03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیاشریعت میں شوہر اور بیوی کے درمیان عصمت دری کا کوئی تصور موجود ہے؟
85328نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

قرآن و سنت کے مطابق، کیا نکاح/شادی کے رشتے کے تحت مسلمان شوہر اور بیوی کے درمیان عصمت دری کا کوئی تصور موجود ہے؟ یا کیا ایک مسلمان عورت برسوں بعد، بدعنوان 12ویں گریڈ کے ذہنی طور پر بیمار کینیڈین پولیس کانسٹیبلوں کو استعمال کرتے ہوئے، اپنے ہی مسلمان شوہر پر نکاح کے رشتے کے تحت ریپ کا الزام لگا سکتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 شریعت میں میاں بیوی کے درمیان زنا بالجبر کا کوئی تصور نہیں ہے۔ شریعت میں زنا کی تعریف یہ ہے کہ غیر منکوحہ سے جنسی تعلق قائم کیا جائے؛ منکوحہ (بیوی) سے جنسی تعلق قائم کرنا، چاہے اس کی رضامندی کے بغیر ہو، زنا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ لہذا عورت اپنے شوہر پر زنا بالجبر کا الزام نہیں لگا سکتی۔ شریعت عورت کو اس بات کا پابند کرتی ہے کہ جب شوہر اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کے لیے بیوی کو اپنے پاس بلائے تو بیوی اسے انکار نہ کرے۔ حتیٰ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر عورت تندور پر روٹی بھی پکا رہی ہو اور اس وقت شوہر اسے (اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کے لیے) بلائے تو بیوی کے لیے شرعاً حکم ہے کہ وہ شوہر کے پاس جائے۔‘‘ نیز، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’فرشتے اس عورت پر لعنت بھیجتے ہیں جس کا شوہر اسے (اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے) بلائے اور وہ اسے جواب نہ دے۔‘‘

یہ بات سمجھنی چاہیے کہ شریعت نے نکاح کو مرد اور عورت کے لیے اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کا جائز راستہ بنایا ہے تاکہ معاشرے سے بے حیائی اور فحاشی ختم ہوجائے اور ایک پاکیزہ، پاکدامن معاشرہ وجود میں آئے۔ اس طرح کی قانون سازی جس میں بیوی کو شوہر کے خلاف زنا بالجبر کا کیس فائل کرنے کا اختیار دے دیا جائے، نکاح کے مقصد کو فوت کر دے گی اور معاشرے میں بے حیائی اور فحاشی کو جنم دے گی جبکہ پاکدامنی ختم ہوجائے گی۔

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے شوہر کو اپنی بیوی سے ہمبستری کرنے کاجہاں  پورا پورا حق دیا ہے،وہاں اس کے ساتھ ساتھ شریعت نے شوہر کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی بیوی کی صحت اور رغبت کا لحاظ بھی رکھے اور اس کی استطاعت اور طاقت سے زیادہ اس کو جماع کرنے پر مجبور نہ کرے،تاہم اگروہ بیوی کی اجازت کے بغیربھی اس کےساتھ جماع کرلے تو اسے عصمت  دری اورزنانہیں کہاجائے گا۔

حوالہ جات

الزنا هو الوطء في فرج المرأة العاري عن نكاح أو ملك أو شبهتهما ويتجاوز الختان الختان هذا هو الزنا الموجب للحد وما سواه ليس بزنا۔ ( الجوهرة النيرۃ، کتاب الحدود، ج:2، ص:147)

وفی مشکاۃ المصابیح :

"وعن طلق بن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا الرجل دعا زوجته لحاجته فلتأته وإن كانت على التنور» . رواه الترمذي."( کتاب النکاح، باب عشرۃ النساء، ج: 5، ص: 2126، ط:  دارا لفکر)

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح» . متفق عليه. وفي رواية لهما قال: «والذي نفسي بيده ما من رجل يدعو امرأته إلى فراشه فتأبى عليه إلا كان الذي في السماء ساخطا عليها حتى يرضى عنها."(کتاب النکاح، باب عشرۃ النساء، ج: 5، ص: 2121، ط: دارا لفکر)

وفی الدر المختار مع رد المحتار:

"ولو تضررت من كثرة جماعه لم تجز الزيادة على قدر طاقتها، والرأي في تعيين المقدار للقاضي بما يظن

طاقتها نهر بحثا.

وفي الرد تحته:

 (قوله نهر بحثا) حيث قال: ومقتضى النظر أنه لا يجوز له أن يزيد على قدر طاقتها، أما تعيين المقدار فلم أقف عليه لأئمتنا، نعم في كتب المالكية خلاف فقيل يقضي عليهما بأربع في الليل وأربع في النهار، وقيل بأربع فيهما. وعن أنس بن مالك عشر مرات فيهما. وفي دقائق ابن فرحون باثني عشر مرة.

وعندي أن الرأي فيه للقاضي فيقضي بما يغلب على ظنه أنها تطيقه اهـ. قال الحموي عقبه: وأقول ينبغي أن يسألها القاضي عما تطيق ويكون القول لهما بيمينها لأنه لا يعلم إلا منها وهذا طبق القواعد، وأما كونه منوطا بظن القاضي فهو إن لم يكن صحيحا فبعيد. هذا، وقد صرح ابن مجد أن في تأسيس النظائر وغيره أنه إذا لم يوجد نص في حكم من كتب أصحابنا يرجع إلى مذهب مالك وأقول: لم أر حكم ما لو تضررت من عظم آلته بغلظ أو طول وهي واقعة الفتوى اهـ. أقول: ما نقله عن ابن مجد غير مشهور، ولم أر من ذكره غيره، نعم ذكر في الدرر المنتقى في باب الرجعة عن القهستاني عن ديباجة المصفى أن بعض أصحابنا مال إلى أقواله ضرورة. هذا، وقد صرحوا عندنا بأن الزوجة إذا كانت صغيرة لا تطيق الوطء لا تسلم إلى الزوج حتى تطيقه. والصحيح أنه غير مقدر بالسن بل يفوض إلى القاضي بالنظر إليها من سمن أو هزال. وقدمنا عن التتارخانية أن البالغة إذا كانت لا تحتمل لا يؤمر بدفعها إلى الزوج أيضا، فقوله لا تحتمل يشمل ما لو كان لضعفها أو هزالها أو لكبر آلته. وفي الأشباه من أحكام غيبوبة الحشفة فيما يحرم على الزوج وطء زوجته مع بقاء النكاح قال: وفيما إذا كانت لا تحتمله لصغر أو مرض أو سمنة. اهـ. وربما يفهم من سمنه عظم آلته. وحرر الشرنبلالي في شرحه على الوهبانية أنه لو جامع زوجته فماتت أو صارت مفضاة، فإن كانت صغيرة أو مكرهة أو لا تطيق تلزمه الدية اتفاقا. فعلم من هذا كله أنه لا يحل له وطؤها بما يؤدي إلى إضرارها فيقتصر على ما تطيق منه عددا بنظر القاضي أو إخبار النساء، وإن لم يعلم بذلك فبقولها وكذا في غلظ الآلة، ويؤمر في طولها بإدخال قدر ما تطيقه منها أو بقدر آلة الرجل معتدل الخلقة، والله تعالى أعلم.(کتاب النکاح، ج:3، ص:203، 204، ط:سعید)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

13/8/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب