| 85448 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
میرا اپنے بھائیوں کے ساتھ وراثت کے معاملے میں اختلاف ہے ۔میرے والد صاحب نے اپنی زندگی میں مجھے ایک گاڑی ہبہ کی تھی جس کی کاغذی ملکیت اور قبضہ دونوں مجھے اپنی زندگی میں ہی دے دیا تھا اور مالکانہ حقوق کا اختیار اس طور پر دے دیا تھا کہ میرے پاس مکمل تصرف کا اختیار تھا ۔اس کے برعکس میرے والد کی وفات کے بعد وراثت کے مال میں کچھ گاڑیاں موجود تھیں، جو کہ ان کی زندگی میں تمام گھر والوں کے زیر استعمال تھیں، اب ہمارے درمیان چند نکات پر اختلاف ہے، میرے بھائیوں کا موقف ہے کہ وہ گاڑیاں ہمارے والد نے اپنی زندگی میں ہمارے قبضے میں دے دی تھیں اور پھر اس کے بعد وہ خود اقرار کرتے ہیں کہ والد صاحب نے اس ڈر سے گاڑیاں کاغذی طور پر ان کے نام نہیں کیں کہ ہمارے خاندانوں میں کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اولاد نافرمان ہو گئی ۔واضح رہے کہ یہ بیان خالصتا ان کا اپنا موقف ہے اور وہ گاڑیوں کے استعمال کو قبضے کی تعبیر دیتے ہیں ، جبکہ والد صاحب نے اپنی زندگی میں گاڑیاں نہ تو کاغذی طور پر ان کے نام کی نہ ہی مالکانہ حقوق دیے اور نہ ان کو کسی مالکانہ تصرف کا حقیقی اختیار تھا۔مجھے یہ جاننا ہے کہ یہ گاڑیاں مال وراثت میں شامل ہوں گی یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں بھائیوں کے ذمہ (جو اس بات کا دعوی کر رہے ہیں کہ وہ گاڑیاں والد نے انہیں ہبہ کے طور پر دے دی تھیں) لازم ہے کہ وہ اپنے اس دعوی کو عدالت یا پنچائیت کے سامنے کم از کم دو معتبر مردوں یا ایک مرد اوردوعورتوں کی گواہی سے ثابت کردیں کہ والد نےجائیداد میں سے وہ مخصوص گاڑیاں ان بھائیوں کوہبہ کرکے ان کے قبضے میں بھی دے دی تھیں، اگر ان بھائیوں نے گواہوں کے ذریعے اپنےاس دعوی کو ثابت کردیا تو فیصلہ ان کے حق میں کردیا جائے گا، لیکن اگر وہ اپنے دعوی کو گواہوں کے ذریعے ثابت نہ کرسکیں تو پھر دیگر ورثہ سے یوں قسم لی جائے گی کہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ ان کے مرحوم والد نے مذکورہ گاڑیاں ان بھائیوں کو ہبہ کی تھیں،اگر وہ اس طرح قسم اٹھا لیں تو پھر وہ گاڑیاں والد کے ترکہ میں شامل ہوکر ان کی وفات کے وقت موجود ورثہ میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوں گی، اور بھائیوں کا دعوی باطل ہوگا۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية:(4/ 377):
ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط. والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة وثبوت حكمها القبض بإذن المالك، والإذن تارة يثبت نصا وصريحا وتارة يثبت دلالة فالصريح أن يقول: اقبضه إذا كان الموهوب حاضرا في المجلس ويقول اذهب واقبضه إذا كان غائبا عن المجلس ثم إذا كان الموهوب حاضرا، وقال له الواهب: اقبضه فقبضه في المجلس أو بعد الافتراق عن المجلس صح قبضه وملكه قياسا واستحسانا، ولو نهاه عن القبض بعد الهبة لا يصح قبضه لا في المجلس ولا بعد الافتراق عن المجلس، وإن لم يأذن له بالقبض صريحا ولم ينهه عنه إن قبضه في المجلس صح قبضه استحسانا لا قياسا، وإن قبضه بعد الافتراق عن المجلس لا يصح قبضه قياسا واستحسانا، ولو كان الموهوب غائبا فذهب وقبض: إن كان القبض بإذن الواهب جاز استحسانا لا قياسا، وإن كان بغير إذنه لا يجوز قياسا واستحسانا، هكذا في الذخيرة.
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (7/ 217):
«قوله: وعلى العلم لو ورث عبدا فادعاه آخر) ؛ لأنه لا علم له بما صنع المورث فلا يحلف على البتات أطلقه فشمل ما إذا ادعاه ملكا مطلقا أو بسبب من المورث»
اسامہ مدنی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
10/ جمادی الاولی/6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسامہ بن محمد مدنی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


