03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر مسلم ملک میں طلاق، خلع، اور فِسخِ نکاح کا عمل کیسے کام کرے گا؟
85326نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

کینیڈا جیسے کسی بھی غیر مسلم ملک میں طلاق، خلع، اور فسخِ نکاح کا عمل کیسے کام کرے گا؟ کون سی باڈی کو مناسب عمل، کاغذی کارروائی، خلع، یا طلاق کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی اجازت ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق کا اختیار شریعت نے شوہر کو دیا ہے؛ صرف شوہر ہی اپنا اختیار استعمال کرکے طلاق دے سکتا ہے۔ خلع میاں بیوی کی باہمی رضامندی کا معاملہ ہے، جس کا طریقۂ کار یہ ہے کہ بیوی شوہر سے مہر یا کسی مال کے عوض خلع دینے کا مطالبہ کرتی ہے اور شوہر جواب میں مہر یا مال کے عوض خلع دے دیتا ہے، جس سے بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے۔ لہذا جب خلع یا طلاق دینے کا اختیار شوہر کو ہے، کسی ادارے کو نہیں، تو مسلم یا غیر مسلم ممالک میں اس کا طریقۂ کار ایک جیسا ہی ہوگا: جب شوہر اپنی آزاد مرضی سے، بغیر کسی جبر و اکراہ کے، بیوی کو طلاق یا خلع دے گا تو طلاق یا خلع واقع ہوجائے گی۔ البتہ، شوہر کے طلاق یا خلع دینے کے بعد اس ملک کی رسمی کارروائی کو مکمل کرنے کے لیے طلاق نامہ یا اس جیسی کوئی قانونی دستاویز کسی مجاز ادارے سے بنوانا جائز ہوگا، چاہے ملک مسلم ہو یا غیر مسلم، اور چاہے طلاق نامہ یا خلع نامہ بنانے والا مسلمان ہو یا غیر مسلم؛ کیوں کہ طلاق یا خلع شوہر کے دینے سے ہوچکی ہے، اور اس کے بعد طلاق یا خلع نامہ بنوانا صرف ایک رسمی کارروائی ہے۔

فسخ نکاح ایک قانونی معاملہ ہے، اور چند مخصوص صورتوں (مثلاً: شوہر کا نامرد ہونا، شوہر کا مفقود ہونا، شوہر کا غائب ہونا، شوہر کا متعنت ہونا (یعنی نان نفقہ نہ دینا وغیرہ)، یا شوہر کا مجنون ہونا) میں مسلمان قاضی کو اختیار ہے کہ وہ بیوی کے مطالبے پر مخصوص شرائط اور طریقۂ کار کے مطابق میاں بیوی کے درمیان نکاح فسخ کردے۔ اگر کسی غیر مسلم ملک میں مسلمان قاضی موجود نہ ہو تو مسلمانوں کی ایک جماعت (کم از کم تین افراد) شرائط کا خیال رکھتے ہوئے نکاح فسخ کرسکتی ہے۔ غیر مسلم قاضی یا کسی بھی غیر مسلم حکومت یا عہدے دار کا فسخ نکاح کے معاملے میں فیصلہ شرعاً معتبر نہیں ہے۔

حوالہ جات

المعجم الكبير للطبراني (17/ 179) :

عن عصمة قال: جاء مملوك إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، إن مولاي زوجني وهو يريد أن يفرق بيني وبين امرأتي، قال: فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر فقال: «يا أيها الناس، إنما الطلاق بيد من أخذ الساق»

وفی المختارمع الرد:

"وأهله زوج عاقل بالغ مستيقظ» (قوله: وأهله زوج عاقل إلخ) احترز بالزوج عن سيد العبد ووالده الصغير، وبالعاقل ولو حكما عن المجنون والمعتوه والمدهوش والمبرسم والمغمى عليه، بخلاف السكران مضطرا أو مكرها، وبالبالغ عن الصبي ولو مراهقا، وبالمستيقظ عن النائم. وأفاد أنه لا يشترط كونه مسلما صحيحا طائعا عامدا فيقع طلاق العبد والسكران بسبب محظور والكافر والمريض والمكره والهازل والمخطئ كما سيأتي."(کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 230، ط: سعید)

وفی الشامیة :

"وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول"(کتاب الطلاق ، باب الخع جلد ۳ ص : ۴۴۱ ط : دار الفکر)

في الحيلۃ الناجزۃ (ص 171):

 أما الحكام أو القضاة الذين يمتلكون سلطة اتخاذ القرارات في مثل هذه القضايا بتعيين من الحكومة، فإذا كانوا مسلمين وقرروا وفق القواعد الشرعية، فإن حكمهم يعادل قضاء القاضي. أما إذا كانوا غير مسلمين، فإن قرارهم يعتبر لاغياً، وحتى لو كانت لجنة من عدة قضاة أو أعضاء تصدر الحكم، فيشترط أن يكون جميع الأعضاء مسلمين، فإذا كان من بينهم قاضٍ أو عضو غير مسلم، :فإن الحكم غير معتبر شرعاً.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

13/8/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب