| 85391 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میرے والد صاحب سرکاری ملازم تھے،جو ابھی ریٹائرڈ ہوئے ،میرے والد صاحب اپنے دو بھائیوں کے ساتھ اکھٹے رہتے تھے،میرے والد گھرمیں اپنے تمام ذمہ داریاں بخوبی انجام دی ہیں،بھائیوں کی ذمہ داریوں میں بھی ان کی مدد کی،ان کا ہر حق بخوبی اداکیا،میرے والد صاحب نے بچت کرکے ایک پلاٹ اور گاڑی اپنے لیے خریدی تھی،بھائیوں کی طرف سے کوئی مدد نہیں لی،بلکہ یہ دونوں چیزیں اپنے پیسوں سے لی ہیں۔کیا اب بٹوارہ کے بعد ان دوچیزوں میں بھائیوں کا حصہ بنتاہے؟دادا کی میراث پہلے تقسیم ہوچکی ہے۔والد صاحب بھی حیات ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کسی نے خالص اپنی محنت کی کمائی سے جائیداد بنائی ہو ،اس میں مشترکہ کاروبار یا مشترکہ رقم شامل نہیں تھی تو یہ اس کی ذاتی شمار ہوگی۔لہذا سوال میں موجود صورت اگر حقیقت کے مطابق ہے،تو ذاتی کمائی سے خریدے گئے پلاٹ اور گاڑی میں کسی اور کا حصہ نہیں ، یہ دونوں چیزیں فقط آپ کے والد کی ملکیت شمار ہوں گی۔
حوالہ جات
وفي بدائع الصنائع(6/264):
وَأَمَّا بَيَانُ حُكْمِ الْمِلْكِ وَالْحَقِّ الثَّابِتِ فِي الْمَحِلِّ فَنَقُولُ وَبِاَللَّهِ التَّوْفِيقُ حُكْمُ الْمِلْكِ وِلَايَةُ التَّصَرُّفِ لِلْمَالِكِ فِي الْمَمْلُوكِ بِاخْتِيَارِهِ لَيْسَ لِأَحَدٍ وِلَايَةُ الْجَبْرِ عَلَيْهِ إلَّا لِضَرُورَةٍ وَلَا لِأَحَدٍ وِلَايَةُ الْمَنْعِ عَنْهُ وَإِنْ كَانَ يَتَضَرَّرُ بِهِ إلَّا إذَا تَعَلَّقَ بِهِ حَقُّ الْغَيْرِ فَيُمْنَعُ عَنْ التَّصَرُّفِ مِنْ غَيْرِ رِضَا صَاحِبِ الْحَقِّ وَغَيْرُ الْمَالِكِ لَا يَكُونُ لَهُ التَّصَرُّفُ فِي مِلْكِهِ مِنْ غَيْرِ إذْنِهِ وَرِضَاهُ إلَّا لِضَرُورَةٍ وَكَذَلِكَ حُكْمُ الْحَقِّ الثَّابِتِ فِي الْمَحِلِّ عَرَفَ هَذَا فَنَقُولُ لِلْمَالِكِ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِي مِلْكِهِ أَيَّ تَصَرُّفٍ شَاءَ سَوَاءٌ كَانَ تَصَرُّفًا يَتَعَدَّى
ضَرَرُهُ إلَى غَيْرِهِ أَوْ لَا يَتَعَدَّى
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
10/ جمادی الاولی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


