03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
كسي خاتون كے ذریعے طلاق کا پیغام بھجوانے اور پھر میاں بیوی میں طلاق پر اختلاف کا حکم
83130طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

السلام علیکم!میرا نام ....... ہے ۔میرا ایک مسئلہ ہے کہ میرے شوہر جو کہ سعودی عرب ریاض میں رہتے ہیں اور ان کا تعلق کو ہاٹ سےہے۔ میرے شوہر نے مجھے 02 جنوری 2023رات  1 بجے کسی عورت کے ذریعے طلاق کا پیغام بھجوایا ہے ۔ اس عورت کی  رہائش کراچی کی نیول کالونی میں ہے۔اس نے مجھے رات کے 1 بجے کے قریب تاریخ 2 جنوری کو فون کرکے میرے شوہر کا پیغام پہنچایا ہے کہ تمهارے شوہر  نے میرے سامنے تمھیں 5 مرتبہ طلاق دے دی ہے اور طلاق کے الفاظ یہ ہیں: (شوہر  نے کہا کہ: میں نے ۔۔۔۔۔۔۔ کو طلاق دےدی ہے) یہ الفاظ 5 مرتبہ دہرائے ہیں اوران کی اس بات کی call recording بھی میرے پاس موجود ہے۔ اس واقعے کے بعد میں نے اپنے شوہر کے انکل  سےرابطہ کیا ، یہ بھی ریاض میں میرے شوہر کے ساتھ ہوتے ہیں اور ان کو پوری بات بتائی اور call recording بھی بھیج دی ۔ جس پر میرے شوہر نے ماننے سے انکار کر دیا ۔ اس  واقعے کے بعد میں نے دوبارہ اس عورت سے رابطہ کیا جس نے مجھے طلاق کا پیغام بھیجا تھا ، میں نے کہا کہ یہ بات قرآن پر ہاتھ رکھ کر بولیں کہ میرےشوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے۔

اس بات پر اس عورت کا جواب آیا کہ میں قرآن تو نہیں اٹھاؤں گی ،کیونکہ یہ کوئی معمولی کتاب نہیں ہے اور نہ ہی میں تمہیں جانتی ہوں، البتہ میں تمہارے شوہر کو جانتی ہوں اور اسی نے مجھے تمہارا نمبر بھی دیا ہے ۔ یہ تم لوگوں کا آپس کا معاملہ ہے ، میں نماز قرآن کی پابند ہوں اور اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ میرے سامنے تمہارے شوہر  نے تمہیں 5 مرتبہ طلاق دی ہے ۔اور یہ بھی کہا ہے کہ میرا پیغام میری بیوی کو پہنچاد  ے کہ  میں نے اس کو طلاق دے دی ہے۔ لیکن میرا شوہر اپنے رشتے داروں میں یہ بات نہیں مان رہا۔  میں اپنے شوہر کی دوسری بیوی ہوں ۔ میرے شوہر نے اپنی پہلی بیوی ۔۔۔۔۔ کو بھی اسی طرح طلاق دی تھی اور بعد میں جھوٹا قرآن اٹھا لیا تھا کہ میں نے طلاق نہیں دی اور کہا کہ تم خود خلع لے لوتاکہ حق مہر نہ دینا پڑے۔ پہلی بیوی کے حق مہر میں نعمان نے اپنا گھر لکھا تھا اور میرے حق مہر میں صرف  51000/-روپےلکھے ہیں جو ابھی تک مجھے وصول نہیں ہوئے ، مجھےبھی کہہ رہا ہے کہ تم خلع لے لو۔ آیا میری طلاق ہوئی یا نہیں ہوئی؟ان تمام باتوں کے بعد میں نے اپنے شوہر کے انکل سے کہا ہے کہ میرے شوہر سے پوچھیں کہ اگر یہ جھوٹ ہے تو مجھے کال کرے ۔ پورا دن گزر گیا لیکن کسی نے  بھی کوئی رابطہ نہیں کیا ۔ پھر میں نے خود ہی اپنے شوہر کو کال کی اور حقیقت پوچھی تو اس بات پر میرے شوہر نے کہا کہ اس عورت کو میں نے سب بتا دیا ہے ۔ میں تمہارے ساتھ  نہیں رہنا چاہتا۔ میں نے پھر پوچھا کہ کیا تم نے مجھے طلاق دی ہے؟ ہاں یا نہ؟ اس پر دوبارہ میرے شوہر نے کہا کہ میں نے اپنا جواب اس عورت کو دے دے دیاہے۔پھر میں نے پوچھاکہ اس عورت نے کہا ہے کہ تمہارے شوہر  نے 5 مرتبہ تمھیں طلاق دی ہے تو کیا یہ سچ ہے ؟ ہاں یا نہ ؟اس پر میرے شوہر نے کہا ہے کہ اس نے جو بھی کہا ہے میں یہی چاہتا ہوں اور یہی میرا فیصلہ ہےاور تم پوچھنے کے سب حق کھو چکی ہو ،اس عورت کو میں اپنا جواب دے چکا ہوں اس سےپوچھ لو۔ آیا طلاق واقع ہو چکی ہے یا نہیں؟

تنقیح: شوہر سے تصدیق کے لیے جب بات کی تو اس نے بتایا کیامیں نے طلاق کا کوئی پیغام نہیں بھجوایا اور نہ ہی میرا طلاق دینے کا کوئی ارادہ ہے۔میرا اپنی بیوی سے جھگڑا چل رہا تھا  اور وہ مجھ سے بات تک نہیں کر رہی تھی تو میں نے اپنی  ایک جاننے والی آپا سے رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ آپ  میری بیوی کو سمجھائیں کہ وہ اس طرح نہ کرے،بلا وجہ لڑائی چھوڑ دے،میں نے ان کو طلاق کا پیغام نہیں دیا۔

تنقیح:وہ خاتون جنہوں نے شوہر کا پیغام بیوی کو پہنچایا تھا ان سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ نعمان نے مجھے طلاق دینے کا بالکل نہیں کہا تھابلکہ نعمان نے صرف مجھے اسے سمجھانے کا کہا تھا کہ وہ  فضول ضد چھوڑ دے ۔میں نے اپنی طرف سے اس کو ڈرانے کے لیے  طلاق کا کہا تھا۔

تنقیح: بیوی نے مزیدیہ بات بتائی کہ شوہر  کے ایک دوست نے  جو کہ ریاض میں ہی رہتا ہے مجھے  میسج کیا تھا کہ  آپ اس کا پیچھا  چھوڑ کیوں نہیں دیتی  ؟ یہ ہمارے سامنے آپ کو طلاق دے چکا ہے۔اسی طرح  شوہر کے ایک  اور دوست یا کزن نے بھی بیوی کو   کہا   کہ بھابھی ہمارے سامنے اس نے کئی دفعہ یہ کہا ہے کہ میں تو اس کو طلاق سے دوں گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واقعات  کی تحقیق کی  گئی ۔شوہر  کا کہنا ہے کہ میں  نے طلاق  نہیں  دی اور نہ طلاق  دینے  کا کبھی  اقرار کیا ہے۔ پیغام رساں    خاتون بھی تصدیق  کرتی  ہے کہ اس  نے اپنی  طرف  سے ہی طلاق   کا  ذکر کیا ہے ۔شوہر  کے علاوہ  کسی اور کو طلاق دینے کا اختیار نہیں ہوتا۔لہذا  شوہر اگر اپنے بیان میں سچا ہے تو اس  واقعے کی حد تک  طلاق واقع نہیں ہوئی۔

 البتہ اگر شوہر کے دوست نےجو طلاق کی خبر  آپ کو دی ہے آپ کو اس پر اعتماد ہےاور شوہر اسے تسلیم کرتا ہے تو طلاق ہوجائے گی یا اگر ایک سے زیادہ گواہ موجود ہوں جیسے کہ دوست کی تعبیر "یہ ہمارے سامنے آپ کو طلاق دے چکا ہے" سے معلوم ہوتا ہے تو عدالت میں ان گواہوں کے ذریعے طلاق ثابت کر نے پر بھی طلاق مؤثر ہو جائے گی۔البتہ  اگر شوہر تسلیم نہ کرےاور دو گواہ  بھی موجود نہ ہوں  لیکن  آپ کو اس کی خبر پر اعتماد   ہوتو طلاق تو نہ ہو گی لیکن  آپ  کے لیے شوہر کے ساتھ رہنا حلال نہ ہوگا۔ لہذا ایسی صورت میں آپ کو چاہیےکہ نان نفقہ نہ دینے اور شوہر کی ہٹ دھرمی کی بناء پر عدالت سے نکاح فسخ  کروا لیں ۔ کیونکہ طلاق کے اقرار ، طلاق  کے حصول ، خلع یا فسخ نکاح  کے بغیر عورت کسی اور جگہ نکاح نہیں کرسکتی۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن عابدین رحمه الله تعالى:والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله.( رد المحتار :3/ 251)

قال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى:(فإن اختلفا في وجود الشرط) أي ‌ثبوته ‌ليعم ‌العدمي(فالقول له مع اليمين) لانكاره الطلاق. (الدر المختار:/1221)

قال جمع من العلماء رحمهم الله تعالى:ولكن ليس لها أن تمكن من زوجها، وكذلك ‌إن ‌سمعت ‌أنه ‌طلقها ثلاثا وجحد الزوج ذلك وحلف فردها عليه القاضي لم يسعها المقام معه، وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه، وإن لم تقدر على ذلك قتلته، وإذا هربت منه لم يسعها أن تعتد وتتزوج بزوج آخر.(الفتاوى الهندية:5/ 313):

قال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى : (سمعت من زوجها أنه طلقها ولا تقدر على منعه من نفسها) إلا بقتله (لها قتله) بدواء خوف القصاص، ولا تقتل نفسها.وقال الاوزجندي ترفع الامر للقاضي، فإن حلف ولا بينة فالاثم عليه، وإن قتلته فلا شئ عليها.(الدر المختار:/1231)

قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى:وقال الأوزجندي: ‌ترفع ‌الأمر ‌للقاضي، فإن حلف ولا بينة فالإثم عليه(قوله: فالإثم عليه) أي وحده، وينبغي تقييده بما إذا لم تقدر على الافتداء، أو الهرب.( رد المحتار:3/ 421)

ہارون  عبداللہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

04 شعبان 1445ھ

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ہارون عبداللہ بن عزیز الحق

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب