| 85322 | جائز و ناجائزامور کا بیان | علاج کابیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
کچھ عرصہ پہلے آپ کو ایک سوال بھیجا گیا تھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ایکمریضہکو علاج کے لیے اسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں انتظامیہ نے اسے گردے میں پتھری کا بہانہ بنا کر آپریشن کے لیے داخل کیا۔ اسپتال نے ایک ایسے ڈاکٹر کے نام پرمریضہ کا علاج کیا جو فوت ہوچکے تھے، جبکہ اصل آپریشن کسی نااہل ڈاکٹر نے کیا جس کے پاس آپریشن کی کوئی سند نہ تھی۔ آپریشن کے بعدمریضہ کو مسلسل تکلیف ہوئی، مگر اسپتال میں رات کے وقت کوئی ایم بی بی ایس ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔مریضہ کو مسلسل نشہ کے انجکشن دیے گئے، جس کے باوجود اس کی حالت بگڑتی گئی اور آخرکار اس کی موت واقع ہوگئی۔ انتقال کے وقت بھی کوئی ڈاکٹر موجود نہ تھا، اور ڈسپنسر نے موت کی تصدیق کی۔ شرعی طور پر اس صورتحال میں انتظامیہ اور ڈاکٹروں کی غفلت پر کیا حکم ہوگا، اور کیا ان پر قانونی یا شرعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟
اس کا آپ لوگوں نے یہ جواب دیا تھا کہ: "سوال میں ذکر کردہ صورت اگر درست اور واقعہ کے مطابق ہے تو صورت مسئولہ میں اگر تفتیش کے بعد اسپتال انتظامیہ کی طرف سے دھوکہ دیہی یا مریض کی دیکھ بھال میں کوتاہی ثابت ہوجاتی ہے، جیسے کہ سائل نے لکھا ہے تو شرعاً متعلقہ اسپتال کے ڈاکٹرز اور انتظامیہ پر دیت کی صورت میں ضمان آئے گا۔ قانونی حکم جاننے کے لیے ماہرین قانون وکلاء سے رابطہ کیا جائے۔"
متعلقہ فورم سے رجوع کرنے پر درج ذیل رپورٹ ہمیں ملی:
رپورٹ مع لیٹر
شکایت: حفیظ محمد شاہد امین بمقابلہ ایڈمنسٹریٹر علی میڈیکل کمپلیکس، ملتان
شکایت کنندہ:
حفیظ محمد شاہد امین ولد محمد امین
پوسٹ آفس جلا عنیان، قریب کمھار والی مسجد، تحصیل دنیا پور، ضلع لودھراں
فون نمبر: 0300-5046703، 0302-8295368
کمیشن نے آپ کی مذکورہ بالا شکایت کے حوالے سے "یورولوجی" کے ماہر کی رائے حاصل کی ہے، جو آپ کی معلومات کے لیے بھیجی جا رہی ہے۔ (کاپی منسلک)
اگر آپ مذکورہ ماہر کی رائے سے مطمئن نہیں ہیں، تو آپ کے پاس درج ذیل اختیارات ہیں:
- آپ کمیشن کو لکھ کر سوالات پیش کر سکتے ہیں تاکہ اسی ماہر سے وضاحت حاصل کی جا سکے جس کی رائے حاصل کی گئی تھی، اور یہ صرف پہلی رائے کی وضاحت کے لیے ہونا چاہیے۔ یہ سوالات صرف ایک بار پیش کیے جا سکتے ہیں۔
- یا آپ کمیشن سے درخواست کر سکتے ہیں کہ معاملہ دوسرے ماہر (ماہرین) کو دوسری رائے کے لیے پیش کیا جائے۔ اس صورت میں، آپ کو متعلقہ شعبے کے ماہرین کی ایک فہرست فراہم کی جائے گی، جس میں ہر ماہر کی قابلیت اور تجربے کی تفصیلات ہوں گی (محرمانہ ہونے کی وجہ سے ماہرین کے نام ظاہر نہیں کیے جائیں گے)، تاکہ آپ اپنی پسند کے ماہر کا انتخاب کر سکیں۔ مطلوبہ دوسری رائے کے لیے آپ کو اپنے منتخب کردہ ماہر کی قابلیت اور تجربے کی بنیاد پر فیس ادا کرنی ہوگی۔ اس سلسلے میں فیس ہر ماہر کے لیے 10,000 روپے ہے۔
براہ کرم نوٹ کریں کہ آپ صرف ایک اختیار کا انتخاب کر سکتے ہیں، یعنی سوالات کے ذریعے پہلے ماہر سے وضاحت حاصل کرنے کے بعد، آپ کو دوسری رائے طلب کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
آپ کا جواب اس دفتر میں 15-10-2024 تک پہنچ جانا چاہیے۔
اگر آپ مقررہ وقت کے اندر اپنا جواب جمع کرانے میں ناکام رہتے ہیں تو یہ فرض کیا جائے گا کہ آپ مذکورہ ماہر کی رائے سے متفق ہیں اور آپ کے پاس اس کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔ براہ کرم یہ بھی نوٹ کریں کہ یہ کمیشن کا حتمی فیصلہ نہیں ہے اور کمیشن مذکورہ ماہر کی رائے سے متفق ہو سکتا ہے یا نہیں۔
ماہر یورولوجسٹ کی جانب سے دی گئی رائے
شکایت کنندہ نے اسپتال اور سرجیکل ٹیم کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ اسپتال کا انتظام ایک شخص، بشیر، کے ہاتھ میں ہے جس نے اپنی قابلیت کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر حنیف عارف اور ڈاکٹر فواد حنیف کا لیٹر پیڈ استعمال کیا جا رہا ہے، جو کہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔ پری آپریشن سی بی سی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مریضہ سپسیس کا شکار تھی۔ ضروری اور تجویز کردہ طریقہ کار پی سی این تھا۔ ڈاکٹر تنویر کی جانب سے دی گئی وضاحت کو انتظامی منصوبے میں تبدیلی کی وجہ کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ پیتھالوجسٹ نے واضح طور پر اسپتال کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔ ڈاکٹر تنویر کو صرف اس بیان کی بنیاد پر پوسٹ آپریٹو دیکھ بھال کی ذمہ داری سے مستثنیٰ نہیں کیا جا سکتا کہ مریض کی دیکھ بھال کرنے والے ڈاکٹر پروفیسر ڈاکٹر حنیف عارف کے تربیت یافتہ ہیں۔ اسپتال کے عملے، بشیر، اور کلینیکل ڈائریکٹر، اس صحت کی سہولت پر غیر مجاز مشق کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر کازم اور اس اسپتال میں کام کرنے والے دیگر ڈاکٹروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ غیر معیاری شخص، بشیر، سے رابطہ کرنے سے اجتناب کریں۔
ماہر سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے جوابات:
- سوال: آپ کی رائے میں مریض کے علاج کے دوران کوئی طبی لاپرواہی کا عنصر موجود ہے؟
- جواب: ہاں، اعتدال۔
- سوال: آپ کی رائے میں علاج کرنے والے ڈاکٹر (ڈاکٹروں) یا ایچ سی ای کی جانب سے کوئی غلط طریقہ کار کا عنصر موجود ہے؟
جواب: ہاں، شدید۔ - سوال: آپ کی رائے میں ہیلتھ کیئر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کوئی غلط انتظامیہ کا عنصر موجود ہے؟
- جواب: ہاں، شدید۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ اس رپورٹ کے مطابق، اسپتال کی انتظامیہ اور ڈاکٹروں کی غفلت کی وجہ سے ایک مریضہکی موت واقع ہوئی ہے۔ کمیشن نے لاہور سے ماہرین سے رائے لے کر دونوں فریقین یعنی اسپتال انتظامیہ اورمریضہکے لواحقین سے تفتیش کے بعد یہ رپورٹ تیار کی ہے، جس کا ترجمہ اوپر درج کیا گیا ہے۔ گزارش یہ ہے کہ اس رپورٹ کا مطالعہ کرکے شرعی طور پر درج ذیل امور پر رہنمائی فرمائیں:
﴿١﴾۔ کیا اس صورت میں ڈاکٹروں اور اسپتال انتظامیہ پر جرم ثابت ہونے کی صورت میں ان کی کیا شرعی سزا ہوگی؟
﴿۲﴾مریضہکی موت کی وجہ سے شرعی طور پر کتنی دیت واجب ہوگی؟
براہ کرم اس سوال پر دارالافتاء سے تفصیلی فتویٰ فراہم فرمائیں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کے اصل سوال اور لف کردہ رپورٹ کا مطالعہ کیا گیا۔ اگر کمیشن اس ماہر یورولوجسٹ کی جانب سے دی گئی رپورٹ سے اتفاق کرلیتی ہے تو شرعاً متعلقہ اسپتال کے ڈاکٹرز اور انتظامیہ پر جرم ثابت سمجھا جائے گا اور ان پر بطور سزا دیت واجب ہوگی۔
دیت کی مقدار چاندی سے 30.618 (تیس کلو اور چھ سو اٹھارہ) گرام چاندی یا اس کے برابر قیمت ہے۔ اگر اونٹوں سے ادا کرنی ہو تو 100 اونٹ ہیں، اور اگر سونے سے ادائیگی کرنی ہو تو 4374 گرام سونا یا اس کے برابر قیمت ہے۔مریضہ کے ورثاء اپنی خوشی سے دیت معاف کرنا چاہیں تو ایسا بھی کرسکتے ہیں، اور اگر دیت کی مقدار سے کم پر صلح کرنا چاہیں تو ایسا بھی کرسکتے ہیں۔ دیت کے علاوہ، مذکورہ قتل میں قاتل (آپریشن کرنے والے ڈاکٹر) پر کفارہ اور احتیاط نہ کرنے کے گناہ سے توبہ بھی لازم ہوگی۔ کفارے کی ادائیگی کے لیے قرآن کریم میں دو چیزیں وارد ہوئی ہیں: مومن غلام آزاد کرنا، اور اگر اس پر قدرت نہ ہو تو دو مہینے لگاتار روزے رکھنا۔ آج کل چونکہ غلام آزاد کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے، اس لیے دو ماہ مسلسل روزے رکھنا ہی اس کا کفارہ ہے۔ کھانے کا ذکر اس کفارے میں نہیں ہے، لہٰذا کھانا کھلانے سے کفارہ قتل ادا نہیں ہوگا۔
خلاصہ یہ ہے کہ مسئولہ صورت میں آپریشن کرنے والے ڈاکٹر پر ضمان یعنی پوری دیت آئے گی، جو اس کی طرف سے اس کا عاقلہ ادا کرے گی۔ عاقلہ سے مراد وہ جماعت، تنظیم، یا کمیونٹی ہے جس کے ساتھ اس ڈاکٹر کا تناصر (یعنی باہمی تعاون) کا تعلق ہے، جو کہ اس اسپتال کے تمام ڈاکٹر اور انتظامیہ ہیں۔ یہ دیت تین سال میں ادا کی جائے گی۔
حوالہ جات
المستدرك على الصحيحين للحاكم (4/ 236):
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من تطبب ولم يعرف منه طب فهو ضامن» هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه "(وکذا فی سنن أبي داؤد، کتاب الدیات / باب فیمن تطبب بغیر علم ۲؍۶۳۰ رقم: ۴۵۸۶، سنن النسائي رقم: ۴۸۴۰، سنن ابن ماجۃ رقم: ۳۴۶۶، مشکاۃ المصابیح، کتاب القصاص / باب الدیات ۳۰۴)
الطب النبوي لأبي نعيم الأصفهاني (1/ 192) :
عن عمرو بن شعیب عَن أبيه، عَن جَدِّه،، قال: قال رسول الله صَلَّى الله عَليْهِ وَسلَّم: من تطبب ولم يعلم منه طب قبل ذلك فهو ضامن.
وفی معالم السنن للخطابي:
لا أعلمُ خلافاً في المعالج إذا تعدّى فتلِف المريضَ كان ضامناً والمتعاطي علماً أو عملاً لا يعرفه متعدّي، فإذا تولّد مِن فعلِه التلف ضَمِن الديةَ وسقط عنه القودُ؛ لأنّه لا يستبدُّ بذلك دون إذن المريض، وجنايةُ الطبيب في قول عامّة الفُقهاء على عاقِلته".(كتاب الديات، ومن باب فيمن تطبب ولا يعلم منه طب، 4/39، ط: المطبعة العلمية – حلب)
الطب النبوي لأبي نعيم الأصفهاني (1/ 199) :
عَن عَمْرو بن شعيب، عَن أبيه، عَن جَدِّه، قال: قال رسول الله صَلَّى الله عَليْهِ وَسلَّم: من تطبب ولم يكن بالطب معروفا فأصاب نفسا فما دونها فهو ضامن.
حاشية السندي على سنن ابن ماجه (2/ 348) :
قوله: (من تطبب) أي: تكلف في الطب فهو ضامن لما تلف بفعله قال الموفق إن من تعاطى فعل الطب ولم يتقدم له بذلك سابقة تجربة فتلف فهو ضامن.
شرح سنن ابن ماجه للسيوطي وغيره (ص: 248) :
من تطبب وَلم يعلم مِنْهُ طب قَالَ فِي الدّرّ قطع حجام من عينه وَكَانَ غير حاذق فعميت فَعَلَيهِ نصف الدِّيَة اشباه (إنْجَاح)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (6/ 2293) :
(وعن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم) وفي نسخة: عن رسول الله (صلى الله عليه وسلم قال: (من تطبب) : بتشديد الموحدة الأولى أي تعاطى علم الطب وعالج مريضا (ولم يعلم منه طب) : أي معالجة صحيحة غالبة على الخطأ فأخطأ في طبه وأتلف شيئا من المريض (فهو ضامن) : قال بعض علمائنا من الشرح: لأنه تولد من فعله الهلاك وهو متعد فيه، إذ لا يعرف ذلك فتكون جنايته مضمونة على عاقلته. وقال ابن الملك قوله: لم يعلم منه طب أي لم يكن مشهورا به فمات المريض من فعله، فهو ضامن أي تضمن عاقلته الدية اتفاقا ولا قود عليه، لأنه لا يستبد بذلك دون إذن المريض فيكون حكمه حكم الخطأ. وقال الخطابي: لا أعلم خلافا في أن المعالج إذا تعدى فتلف المريض كان ضامنا. وجناية الطبيب عند عامة الفقهاء على العاقلة. (رواه أبو داود والنسائي) وكذا ابن ماجه
بهجة قلوب الأبرار وقرة عيون الأخيار ط الوزارة (ص: 117) :
الحديث الرابع والخمسون عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «مَنْ تَطَبَّبَ وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ، فَهُوَ ضَامِنٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.هذا الحديث يدل بلفظه وفحواه على: أنه لا يحل لأحد أن يتعاطى صناعة من الصناعات وهو لا يحسنها، سواء كان طبا أو غيره، وأن من تجرأ على ذلك، فهو آثم. وما ترتب على عمله من تلف نفس أو عضو أو نحوهما، فهو ضامن له، وما أخذه من المال في مقابلة تلك الصناعة التي لا يحسنها، فهو مردود على باذله ; لأنه لم يبذله إلا بتغريره وإيهامه أنه يحسن، وهو لا يحسن، فيدخل في الغش، و «من غشنا فليس منا» . ومثل هذا البناء والنجار والحداد والخراز والنساج ونحوهم ممن نصب نفسه لذلك، موهما أنه يحسن الصنعة، وهو كاذب.ومفهوم الحديث: أن الطبيب الحاذق ونحوه إذا باشر ولم تجن يده، وترتب على ذلك تلف، فليس بضامن؛ لأنه مأذون فيه من المكلف أو وليه. فكل ما ترتب على المأذون فيه، فهو غير مضمون، وما ترتب على غير ذلك المأذون فيه، فإنه مضمون.
عون المعبود وحاشية ابن القيم (12/ 215) :
(مَنْ تَطَبَّبَ) بِتَشْدِيدِ الْمُوَحَّدَةِ الْأُولَى أَيْ تَعَاطَى عِلْمَ الطِّبِّ وَعَالَجَ مَرِيضًا (وَلَا يُعْلَمُ مِنْهُ طِبٌّ) أَيْ مُعَالَجَةٌ صَحِيحَةٌ غَالِبَةٌ عَلَى الْخَطَأِ فَأَخْطَأَ فِي طِبِّهِ وَأَتْلَفَ شَيْئًا مِنَ الْمَرِيضِ (فَهُوَ ضَامِنٌ) لِأَنَّهُ تَوَلَّدَ مِنْ فِعْلِهِ الْهَلَاكُ وَهُوَ مُتَعَدٍّ فِيهِ إِذْ لَا يَعْرِفُ ذَلِكَ فَتَكُونُ جِنَايَتُهُ مَضْمُونَةً عَلَى عَاقِلَتِهِ قَالَ الْخَطَّابِيُّ لَا أَعْلَمُ خِلَافًا فِي أَنَّ الْمُعَالِجَ إِذَا تَعَدَّى فَتَلِفَ الْمَرِيضُ كَانَ ضَامِنًا وَالْمُتَعَاطِي عِلْمًا أَوْ عَمَلًا لَا يَعْرِفُهُ مُتَعَدٍّ فَإِذَا تَوَلَّدَ مِنْ فِعْلِهِ التَّلَفُ ضَمِنَ الدِّيَةَ وَسَقَطَ الْقَوَدُ عَنْهُ لِأَنَّهُ لَا يَسْتَبِدُّ بِذَلِكَ دُونَ إِذْنِ الْمَرِيضِ وَجِنَايَةُ الطَّبِيبِ فِي قَوْلِ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ على عاقلته انتهى.
وفی زاد المعاد في هدي خير العباد:
"[الثاني مطبب جاهل باشرت يده من يطبه فتلف به]فصل القسم الثاني: مطبب جاهل باشرت يده من يطبه، فتلف به، فهذا إن علم المجني عليه أنه جاهل لا علم له، وأذن له في طبه لم يضمن، ولا تخالف هذه الصورة ظاهر الحديث، فإن السياق وقوة الكلام يدل على أنه غر العليل، وأوهمه أنه طبيب، وليس كذلك، وإن ظن المريض أنه طبيب، وأذن له في طبه لأجل معرفته، ضمن الطبيب ما جنت يده، وكذلك إن وصف له دواء يستعمله، والعليل يظن أنه وصفه لمعرفته وحذقه فتلف به، ضمنه، والحديث ظاهر فيه أو صريح".( أقسام الأطباء من جهة إتلاف الأعضاء، 4/129، ط: مؤسسة الرسالة، بيروت)
وفی قرارات مجمع الفقہ الاسلامی بشأن ضمان الطبيب ،قرار رقم: 142(8/15):
أولاً - ضمان الطبيب:
(1) الطب علم وفن متطور لنفع البشرية، وعلى الطبيب أن يستشعر مراقبة الله تعالى في أداء عمله، وأن يؤدي واجبه بإخلاص حسب الأصول الفنية والعلمية.
(2) يكون الطبيب ضامناً إذا ترتب ضرر بالمريض في الحالات الآتية:
أ - إذا تعمد إحداث الضرر.
ب - إذا كان جاهلاً بالطب، أو بالفرع الذي أقدم على العمل الطبي فيه.
ج - إذا كان غير مأذون له من قبل الجهة الرسمية المختصة.
د - إذا أقدم على العمل دون إذن المريض أو مَن يقوم مقامه "كما ورد في قرار المجمع رقم 67(5/7)".
هـ - إذا غرر بالمريض.
و - إذا ارتكب خطأ لا يقع فيه أمثاله ولا تقره أصول المهنة، أو وقع منه إهمال أو تقصير.
ز - إذا أفشى سر المريض بدون مقتضى معتبر "حسب قرار المجمع رقم 79(10/8).
ح - إذا امتنع عن أداء الواجب الطبي في الحالات الإسعافية (حالات الضرورة).
(3) يكون الطبيب - ومَن في حكمه - مسؤولاً جزائياً في الحالات السابق ذكرها إذا توافرت شروط المسؤولية الجزائية فيما عدا حالة الخطأ (فقرة و) فلا يُسأل جزائياً إلا إذا كان الخطأ جسيماً.
(4) إذا قام بالعمل الطبي الواحد فريق طبي متكامل، فيُسأل كل واحد منهم عن خطئه تطبيقاً للقاعدة "إذا اجتمعت مباشرة الضرر مع التسبب فيه فالمسؤول هو المباشر، ما لم يكن المتسبب أولى بالمسؤولية منه". ويكون رئيس الفريق مسؤولاً مسوؤلية تضامنية عن فعل معاونيه إذا أخطأ في توجيههم أو قصر في الرقابة عليهم.
(5) تكون المؤسسة الصحية (عامة أو خاصة) مسؤولة عن الأضرار إذا قصّرت في التزاماتها، أو صدرت عنها تعليمات ترتب عليها ضرر بالمرضى دون مسوغ.
الدر المختار (6/ 68)
(ولا ضمان على حجام وبزاغ) أي بيطار (وفصاد لم يجاوز الموضع المعتاد، فإن جاوز) المعتاد (ضمن الزيادة كلها إذا لم يهلك) المجني عليه (وإن هلك ضمن نصف دية النفس) لتلفها بمأذون فيه وغير مأذون فيه فيتنصف، ثم فرع عليه بقوله: فلو قطع الختان الحشفة وبرئ المقطوع تجب عليه دية كاملة) ؛ لأنه لما برئ كان عليه ضمان الحشفة وهي عضو كامل كاللسان (وإن مات فالواجب عليه نصفها) لحصول تلف النفس بفعلين أحدهما مأذون فيه وهو قطع الجلدة والآخر غير مأذون فيه وهو قطع الحشفة فيضمن النصف ولوشرط على الحجام ونحوه العمل على وجه لا يسري لا يصح؛ لأنه ليس في وسعه إلا إذا فعل غير المعتاد فيضمن عمادية.وفيها سئل صاحب المحيط عن فصاد قال له غلام أو عبد: أفصدني ففصد فصدا معتادا فمات بسببه. قال: تجب دية الحر وقيمة العبد على عاقلة الفصاد؛ لأنه خطأ.
الموسوعة الفقهیة الكویتیة:
"ضمان الطبيب لما يتلفه:
7 - يضمن الطبيب إن جهل قواعد الطب أو كان غير حاذق فيها، فداوى مريضا وأتلفه بمداواته، أو أحدث به عيبا. أو علم قواعد التطبيب وقصر في تطبيبه، فسرى التلف أو التعييب. أو علم قواعد التطبيب ولم يقصر ولكنه طبب المريض بلا إذن منه." (حرف التاء، 12/ 139 ط: دار السلاسل)
في ’’ الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ ‘‘ :
اتفق الفقہاء علی أن من قتل مومناً خطأ فعلیہ الدیۃ والکفارۃ ۔(۳۲/۳۲۸)
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (2/ 121)
قوله: (وخطأ...... قوله: (وموجب ذلك الكفارة، والدية على العاقلة) ويحرم الميراث وتجب الدية في ثلاث سنين.
وفی أحسن الفتاوى:
’’سوال:طبیب یا ڈاکٹر کے علاج سے اگر کوئی مرجائے یا اس کا کوئی عضو تلف ہوجائے تو طبیب یا ڈاکٹر پر ضمان واجب ہوگا یا نہیں؟
جواب:طبیب کی دو قسمیں ہیں:۱۔حاذق۔ ۲۔جاہل۔طبیب حاذق کا حکم:اس کے لیے علاج کرنا جائز ہے اور اس سے رفع ضمان کے لئے دو شرائط ہیں:۱۔ مریض یا اس کے ولی نے علاج کی اجازت دی ہو،۲۔ علاج اصول طبیہ کے مطابق ہو۔اگر ان میں سے کوئی شرط مفقود ہو اور مریض کا نقصان ہوجائے تو ضمان واجب ہے۔اگر بلا اذن علاج کیا تو پورا ضمان واجب ہے اور اذن سے کیا تو اس میں یہ تفصیل ہے:۱۔ علاج کا پورا طریقہ اور عمل اصول طبیہ کے خلاف ہو تو:اس صورت میں اگر مریض ہلاک ہوگیا تو پوری دیت لازم ہوگی اور اگر کوئی عضو تلف ہوگیا تو بحسب تفصیل فقہاء رحمہم اللہ تعالی ضمان واجب ہوگا۔۲۔ کچھ عمل اصول طبیہ کے مطابق کیا اور کچھ اس کے خلاف تو:اس صورت میں مریض ہلاک ہوگیا تو نصف دیت واجب ہوگی، اور اگر عضو تلف ہوگیا تو پورا ضمان واجب ہوگا، اور اگر عضو میں نقصان آیا تو موضع معتاد سے تجاوز کی وجہ سے جو نقصان ہوا اسی کی بقدر ضمان آئے گا۔طبیب جاہل کا حکم:اس کے لئے علاج کرنا جائز نہیں اور بہرصورت پورا ضمان واجب ہوگا، خواہ اصول طبیہ کے مطابق علاج کرے یا ان کے خلاف، مریض یا اس کے ولی کی اجازت سے علاج کرے یا بلا اجازت۔ تنبیہ:وجوب ضمان اس صورت میں ہے کہ علاج میں ڈاکٹر یا طبیب کا اپنا ہاتھ استعمال ہوا ہو، مثلا آپریشن کیا ہو یا انجیکشن لگایا ہو یا اپنے ہاتھ سے دواء پلائی ہو، اگر دواء بنا کر یا لکھ کر مریض کو دے دی، مریض نے خود اپنے ہاتھ سے دواء پی تو ضمان واجب نہ ہوگا۔البتہ تعزیر بہر صورت واجب ہے‘‘۔(كتاب الجناية والضمان، 8/517-518، ط:سعيد)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
3/5/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


