| 85332 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ طلاق، خلع، یا فِسخِ نکاح کے بعد کیا عورت اپنے سابقہ شوہر کا نام کسی بھی وجہ سے استعمال کر سکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب میاں بیوی کا رشتہ نکاح نہیں رہا تو دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن گئے اور رشتہ زوجیت کی وجہ سے
اگر شرعاًکچھ سہولیات میاں بیوی میں سے کسی کو حاصل تھے تو رشتہ زوجیت کے ختم ہونے کے بعدشوہر کی ازدواجی حیثیت کی بناء پر ان کا حصول جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے، اس لیے طلاق کے بعدمطلقہ کو اپنے مقاصد کے لیے شوہر کا نام بحیثیتِ ازدواجی تعلقات کے استعمال کرنا جائز نہیں۔
حوالہ جات
مسند أحمد مخرجا (36/ 504):
عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب.
شرح مشكل الآثار (3/ 367):
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من غشنا فليس منا " قال أبو جعفر: فدخل ما في هذا الحديث في معنى ما رويناه قبله.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
13/8/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


