03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حادثے کی صورت میں موٹرسائیکل سواروں میں سے ضمانت کون دے گا؟
85270غصب اورضمان”Liability” کے مسائل متفرّق مسائل

سوال

چند دوست موٹر سائکل پر بحریہ ٹاؤن گئے تھے،وہاں سے واپسی پر ریس لگارہے تھے ،دس منٹ ایک دوست موٹر سائیکل چلارہا تھا اور دس منٹ دوسرا دوست،مطلب باری باری دونوں موٹر سائیکل چلارہے تھے،اچانک ایک گاڑی سے ٹکرا گئے،اس گاڑی میں ایک بچہ تھا ،جس کا گرنے سے انتقال ہوگیا،بچے کے گھر والوں نے ان لڑکوں کو معاف کردیا ،مگر گاڑی کا جونقصان ہوا ہے اس کا مطالبہ کررہے ہیں،،اب سوال یہ پوچھنا ہے کہ گاڑی کی مرمت کا خرچہ جو لڑکا موٹر سائیکل چلارہاتھا وہ دے گا یا دونوں مل کر دیں گے؟ جزاکم اللہ خیرا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر واقعتا بائیک والے کی غلطی ہوتو ضمان لازم ہوتاہے،اوردوران سفر چونکہ اختیار مکمل طور پر موٹر سائیکل چلانے والے کے پاس ہوتاہے، اس لیے ضمان کی ادائیگی بھی اس کے اوپر لازم ہوگی۔

حوالہ جات

تکملة فتح الملهم: (523/2):

"ثم لم یذکر الفقهاء حکم السیارة لعدم وجودها في عصرهم. والظاهر أن سائق السیارة ضامن لما أتلفته في الطریق ، سواء أتلفته من القدام أو من الخلف. و وجه الفرق بینها و بین الدابة علی قول الحنفیة أن الدابة متحرکة بإرادتها، فلاتنسب نفحتها إلی راکبها، بخلاف السیارة، فإنها لاتتحرك بإرادتها ، فتنسب جمیع حرکاتها إلی سائقها، فیضمن جمیع ذلك، والله سبحانه و تعالیٰ أعلم".۔

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

01/ جمادی الاولی 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب