| 85228 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
میرا نام ماہ رخ حسین، ولدیت عابد حسین ہے۔ شوہر کا نام حمزہ فاروق ہے۔ ہمارا تعلق جرمنی سے ہے۔ میری شادی تین جولائی 2021ء کو جرمنی میں ہوئی۔ شادی کے تیسرے دن کے بعد سے ہی ہمارے لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے۔ وہ مجھے اپنے گھر والوں کے سامنے مارتا تھا اور اُس کے گھر والے میرا ساتھ نہیں دیتے تھے۔ یہ سب میں نے برداشت کیا، یہاں تک کہ میری بیٹی پیدا ہوئی۔ شادی کے کچھ دن بعد ہی، ایک دن اس نے مجھے سڑک پر مارا پیٹا۔ اُس وقت میں بینک سے آئی تھی، میرے پاس پیسے اور بچی تھی۔ اس نے مجھ سے پیسے چھین لیے۔ اس کی مار پیٹ کی وجہ سے میں اور میری بچی زمین پر گر گئے۔ اُس نے مجھے غصے میں کہا: ”دفع ہو جاؤ“ اور پھر دو مرتبہ جرمن زبان میں کہا کہ "میں تمہیں فارغ کرتا ہوں۔"
سڑک پر موجود لوگ میری مدد کے لیے آگئے اور کہا کہ ہم پولیس کو کال کرتے ہیں، لیکن میں نے انہیں منع کر دیا، کیونکہ جرمنی میں قانون یہ ہے کہ میاں بیوی کی لڑائی میں بچوں کووہ اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ میں ڈر گئی اور اپنی ماں کے گھر چلی گئی۔ آج مجھے ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے کہ میں اپنی ماں کے گھر پر ہوں اور میرا اپنے شوہر سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
میری ماں نے اُس سے رابطہ کیا اور کہا کہ "میری بیٹی آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، لہٰذا آپ اسے طلاق دے دیں،" مگر اُس نے منع کر دیا اور کہا کہ "تم ساری زندگی ایسے ہی بیٹھی رہوگی۔"
ہم نے اُس مسجد سے رابطہ کیا جہاں نکاح ہوا تھا اور اُس قاضی صاحب سے بات کی جس نے نکاح کروایا تھا۔ انہوں نے سن کر کوئی توجہ نہیں دی اور بار بار ٹال مٹول کرتے رہے۔ اب ہمیں کوئی حل نظر نہیں آ رہا کہ کیا کریں۔ کیا لڑکی ساری زندگی انتظار کرتی رہے گی؟
اس بارے میں مجھے آپ سے مشورہ چاہیے تاکہ میری زندگی آسان ہو سکے۔ اس کے لیے میں آپ کے لیے ساری زندگی دعا گو رہوں گی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اگر شوہر نے لفظ "دفع ہوجاؤ" سے طلاق کی نیت کی تھی تو اس سے ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے، کیونکہ یہ الفاظ کنایاتِ طلاق میں سے ہیں۔ (فتاوی فریدیہ: ج۵، ص۳۳۷، ۳۴۹) اس صورت میں آنے والے لفظ "میں تمہیں فارغ کرتا ہوں" سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، کیونکہ ایک بائن کے بعد دوسری بائن لاحق نہیں ہوتی۔
اور اگر مذکورہ لفظ "دفع ہوجاؤ" سے شوہر نے طلاق کی نیت نہیں کی تھی تو اس سے کوئی طلاق نہیں ہوئی۔ البتہ، شوہر نے مسئولہ صورت میں غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو جو دوسرا لفظ "میں تمہیں فارغ کرتا ہوں" کہا ہے، اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی ہے۔ اس لیے کہ یہ لفظ عرف میں ان کنایاتِ طلاق میں سے ہے جو صرف جواب کا احتمال رکھتے ہیں۔ لہٰذا اس لفظ سے غصے اور مذاکرۂ طلاق کے وقت بغیر نیت کے طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے۔ اور اس صورت میں دوسری مرتبہ جو یہ لفظ "آپ مجھ سے فارغ ہو" شوہر نے کہا ہے، اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، کیونکہ طلاق بائن کے ساتھ دوسری بائن لاحق نہیں ہوتی۔ (کذا فی تبویب دارالعلوم کراچی 1594/53)۔
خلاصہ یہ ہے کہ مسئولہ صورت میں بہرحال ایک طلاقِ بائن واقع ہوچکی ہے، چاہے پہلے لفظ سے ہو یا دوسرے لفظ سے۔ طلاق بائن کا حکم یہ ہے کہ شوہر رجوع نہیں کرسکتا۔ البتہ، اگر دوبارہ اکٹھے رہنے کا ارادہ ہو تو باہمی رضامندی سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے عوض دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔ نکاح کرنے کی صورت میں آئندہ شوہر کو باقی طلاقوں کا اختیار ہوگا، لہٰذا آئندہ طلاق کے معاملے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہوگی۔
اور اگر آپ زوجین میں سے کوئی نکاح نہیں کرنا چاہتا تو اسے نکاح پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ اس صورت میں عورت عدت (تین حیض) کے بعد آزاد ہوگی اور جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔ سابقہ خاوند رکاوٹ نہیں ڈال سکتا، اگر وہ پھر بھی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے تو عدالت کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 387):
ولو قال لامرأته: " دور باش از من " يقع إذا نوى ولو قال " بيزارم اززن وخواسته آن " إن نوى طلاقا يكون طلاقا وإلا فلا هكذا في التتارخانية والله أعلم بالصواب.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 298):
(ف) الكنايات (لا تطلق بها)قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب،فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا.
(قوله من الغربة) بالغين المعجمة والراء راجع للأول، قوله أو من العزوبة بالمهملة والزاي راجع للثاني، من عزب عني فلان يعزب: أي فمعناه أيضا تباعدي ح بزيادة ففيه ما في اخرجي أيضا من الاحتمالين
(قوله قضاء) قيد به لأنه لا يقع ديانة بدون النية، ولو وجدت دلالة الحال فوقوعه بواحد من النية أو دلالة الحال إنما هو في القضاء فقط كما هو صريح البحر وغيره
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 300):
(ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى.
(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة ولذا تقبل بينتها على الدلالة لا على النية إلا أن تقام على إقراره بها عمادية، ثم في كل موضع تشترط النية فلو السؤال بهل يقع بقول نعم إن نويت، ولو بكم يقع بقول واحدة ولا يتعرض لاشتراط النية بزازية فليحفظ.
(قوله يتوقف الأول فقط) أي ما يصلح للرد والجواب لأن حالة المذاكرة تصلح للرد والتبعيد كما تصلح للطلاق دون الشتم وألفاظ الأول كذلك، فإذا نوى بها الرد لا الطلاق فقد نوى محتمل كلامه بلا مخالفة للظاهر فتوقف الوقوع على النية، بخلاف ألفاظ الأخيرين فإنها وإن احتملت الطلاق لكنها لا تحتمل ما تحتمله المذاكرة من الرد والتبعيد، فترجح جانب الطلاق ظاهرا فلا يصدق في الصرف عنه فلذا وقع بها قضاء بلا نية.۔۔۔۔۔۔والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية.
بدائع الصنائع- (3 / 631):
قال إن قوله خليت في حال الغضب وفي حال مذاكرة الطلاق يكون طلاقا حتى لا يدين في قوله إنه ما أراد به الطلاق.
"الدر المختار " (3/ 301):
"(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة".
قال ابن عابدین رحمہ اللہ:
(قوله توقف الأولان) أي ما يصلح ردا وجوابا وما يصلح سبا وجوابا ولا يتوقف ما يتعين للجواب.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (3 / 296)
الكنايات (لا تطلق بها)قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (3 / 308)
(لا) يلحق البائن (البائن)
(قوله لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ليس ظاهرا في إنشاء الطلاق كذا في الفتح،
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (3 / 305):
وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه. اهـ.
البحر الرائق، دارالكتاب الاسلامي - (3 / 323):
(قوله: وفي غيرها بائنةوإن نوى ثنتين وتصح نيته الثلاث) أي في غير الألفاظ الثلاثة وما في معناها تقع واحدة بائنة أو ثلاث بالنية.
(قوله: خلية) من خلت المرأة من مانع النكاح خلوا فهي خلية ونساء خليات وناقة خلية مطلقة من عقالها فهي ترعى حيث شاءت ومنه يقال في كنايات الطلاق هي خلية كذا في المصباح.
والأصل الذي عليه الفتوى في الطلاق بالفارسية أنه إن كان فيه لفظ لا يستعمل إلا في الطلاق فذلك اللفظ صريح يقع بلا نية إذا أضيف إلى المرأة مثل زن رها كردم في عرف أهل خراسان، والعراق بهيم لأن الصريح لا يختلف باختلاف اللغات وما كان بالفارسية يستعمل في الطلاق وغيره فهو من كنايات الفارسية فحكمه حكم كنايات العربية في جميع الأحكام اهـ.
وفی فتاوی دارالعلوم کراتشی:
آپ پرایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی تھی اوراوراس کے بعد جتنی مرتبہ آپ کے شوہرنے یہ الفاظ" آپ مجھ سے فارغ ہو " کہے ہیں ان سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ طلاق بائن کے ساتھ دوسری بائن ملحق نہیں ہوتی۔(کذا فی تبویب دارالعلوم کراچی 1594/53)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالرشید
29/ربیع الثانی1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


