| 85367 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
کیا (بلا عذر والدین کے گھر بیٹھ جانے والی) عورت کو زور زبردستی پکڑ کر شوہر کے حوالے کر سکتے ہیں یاعورت اس معاملہ میں خود مختار ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یاد رہے کہ نکاح ہوجانے کے بعد عورت پر شوہر کے پاس رہنا لازم ہے ،بلا عذر الگ ہونا حرام اور قابل تعزیر جرم ہے،عورت کے گھر والوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ ایسی عورت کو اپنے پاس بٹھائے رکھیں ،اس لیے کہ ابتداءًعقد نکاح کرنے میں عورت پر جبر نہیں،لیکن اگر نکاح کرلے تو دیگر عقود کی طرح عقد نکاح میں بھی عقد کے تقاضوں پر عمل کرنے میں اختیار نہیں بلکہ جبر ہی ہوتا ہے،لہٰذامذکورہ صورت میں اگر عورت بغیر کسی عذر کےاپنے شوہر کے ساتھ رہنے پر رضامند نہیں ہے تو خاندان کے افراد کو چاہیے کہ وہ اسے سمجھائیں اور بلاعذر طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنے والی خواتین سے متعلق وارد ہونے والی احادیث بھی ان کوبتلائیں،مثلاًایک حدیث کے مطابق ایسی عورت پر جنت کی خوشبو حرام ہے،یعنی جنت میں داخل ہونا تو دور کی بات ہے،جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گی،وغیرہ۔بالفرض اگر عورت کو سمجھانے سے بھی وہ باز نہ آئےتو ایسی صورت میں تفصیل یہ ہے کہ اگر قصور مرد کا ہے تو اس سے بلا معاوضہ طلاق کا مطالبہ کریں اور قصور عورت کا ہے تو اسے خلع کا مشورہ دیں کہ وہ مہر معاف کرکے (اگر وصول نہیں کیا )یا واپس کرکے(اگر وصول کرلیا ہے) چھٹکارہ حاصل کرے،تاکہ شوہر کوضرر نہ پہنچے،لیکن واضح رہے کہ طلاق یا خلع دینے کااختیار عورت کے پاس نہیں ہے، بلکہ یہ اختیار مرد کا ہے کہ وہ طلاق یا خلع دے یا نہ دے۔البتہ بعض حالات میں عورت کو فسخ نکاح کا حق حاصل ہوتا ہے ،بشرطیکہ فسخ نکاح کے اسباب میں سے کوئی سبب پایا جائے ،ان اسباب کی تفصیل کی یہاں ضرورت نہیں اس لیے تفصیل نہیں لکھی،بوقت ضرورت کسی مستند دارالافتاء سے معلوم کرلیا جائے۔
حوالہ جات
السنن الكبرى للبيهقي وفي ذيله الجوهر النقي (7/ 316)
عن ثوبان عن النبى -صلى الله عليه وسلم- قال :" أيما امرأة سألت زوجها طلاقا فى غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة".
الدر المختار (3/ 441)
(ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (بما يصلح للمهر)…
حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 441)
(قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع. اهـ. ط، وهذا هو الحكم المذكور في الآية، وقد أوضح الكلام عليه في الفتح آخر الباب.
الفتاوى الهندية (1/ 488)
إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية.إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع.وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۰۸.جمادی الاولیٰ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


