03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
احسان جتلانا
85433معاشرت کے آداب و حقوق کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

سلام میرا سوال یہ ہے کے میرے چچا نے جب ہم چھوٹے تھے ١٤ سال پہلے میرے والد صاحب کی بیماری پر بہت خرچہ کیا تھا اچھے سے اچھے ہسپتال میں انکا علاج کرایا چچا نے میرے لیکن اب بھی چچا کے گھر والے ہم سے کچھ زیاتی کرتے ہیں تو چچا سمیت پورا خاندان ہمیں یہ بار بار مسلسل یہ بات یاد کراتا ہے کے چچا نے کیا کچھ نہیں کیا تمہارے لئے انکا مقصد یہی ہوتا ہے کے آپ یہ زیاتیاں چپ چاپ برداشت کرو چچا کے اور خاندان والوں کے مسلسل یہ الفاظ میرے دل کو بڑا دکھ پہنچتا ہے کبھی کبھی میرا دل ایسا کرتا کے میرا باپ ایسی مر جاتا لیکن ان لوگوں کے احسان نہ لیتا اب ہماری دین میں اس سوال کا کیا جواب ہے ہمیں کیا کرنا چاہے ؟ مہربانی کر کے جلدی سوال کا جواب دیں شکریہ وسلام

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 احسان جتلانےوالوں کےلیے شریعت میں سخت وعیدیں آئی ہیں ، اس سے نیکیاں ختم ہوتی ہیں،   لہذا احسان جتلاکر آپ کے چچا  اوران کے گھروالوں کو اپنی نیکیاں ضائع نہیں کرنی چاہییں ۔بلاوجہ کسی کی دل آزاری کرنا  ویسے بھی شریعت میں سخت ممنوع ہے۔ چچا کو چاہیے کہ وہ  اپنے بھتیجوں کے ساتھ اب بھی حسنِ سلوک کا معاملہ کرے ۔آپ حضرات کو بھی چچاکی مکمل عزت و احترام کرناچاہیےکیونکہ چچاکو حدیث شریف میں والد کی جگہ  پررکھا گیاہے۔جانبین آپس میں بھائی چارگی کا ماحول قائم کریں،ایک دوسرے کو برداشت کریں ۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی طرف متوجہ ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ سے اتفاق و اتحاد کی دعائیں مانگیں۔اگروہ لوگ آپ کو بلاوجہ تنگ کررہےہیں توبھی آپ کو صبرکادامن نہیں چھوڑناچاہیے اس پر آپ کواجرعظیم ملےگا۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الجصاص الحنفي رحمہ اللہ:قال اللہ  تعالیٰ: {الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لا يُتْبِعُونَ مَا أَنْفَقُوا مَنّاً وَلا أَذىً } الآية، وقال تعالیٰ: { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى كَالَّذِي يُنْفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ} وقال تعالیٰ: {قَوْلٌ مَعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذىً } .

  أخبر اللہ تعالى في هذه الآيات:أن الصدقات، إذا لم تكن خالصة للّہ،عارية مِن مَنٍّ وأذى، فليست بصدقة؛لأن إبطالها هو إحباط ثوابها، فيكون فيها بمنزلة من لم يتصدق.(أحکام القران للجصاص:(533/1

أخرج الإمام النسائي رحمہ اللہ في"سننہ" ((318/8(الحدیث رقم(5672:من حدیث عبد اللہ بن عمرورضي اللہ عنھما،عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم،  قال:" لا يدخل الجنة منان الخ".

أخرج الإمام مسلم رحمہ اللہ في "صحیحیہ"((102/1(الحدیث رقم(106: من حدیث أبي ذر رضي اللہ عنھما،عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم  قال" ثلاثة لا يكلمهم اللہ  يوم القيامة، ولا ينظر إليهم، ولا يزكيهم، ولهم عذاب أليم"قال :فقرأها رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ثلاث مرار. قال أبو ذر: خابوا وخسروا. من هم يا رسول اللہ؟ قال" المسبل والمنان الخ".

أخرج الإمام أحمد  بن حنبل رحمہ اللہ في "مسندہ " ((472/12(الحدیث رقم:(7504من مسند أبي هريرة رضي اللہ عنہ، قال: قال رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  :  " من لم يشكر الناس، لم يشكر اللہ عز وجل ".

جمیل الرحمٰن  بن محمد ہاشم                        

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی   

7جمادی الاولیٰ1446ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب