03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشبوہ (مشتبہ) اجزاء پرمشتمل مصنوعات کی خریدوفروخت کاحکم
85284خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کھانے پینے کی  بعض مصنوعات جیسا کہ چاکلیٹ،  بسکٹ، ٹافی  وغیرہ ایسے اجزاء پر مشتمل ہوتی ہیں جن کا حرام یا حلال ہونا حتمی طور سے معلوم نہیں ہوتامثلاً اجزاء ترکیبی میں کوئی ایسی شے لکھی ہوتی ہے کہ جو جانور کے کسی جزء (گوشت ، ہڈی ، انڈا وغیرہ) سے بھی بنائی جاسکتی ہے اور اسی طرح سبزیوں اور نباتات سے بھی بنائی جاسکتی ہے ۔ 

چنانچہ اول شبہہ تو اس میں یہ ہوتا ہے کہ آیا کہ یہ شے کسی حیوانی جزء سے بنائی گئی ہے یا کسی غیر حیوانی ماخذ سے؟

اور اس میں دوسرا شبہہ یہ  کہ اگر یہ جانور سے ماخوذ ہو تو یہ جانور حلال بھی تھا یا نہیں؟ اور اگرحلال تھا تو مذبوحِ شرعی تھا یا نہیں ؟

اسی طرح بعض اجزاء جو برّی اور بحری دونوں طرح کے حیوانات سے اخذ کئے جا سکتے ہیں، مثلا:جیلاٹین جو بکرے، گائے، یا اسی طرح مچھلی سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے(اگرچہ اس کا غالب حصول برّی حیوانات سے ہی ہے)تو اس میں پہلا شبہہ تو یہ ہوگا کہ یہ جیلاٹین بری حیوان سے اخذ کردہ ہے یا نہیں؟ اس کے بعد دوسرا شبہہ یہ ہوگا کہ اگر برّی حیوان سے حاصل کردہ ہوتو وہ حیوان ذبح شرعی کے ساتھ حلال تھا یا نہیں؟

چند مشبوہ اجزاء ترکیبی، ان کے استعمال اور ان کے ماخذ کی تفصیل ذیل کے جدول میں ملاحظہ فرمائیں:

مشبوہ اجزاء کی چند مثالیں

ممکنہ ذرائع

استعمال

ای۔کوڈ

اجزاء ترکیبی

نمبر شمار

  1. سور اور
  2. دیگر جانوروں کی چربی،
  3.  پودوں کی چکناہٹ

گاڑھا کرنے کے لیے، جیلنگ ایجنٹ، فاسفیٹس، ایملسیفائر

E422

گلیسرول [Glycerol (Glycerin)]

1

E471

فیٹی ایسڈز کے مونو اور ڈائگلیسرائیڈز

 [Mono- and Diglycerides of Fatty Acids]

2

E470

فیٹی ایسڈز کے سوڈیم، پوٹاشیم اور کیلشیم نمکیات

[Salts of Fatty Acids (includes Sodium, Potassium, Calcium Salts of Fatty Acids)]

3

E472

مونو کے مختلف ایسڈز اور فیٹی ایسڈز کے ڈائگلیسرائیڈز

[Esters of Mono- and Diglycerides of Fatty Acids]

4

  1. سور  یا  دیگر جانوروں کی ہڈی اور کھال،
  2. مچھلی کے کانٹےاور جلد

E441

جیلاٹین [Gelatin]

5

  1. نباتاتی چکنائی،
  2.  سور اور
  3. دیگر جانوروں کی چربی

E473

فیٹی ایسڈ کے سوکروز ایسٹرز

[Sucrose Esters of Fatty Acids]

6

  1. انسانی بال،
  2.  مرغی اور بطخ کے پر

مرکبات جو آٹے کے امتزاج کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

E920

ایل سسٹین ہائیڈروکلورائیڈ

[L-Cysteine (and its hydrochloride)]

7

کچھ مزید اجزاء کی مثالیں

اس میں رینیٹ استعمال کیا جا سکتا ہے، جو  جانوروں کے معدے سے حاصل کیا جا سکتا ہےنیزرینٹ  بیکٹیریاکے ذریعےتیارکردہ بھی ہوسکتاہے جو کہ کثیر الاستعمال ہے۔

پنیر  پاؤڈر(Cheese Powder)

8

چھینےپاؤڈر(Whey Powder)

9

اس کے میڈیم/کلچر میں سوریا کسی غیر مذبوحہ جانور کے اجزاء ہو سکتے ہیں اور شراب سے ماخوذ شدہ  الکوحل سےبھی صنعتی عمل میں استعمال ہو سکتا ہے۔

خمیر(Yeast)

10

           

مندرجہ بالا یا ان جیسی نوعیتوں پر مشتمل اجزاء ترکیبی کا استعمال غذائی مصنوعات میں شائع ہے۔

اس قسم کی مصنوعات غیرمسلم ممالک(یورپ، امریکہ، چائنہ وغیرہ)  سے بھی درآمد کی  جاتی ہیں  اور مسلم ممالک (ترکی، ملائشیا،  دبئی وغیرہ)سے بھی درآمد کی جاتی ہیں۔

اس تفصیل کی روشنی میں درج ذیل سوالات ہیں:

  1. مذکورہ بالا یا ان جیسےاجزاء اگر کسی پروڈکٹ میں شامل ہوں اور وہ پروڈکٹ کافروں کے ملک میں تیارشدہ ہو تو کیا ایسی پروڈکٹ کو  خریدنا اور آگے بیچنا جائز ہے ،جبکہ اس پر حلال  سرٹیفکیشن موجود   نہ ہو ؟اگر حلال سرٹیفکیشن موجود ہو،لیکن ہمیں اس سرٹیفکیٹ کے جاری کرنے والے ادارے کے مستند ہونے کے بارے میں کوئی علم نہ ہو۔(جیسا کہ بہت سی مرتبہ ان اداروں کی معلومات انٹر نیٹ پر بھی دستیاب نہیں ہوتیں) تو ایسی سرٹیفکیشن پر اعتماد  کرتے ہوئے ان اشیاء کی خرید وفروخت  کی گنجائش ہوگی؟
  2. اگر ایسی اشیاء مسلمان کہلانے والے ممالک سے درآمد شدہ ہوں تو کیا حکم ہوگا؟مسلم ممالک کی درج ذیل عملی نوعیت کے اعتبار سےقسمیں ہیں:
    1. ایسے مسلمان ممالک جہاں غذاؤں کی تیاری اور ان کی امپورٹ میں حلال کی پابندی قانونی طور پر نافذ ہو اور اس پر عمل بھی نظر آتا ہو، مثلا: پاکستان اور سعودی عرب وغیرہ۔
    2. ایسے اسلامی ممالک جہاں پر غیر حلال اشیاء بھی تیار ہوتی ہوں اور ان پر قانونی پابندی نہ ہو۔ تاہم اس بات کا اہتمام ہو کہ اگر کسی چیز پر  ’’حلال “کی تصدیق کی جارہی ہے تو پھر واقعتا وہ اس کے مطابق بھی ہو، متعدد اسلامی ممالک اسی کیٹگری میں شمار کیے جا سکتے ہیں، مثلا: ترکی، ملائشیا وغیرہ۔
  3. اگر کوئی کھانے پینے کی چیزکسی غیر مسلم ملک میں بنی ہو اور اس میں مذکورہ بالا قسم کے اجزاء شامل ہوں لیکن اس پر (Suitable for vegetarian)  لکھا ہو تو ان کے کھانے پینے اور خرید و فروخت کا کیا حکم ہوگا غیر مسلم ممالک کی درج ذیل عملی نوعیت کے اعتبار سے:
    1. بعض ممالک میں food safety کے سخت قوانین کا نفاذ ہے جس کی وجہ سے پراڈکٹ پر لکھے ہوئے بیان میں غلط بیانی کا احتمال بہت کم ہوتا ہے۔
    2. بعض ممالک میں یہ صورتحال تسلی بخش نہیں بلکہ وہ کسٹمر یا امپورٹر کی ڈیمانڈ کے حساب سے اجزاء کو چھپادیتے ہیں یا ان کو ظاہر کر سکتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کافرملک سےدرآمدشدہ ایسی غذائی مصنوعات جن کے اجزاء جانور اورنباتات دونوں سے حاصل کئے جاتےہیں،لیکن حیوانی اجزاء شامل ہونے کاقوی امکان پایاجاتاہےجیسے جیلاٹن توایسی مصنوعات کی خریدوفروخت جائز نہیں ،اسی طرح اگراس پروڈکٹ کے اجزاء میں میٹ لکھاہواہے تب بھی اس کی خریدوفروخت جائزنہیں،جب تک اس گوشت کے حلال ہونے اورذبح کے عمل کی تصدیق کسی معتبرحلال ادارہ یاکسی دیانت دارمسلمان سے نہ ہوجائے۔

اگرکافرملک سےدرآمدشدہ پروڈکٹ کے اجزاء میں دونوں طرح (جانور اورنباتات)حاصل کئے جانے کاامکان ہو،لیکن غالب گمان کسی جانب نہ ہو تواس صورت میں اس کوخریدنے اورفروخت کی گنجائش ہوگی،لیکن احتیاط کاتقاضایہ ہے کہ کسی معتبرحلال ادارہ سےتصدیق کرواکراس کی خریدوفروخت کی جائے۔

2.اگرایسےمسلم ملک سے غذائی چیزیں درآمدکی جاتی ہیں،جہاں حلال اورحرام کاعمومی طورپرخیال رکھاجاتاہےتوایسےمسلم ملک سےغذائی اشیاء تحقیق اورتصدیق کیے بغیربھی خریدناجائزہے،حلال اورحرام کی تمییزکاعمومی رجحان اورمسلمان ملک  کوحلت کے لئے قرینہ سمجھاجائے گا،اسی طرح اگرغذائی چیزمسلمان ملک سے درآمدکی گئی ہے لیکن اس میں شامل اجزاء کاعلم نہیں توظاہری حالت کااعتبارکرتے ہوئے حلال سمجھاجائے،الایہ کہ کسی مستندذریعہ سے اس میں حرام اجزاء کے شامل ہونے کاعلم ہوجائے۔

3.اگر Suitable for vegetarian لکھاہے توااس کامطلب ہوتاہے اس میں حیوانی اجزاء شامل نہیں،اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ اس میں حرام چیزشامل نہیں،کیونکہ حرام ہوناصرف گوشت کے ساتھ خاص نہیں،دیگراشیاء بھی حرام ہوسکتی ہیں، اس صورت کااصولی حکم یہ ہے کہ اس پروڈکٹ کوحلال سمجھاجائے،کیونکہ گوشت کے علاوہ باقی چیزوں میں اصل حلت ہے،البتہ اگر کسی قوی ذیعہ سے اس میں حرام اشیاء کےشامل ہونے کاعلم ہوگیاتوپھراس کوحرام سمجھاجائےگا۔

حوالہ جات

وفی الفتاوى الهندية:) ۲۲ / ۴۴۲(:

رجل اشترى من التاجر شيئا هل يلزمه السؤال أنه حلال أم حرام؟ قالوا: ينظر إن كان في بلد وزمان كان الغالب فيه هو الحلال في أسواقهم ليس على المشتري أن يسأل أنه حلال أم حرام ويبنى الحكم على الظاهر ، وإن كان الغالب هو الحرام أو كان البائع رجلا يبيع الحلال والحرام يحتاط ويسأل أنه حلال أم حرام .

فی الفتاوى الهندية) ۴۲ / ۳۸۰(:

خبر الواحد يقبل في الديانات كالحل والحرمة والطهارة والنجاسة إذا كان مسلما عدلا ذكرا أو أنثى حرا أو عبدا محدودا أو لا ، ولا يشترط لفظ الشهادة والعدد ، كذا في الوجيز للكردري ، وهكذا في محيط السرخسي والهداية ، ولا يقبل قول الكافر في الديانات إلا إذا كان قبول قول الكافر في المعاملات يتضمن قوله في الديانات ، فحينئذ تدخل الديانات في ضمن المعاملات فيقبل قوله فيها ضرورة هكذا في التبيين .

فی الفتاوى الهندية) ۴۲ / ۳۸۰(:

ولا يقبل قول الكافر في الديانات إلا إذا كان قبول قول الكافر في المعاملات يتضمن قوله في الديانات ، فحينئذ تدخل الديانات في ضمن المعاملات فيقبل قوله فيها ضرورة هكذا في التبيين .

وفی بحوث فی  قضایا فقہیة معاصرة)١/۳۴۵(:

وقدثبت بحدیث عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ أن الأصل فی لحوم الحیوان المنع حتی ثبت خلافہ،ولذلک منع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من الصید الذی خالط فیہ کلاب غیرکلاب الصائد۔۔۔۔ وبھذا یثبت أنہ إذااجتمع فی حیوان وجوہ مبیحة ووجوة محرمة،فالترجیح للوجوہ المحرمة،وھذاأیضایدل علی أن الأصل فی اللحوم المنع،حتی یثبت یقیناأنہ حلال،وھذاأصل ذکرہ غیرواحد من الفقہاء۔

وکذلک الحکم فی اللحوم المستوردة،فإنھاتتأتی فیھا جمیع الوجوہ الأربعة المذکورة،أما الشھادات المکتوبة علی العلب أو علی الکرتونات أنھامذبوحة علی الطریقة الإسلامیة،فقد ثبت بکثیر من البیانات أنھاشھادات لایوثق بھا۔

الفقہ الاسلامی وادلتہ(5265/7):

االمواد الغذائية التي يدخل شحم الخنزير في تركيبها دون استحالة عينه مثل بعض الأجبان وبعض أنواع الزيت والدهن والسمن والزبد وبعض أنواع البسكويت والشوكولاته والآيس كريم، هي محرمة ولايحل أكلها مطلقا، اعتبارا لإجماع أهل العلم على نجاسة شحم الخنزير وعدم حل أكله، ولانتفاء الاضطرار إلى تناول هذه المواد.

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

     ۱/جمادی الاولی۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب