| 85355 | وقف کے مسائل | وقف کے متفرّق مسائل |
سوال
تقریبا 20 سال پہلے میرے سسر صاحب نے عید گاہ کے لئے تقریبا 4 کنال اراضی وقف کر دی تھی جو کہ نا ہموار تھی، خاندان کے تمام افراد نے کافی خرچہ کر کے ہموار بنا کر عید گاہ بنوایا جو کہ آج تک ہم اور آس پاس کے بہت سے لوگ بطور عید گاہ استعمال کرتے ہیں، چونکہ عید گاہ پہاڑ کے دامن میں ہونے کی وجہ سے تھوڑی سی اونچائی پر ہے، اس وجہ سے بیمار اور ضعیف لوگوں کو آنے جانے میں تکلیف ہوتی ہے اور عام آدمی کو بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جنازگاہ کے لئے بالکل مناسب نہیں ہے، اس لئے ہم مقبرہ سے تقریبا ایک کلو میٹردور اسکول کے گراؤنڈ میں جنازہ ادا کرتے ہیں اور ایک کلومیٹر مقبرہ میں واپس آنا پڑتا ہے،لہذا ان سب مشکلات اور حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے خاندان کے بہت سے حضرات نے مقبرہ کے قریب تقریبا 6 سے 7 کنال اراضی عید گاہ اور جنازگاہ کے لئے وقف کی ہے،لوگوں کی ہر قسم کی آسانی اور سہولت کومد نظر ر کھتے ہوئے عید گاہ کو ہم یہاں شفٹ کرنا چاہتے ہیں،لیکن عید گاہ اور جنازگاہ کے قابل بنانے کےلئے اس جگہ کو ہموار کرنا ہو گا، اس کا فرش، او پر سٹیل چادر کی چھت،واش روم، وضو اور میت کو غسل دینے کی جگہ ہو،جس طرح ہم چاہتے ہیں اس کے لئے کافی رقم درکار ہوگی، لہذا ہم متفقہ طور پر ان اخراجات کے لئے پرانی عید گاہ کی اراضی کو فروخت کرنا چاہتے ہیں،اگر یہ اراضی مذکورہ کام کےلیے کارآمد نہیں ہے تو زندگی بھر یہ اس طرح پڑی رہے گی،کیونکہ یہ پہاڑ میں ہے ،اور عیدگاہ وقف شدہ نئی جگہ میں شفٹ ہوگئی ہے۔
نوٹ: پرانی عید گاہ کے اردگرد تقریبا 7یا 8مکانات ہیں جو کہ ہماری بڑی جامع مسجد میں نماز
ادا کرتے ہیں۔
کیا ہم شریعت کی رو سے پرانی عید گاہ والی اراضی کو مذکورہ وجوہات کی بناء پر فروخت کر سکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جو زمین عید گاہ کے لیے وقف کی گئی ہووہ واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں چلی جاتی ہے،لہذاوقف مکمل ہونے کے بعد اس کو فروخت کرنا جائز نہیں ہے، البتہ یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ اس جگہ دینی مدرسہ قائم کیا جائے تاکہ اس کا وقف اپنی حالت پر برقرار رہے یا پھر اس میں مسجد تعمیر کردی جائے ۔اور اگر یہاں مسجد یا مدرسہ بنانے کی ضرورت نہ ہو اور اس بات کا قوی اندیشہ ہو کہ زمین اسی طرح چھوڑ دینے سے ویران ہوجائے گی تو پھر وقف املاک کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے کسی کومارکیٹ ریٹ کے مطابق کرایہ پر دی جائے اور اس کی آمدن سے نئی عیدگاہ کے اخراجات اور دیکھ بھال کی جائے۔
حوالہ جات
وفی عمدة القاری (4/179):
لَو أن مَقْبرَة من مَقابِر المُسلمين عفت فَبنى قوم عَلَيْها مَسْجِدا لم أر بذلك بَأْسا، وذَلِكَ لِأن المَقابِر وقف من أوقاف المُسلمين لدفن موتاهم لا يجوز لأحد أن يملكها، فَإذا درست واسْتغْنى عَن الدّفن فِيها جازَ صرفها إلى المَسْجِد، لِأن المَسْجِد أيْضا وقف من أوقاف المُسلمين۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 359):
ونقل في الذخيرة عن شمس الأئمة الحلواني أنه سئل عن مسجد أو حوض خرب، ولا يحتاج إليه لتفرق الناس عنه هل للقاضي أن يصرف أوقافه إلى مسجد أو حوض آخر؟ فقال: نعم
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
08/ جمادی الاولی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


