| 85612 | جنازے کےمسائل | ایصال ثواب کے احکام |
سوال
میری نانی کا دو ہفتے پہلے انتقال ہوا ہے،ان کے ایصال ثواب کے لئے بہترین صورت کیا ہے؟یعنی مسجد کی تعمیر میں رقم دے دی جائے،یا مدرسے میں عطیہ کردی جائے،یا رشتہ داروں کو کھانا کھلادیا جائے وغیرہ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایصال ثواب کے لئے بہتر صورت صدقہ جاریہ کی ہے،یعنی کسی ایسے مصرف میں رقم خرچ کی جائے جس سے لوگ ایک عرصے تک مستفید ہوں،جیسے مسجد یا مدرسے کی تعمیر میں حصہ ڈالنا،یاکسی ایسی جگہ جہاں لوگوں کو پانی کی ضرورت ہو کنواں کھدوادینا یا بورنگ کروادینا وغیرہ۔
نیز میت کے ایصال ثواب کے لئے صدقہ وخیرات،تلاوت و نوافل کے ساتھ ساتھ دعائے مغفرت کا بھی اہتمام کرنا چاہیے کہ اس سے بھی اسے فائدہ پہنچتا ہے۔
حوالہ جات
"سنن أبي داود "(2/ 130):
"عن سعد بن عبادة، أنه قال: يا رسول ﷲ، إن أم سعد ماتت، فأي الصدقة أفضل؟، قال: «الماء»، قال: فحفر بئرا، وقال: هذه لأم سعد".
"شعب الإيمان" (10/ 301):
" عن عبد الله بن عباس، قال: قال النبي صلى اﷲ عليه وسلم: " ما الميت في القبر إلا كالغريق المتغوث، ينتظر دعوة تلحقه من أب أو أم أو أخ أو صديق، فإذا لحقته كانت أحب إليه من الدنيا وما فيها، وإن الله عز وجل ليدخل على أهل القبور من دعاء أهل الأرض أمثال الجبال، وإن هدية الأحياء إلى الأموات الاستغفار لهم ".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
24/جمادی الاولی1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


