائی یا گھر کی بالائی منزل تعمیر کی، تو اس کاروبار اور جائداد میں تمام وارثوں کا حق باقی رہے گا۔کیونکہ اصل سرمایہ والد کے ترکہ سے تھا،اوراس میں تمام ورثہ کاحق تھا،اور اس کی شرعی تقسیم تمام وارثوں میں لازم تھی، لہٰذا جو بھی منافع یا جائداد بنی ہے، وہ تمام وارثوں میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہو گی۔
۵۔یہ عمل شرعاً درست نہیں ہے۔والد کی فرم یا کاروبار تمام وارثوں کی مشترکہ ملکیت ہے، اور کوئی بھی وارث بغیر اجازت باقی وارثوں کے حقوق پر تصرف نہیں کر سکتا۔اگر کسی بھائی نے فرم کا نام اپنے نام کروا لیا ہے، توبھی وہ تمام وارثوں کو اُن کا شرعی حق دینے کا پابند ہے۔
٦٦۔گڈ وِل ایک غیر مادی اثاثہ (intangible asset) ہے، جو کاروبار کی ساکھ، کسٹمر بیس، اور مارکیٹ ویلیو کی بنیاد پر بنتا ہےاورعرف میں اس کی ایک قیمت ہوتی ہے۔شریعت میں بھی گڈ وِل کاروبار کے مجموعی اثاثوں کا حصہ شمار ہوتی ہے اور اس کی شرعی تقسیم بھی تمام وارثوں میں ضروری ہوتی ہے۔
۷۔جی ہاں، یہ لازم ہے کہ کاروبار میں جو بھی آمدنی، اخراجات، قرض کی ادائیگی، یا سرمایہ کاری ہوئی ہو، اس کی مکمل تفصیلات تمام وارثوں کومطالبہ کرنے پر بتائی جائیں۔مطالبہ کے باوجودوارثوں سےکسی بھی قسم کی معلومات چھپانا شرعاً خیانت کے زمرے میں آئےگا۔
۸۔جی ہاں، مورث کا کاروبار بھی ترکہ کا حصہ ہے، اور اس کی تقسیم تمام وارثوں میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق لازم ہے، چاہے وہ کاروبار میں کام کر رہے ہوں یا نہ کر رہے ہوں۔ البتہ جو وارث کاروبار کو باقاعدہ سنبھالتے رہےہیں، انہیں عرف کے مطابق اپنی خدمات کی اجرت مثل لینے کا حق حاصل ہو گا یعنی ان جیسی صلاحیت والا آدمی کسی کے پاس یہی کام کرتا تو اسے جتنی اجرت ملتی اتنی اجرت یہ بھی لے سکتے ہیں۔
۹۔کسی بھی وارث کو اُس کی مرضی کے بغیر کاروبار سے بے دخل کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ہر وارث کا ترکہ میں حق ہے، اور اگر وہ کاروبار میں عملی حصہ لے رہا ہے، تو اسے بزور طاقت یا زبردستی نکالنے کا کوئی جواز نہیں۔اگر کاروبار کو چلانے میں اختلاف ہو، تو تمام وارث باہمی مشورے سے حل نکالیں یا کسی قابل اعتماد ثالث سے رجوع کریں۔
حوالہ جات
وفی تکملہ فتح الملہم:
إن الأصل الأول في نظام المیراث الإسلامي: أن جمیع ماترک المیت من أملاکہ میراث للورثۃ ۔ (کتاب الفرائض، جمیع ماترک المیت میراث، مکتبۃ اشرفیۃ دیوبند ۲/)
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 370)
ميراث الميت ما تركه الميت، والدين و الوصية لا ينافي كونه متروك الميت؛ لأنهما إنما يقضيان من متروك الميت.
قال في كنز الدقائق :
"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..." (ص:696, المكتبة الشاملة)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/325):
"الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله."
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (8/ 53):
"تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم ، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة ؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما ، انظر المادة ( 1308 ) وحاصلاتها أيضا يجب أن تكون على هذه النسبة ؛ لأن الغنم بالغرم بموجب المادة ( 88 )"
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (8/ 102):
"إذا بذر بعض الورثة الحبوب المشتركة بين جميع الورثة في الأراضي المورثة أو في أراضي الغير بإذن الورثة الآخرين أو إذن وصيهم أو بإذن القاضي إذا كان الورثة صغارا فتكون الحاصلات مشتركة بينهم جميعا ، والحال الذي يوجب أن تكون الحاصلات مشتركة بينهم هو كون البذر مشتركا بينهم وكون الوارث الزارع قد زرع بإذن أصحاب الحصص الآخرين سواء زرع في الأراضي الموروثة أو في أراضي الغير أي في الأرض المأجورة أو المستعارة ( الفتاوى الجديدة ) أو في ملكه الخاص ، وفي هذه الصورة يكون الزارع أصيلا عن نفسه ووكيلا عن شركائه في الزراعة"
بدائع الصنائع - (6 / 65)
فأما شركة الأملاك فحكمها في النوعين جميعا واحد وهو أن كل واحد من الشريكين كأنه أجنبي في نصيب صاحبه لا يجوز له التصرف فيه بغير إذنه لأن المطلق للتصرف الملك أو الولاية ولا لكل واحد منهما في نصيب صاحبه ولاية بالوكالة أو القرابة ولم يوجد شيء من ذلك وسواء كانت الشركة في العين أو الدين لما قلنا
مشکوٰۃ المصابیح( ۱۹۷/)
وفی تكمله فتح الملھم:
حقوق إحداث عقد أو إبقائه: والنوع الخامس من الحقوق هي الحقوق التي يستحق بها صاحبها أن يحدث عقدا مع غيره أو يبقيه، مثل خلو الحوانيت و حق القرار، و حق الوظائف السلطانية، وقد جوز بعض الفقهاء الإعتياض عنهما، ويندرج في هذا القسم حقوق الطبع والنشر، ۔ ۔ ۔ و يدخل في هذا القسم حق خلو المتجر (گڈول) أيضا، فقد شاع في عصرنا بيع الأسماء التجارية، فمن اشتهر اسم متجرة بأن المشترين يميلون إلى ذلك الإسم يبيع اسم متجر فقط وهو في الحقيقة بيع لإحداث العقود مع المشترين بهذا الإسم الخاص، وقد أفتى حكيم الأمة مولانا الشيخ أشرف علي التهانوي رحمه الله بأن في هذا البيع سعة، وقاسه على جواز النزول عن الوضائف بمال .(تكمله فتح الملهم، كتاب البيوع، مبحث بيع الحقوق المجردة، ج:1 ، ص:143)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 42):
"وفي الأشباه: استعان برجل في السوق ليبيع متاعه فطلب منه أجرا فالعبرة لعادتهم، وكذا لو أدخل رجلا في حانوته ليعمل له.
وفي الدرر: دفع غلامه أو ابنه لحائك مدة كذا ليعلمه النسج وشرط عليه كل شهر كذا جاز، ولو لم يشترط فبعد التعليم طلب كل من المعلم والمولى أجرا من الآخر اعتبر عرف البلدة في ذلك العمل"
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 42):
"(قوله فالعبرة لعادتهم) أي لعادة أهل السوق، فإن كانوا يعملون بأجر يجب أجر المثل وإلا فلا. (قوله اعتبر عرف البلدة إلخ) فإن كان العرف يشهد للأستاذ يحكم بأجر مثل تعليم ذلك العمل، وإن شهد للمولى فأجر مثل الغلام على الأستاذ درر"
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ .
وفی مشكاة المصابيح الناشر : المكتب الإسلامي - بيروت - (2 / 197)
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة " . رواه ابن ماجه.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
8/7/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


