03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مال تجارت پر زکوٰۃ
85426زکوة کابیانسامان تجارت پر زکوۃ واجب ہونے کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسلئہ کے بارے میں ۔ کہ ایک آدمی کا ہارڈویئر شاپ ہے وہ سال گزرنے پر اس کا زکوٰۃ ادا کرنا چاہتا ہے تو وہ زکوٰۃ قیمت خرید پر ادا کرے یا قیمت فروخت پر ؟ اگر قیمت فروخت پر ہو تو پھر قیمت فروخت کا تعین کس طرح کریں جس قیمت پر دکاندار خود سیل کرتا ہے اس کا اعتبار کیا جائے گا یا جس قیمت پر دکاندار ہول سیل مارکیٹ سے خریدتا ہے اس کا اعتبار کیا جائے ۔ چنانچہ اس کاروبار میں قیمت فروخت ایک نہیں ہوتا گاہک کے حساب سے قیمت کا تعین ہوتا ہے تو قیمت فروخت کا حساب کیسے کیا جائے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زکوۃ کے حساب میں ہمیشہ قیمت فروخت کا اعتبار ہو تا ہےقیمت خرید کا اعتبار نہیں ہوگا،اور قیمت فروخت سے مراد وہ تخمینی قیمت ہے جس پر اس تاریخ میں سامان کو بیچنا بسہولت ممکن ہو ، اس کے لیے با ضابطہ فروخت کرنا ضروری نہیں ۔

حوالہ جات

قال العلامة ابن نجیم  رحمه الله: ويقوم العرض بالمصر الذي هو فيه حتى لو بعث عبدا للتجارة في بلد آخر يقوم في ذلك الذي فيه العبد كذا في فتح القدير. ثم عند أبي حنيفة تعتبر القيمة يوم الوجوب، وعندهما يوم الأداء. (البحرالرائق :2/247)

قال العلامة ابن عابدین رحمه الله: وقدم الشارح عند قوله وجاز دفع القيمة أنها تعتبر يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء كما في السوائم، ويقوم في البلد الذي المال فيه .(ردالمحتار : 2/299)

قال العلامة ابن الھمام رحمه الله:قوله:( يقومها) أي المالك في البلد الذي فيه المال حتى لو كان بعث عند التجارة إلى بلد أخرى لحاجة فحال الحول يعتبر قيمته في ذلك البلد، ولو كان في مفازة تعتبر قيمته في أقرب الأمصار إلى ذلك الموضع، وكذا في الفتاوى.(فتح القدیر : 2/219)

محمد یونس بن امین اللہ

دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی

‏9‏ جمادى الأول‏، 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد یونس بن امين اللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب