03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کے لیے تعمیرکیے گئے  کمرے  کا خرچہ طلاق کے بعد   واپس لینا
85289طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

جب رشتہ  ہو رہا تھا تو لڑکی نے کہا کہ اس کا شوہر" گھر داماد "بنے گایعنی لڑکی اپنے والد کے ساتھ رہے گی، اس پر  لڑکا بھی راضی ہوا ،چنانچہ  لڑکی کے والد نے اپنے گھر میں سے کچھ جگہ  اپنی بیٹی کو دی اور لڑکے نے اپنے خرچے سے اس پلاٹ پر ایک کمرہ بنایا ،  کیا اس نے اس  تعمیر کے لئے اپنی جیب سے جو خرچہ کیاتھا ،اب وہ طلاق دینے کے بعد واپس لے سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شوہر نے تعمیر کا خرچہ اس  لڑکی کے کہنے پراس کے والد کی رضامندی سے ان کا  " گھر داماد "بننے کے لیے کیا تھا، اب طلاق دینے کے بعداگرچہ وہ ان کا "گھر داماد" نہیں رہا ،مگر  پلاٹ کے بغیر صرف اس تعمیر کا مالک وہی ہے،لہٰذا اب اسے یہ حق  تو نہیں کہ اس عمارت پر آنے والا خرچہ ان سے وصول کرے،مگر  اسے  گرا کراپنا  ملبہ  لے جا سکتا ہے ، البتہ بہتر یہ ہے کہ وہ لڑکی کے خاندان والوں کو مارکیٹ ریٹ پر اس کی خریداری کے لیے آمادہ کر کے  یہ  کمرہ انہیں فروخت کر دے۔

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 159):

(المادة 831) استعارة الأرض للبناء عليها ولغرس الأشجار صحيحة إلا أن للمعير أن يرجع على الإعارة في أي وقت أراد وأن يطلب قلع ذلك. أما إذا كانت الإعارة موقتة فيضمن المعير مقدار التفاوت الموجود بين قيمة الأبنية والأشجار مقلوعة حين قلعها وبين قيمتها مقلوعة في حالة بقائها إلى انقضاء المدة , مثلا إذا كانت قيمة الأبنية والأشجار مقلوعة في حالة قلعها في الحال اثني عشر دينارا وقيمتها على أن تبقى إلى انقضاء المدة عشرين دينارا وطلب المعير قلعها في الحال فيلزمه أداء ثمانية دنانير.

درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 243):

(وله) أي للمعير (أن يرجع) ؛ لأن الإعارة ليست بلازمة (ويكلف قلعهما) أي البناء والغرس؛ لأنه شاغل أرضه بملكه فيؤمر بالتفريغ إلا إذا شاء أن يأخذهما بقيمتهما إذا استضرت الأرض بالقلع فحينئذ يضمن له قيمتهما مقلوعين ويكونان له كي لا تتلف أرضه عليه ويستبد ذلك به؛ لأنه صاحب أصل، وإذا لم تستضر به لا يجوز الترك إلا باتفاقهما ولا يشترط الاتفاق في القلع بل أيهما طلبه أجيب .

محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

  دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

  30 /ربیع الثانی /1446ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب