| 85395 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
23 اکتوبر 2024 کی رات 3 سے 6 بجے کے درمیان، جب میں گھر کی چھت پر سو رہا تھا اور میری اہلیہ اور بیٹا نیچے تھے، تو اس دوران چور نے میرے موبائل فون (OPPO F17) کو، جو چارجنگ پر لگا ہوا تھا، چوری کر لیا اور چھت کے راستے سے فرار ہو گیا۔ میرے گھر کے زینے کے ساتھ یوسف سلمان کے گھر کی دیوار ہےجس پربجلی کی تارہے،اس تار سے مٹی کے ہٹ جانے کے نشان تھے، جو آنے جانے کے نشانات ظاہر کرتے ہیں۔ ہمارا پورا شک ہے کہ یہ موبائل یوسف سلمان کے بیٹے ابراہیم نے چرایا ہے، مگر وہ انکار کر رہا ہے۔ اس نے سرف کی چوری تسلیم کی تھی، مگر موبائل چوری سے انکاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ
اگر چور پکڑا جاتا ہے تو کیا میرے لیے موبائل کی قیمت کا ہرجانہ لینا جائز ہے؟ اور اگر جائز ہے، تو یہ ہرجانہ قیمت خرید کے حساب سے ہوگا یا موجودہ قیمت کے مطابق؟
اس کے علاوہ، موبائل کی چوری کی وجہ سے میرا آن لائن کام رک چکا ہے، اور مالی حالات کی تنگی کی وجہ سے میں نیا موبائل بھی نہیں خرید سکا۔ کیا میں اپنے کام کی رکاوٹ کی وجہ سے بھی ہرجانہ لینے کا حق دار ہوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اسلامی قانون کے مطابق بغیر کسی شرعی دلیل کے کسی پر شک کرنا مناسب نہیں۔ اگر گواہوں کی گواہی، قسم سے انکار، یا اعتراف کے ذریعے چوری ثابت ہو جائے، تو آپ کے لیے چوری شدہ موبائل اگر بعینہ برآمد ہو جائے تو واپس لینا جائز ہے۔ اگر بعینہ برآمد نہ ہو، تو اس وقت کی مارکیٹ قیمت کے مطابق اس کی قیمت لینا جائز ہے۔
البتہ، اسلامی نقطۂ نظر سے آپ کو چوری کی وجہ سے پیش آنے والے کام میں خلل کا ہرجانہ طلب کرنے کا حق نہیں ہے، کیونکہ شرعی اصولوں کے مطابق چوری کا تاوان اصل مال یا اس کی قیمت پر ہی محدود ہوتا ہے، اس سے آگے منافع کے نقصانات کا دعویٰ جائز نہیں۔
حوالہ جات
ٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ ۫ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا. (الحجرات: 12)
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (2/ 225):
وأما الشهادة في السرقة تقبل فيها في حق المال رجل وامرأتان ولا يقبل في حق القطع إلا رجلان فلو شهد رجل وامرأتان بالسرقة ثبت المال دون القطع.
المبسوط للسرخسي (9/ 177)
وكل شيء درأت فيه الحد ضمنته السرقة إن كانت مستهلكة، وإذا قطعت لم أضمنه، وإن كانت قائمة رددتها لبقاء الملك فيها لصاحبها.
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 186)
وحكي أن هارون الرشيد كان مع جماعة الفقهاء وفيهم أبو يوسف فادعى رجل على آخر أخذ ماله من بيته فأقر بالأخذ فسأل الفقهاء فأفتوا بقطع يده، فقال أبو يوسف: لا لأنه لم يقر بالسرقة، وإنما أقر بالأخذ، فادعى المدعي أنه سرق، فأقر بها فأفتوا بالقطع، وخالفهم أبو يوسف، فقالوا له: لم قال: لأنه لما أقر أولا بالأخذ ثبت الضمان عليه، وسقط القطع فلا يقبل إقراره بعده بما يسقط الضمان عنه فتعجبوا منه.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 139):
ولا يضمن الغاصب منافع الغصب وقال الشافعي يضمن منافع الغصب؛ لأنها مال متقوم مضمون بالعقد كالأعيان ولنا أنها حصلت على ملك الغاصب فحدوثها في يده إذ هي لم تكن حادثة في يد المالك؛ لأنها أعراض لا تبقى فيملكها دفعا للحاجة والإنسان لا يضمن ملك نفسه.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
١١/۵/۱۴۴٦ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


