03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سرکاری ملازم کی وفات کی صورت میں گروپ انشورنس کی مد میں ملنے والی رقم کاحکم
85580میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مرحومہ(سرکاری ملازم) کی وفات کے بعد گورنمنٹ کی طرف سے گروپ انشورنس کی مد میں 3 لاکھ روپے ہیں ،برائے مہربانی اس کی تقسیم ورثاء میں کیسے ہوگی؟شریعت کے مطابق مکمل وضاحت سے رہنمائ فرمادیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اصولی بات یہ ہے کہ جو رقم(خواہ کسی بھی فنڈ سے متعلق ہو)ملازم(مرحوم)کی ملکیت میں اس کی زندگی میں تھی یا کم ازکم اس رقم پر ملازم کا زندگی میں استحقاق ثابت ہوچکا تھا وہ رقم ترکہ میں شامل ہوگی اور جو رقم ملازم کی ملکیت میں نہ ہو اور نہ اس پر زندگی میں استحقاق ثابت ہوا ہو،ایسی رقم ادارے کی طرف سے عطیہ شمار ہوگی اور ترکہ میں شامل نہیں ہوگی،عطیہ ہونے کی صورت میں ادارہ اپنی پالیسی کے مطابق ملازم (مرحوم) کے جن رشتہ داروں کو یہ رقم دے گا وہی اس کے مالک ہوں گے،کسی اور کو ان سےمطالبے کا حق نہیں ہوگا۔       

            حاصل شدہ معلومات کے مطابق گروپ انشورنس کے حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ گروپ انشورنس کی مد میں ایک معمولی رقم ملازم کی تنخواہ سے کاٹی جاتی ہے اوراس فنڈکے لیے بورڈ آف ٹرسٹیز قائم کیاجاتا ہے، یہ فنڈ اس بورڈ کی تحویل میں ہوتا ہے اور اس بورڈ کے بارے میں ایکٹ بینوولنٹ فنڈ اینڈ گروپ انشورنس 1969ء کی دفعہ نمبر5 میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ "یہ ایک کارپوریٹ باڈی ہے، جو ایک شخصِ قانونی (Legal Person)کے طور پر جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ کا مالک بن سکتا ہے، خریدوفروخت کر سکتا ہے اور مقدمات میں مدعی اور مدعی علیہ بن سکتا ہے، لہٰذا ملازم کی طرف سے اس بورڈ کو دی جانے والی رقم تبرع  کے طور پراس بورڈ کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے،جس کا مقصد یہ ہوتا ہےکہ ادارہ  یہ رقم اپنے مجموعی فنڈ(جس میں مرکزی حکومت، دیگراداروں کی طرف سے دی گئی رقوم اور پرائیویٹ افراد اور اداروں کی طرف سے دیے گئے عطیات بھی شامل ہوتے ہیں) میں شامل کرکےمستحق ملازمین (خواہ وہ ان فنڈز کے استحقاق کے لیے اپنی تنخواہ سےکٹوتی کرواتے ہوں یا نہ کرواتےہوں) کے ساتھ تعاون کرے، لہذا یہ فنڈ ملازمین کی شخصی یا اجتماعی ملکیت نہیں ہے اور نہ ہی کسی ملازم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ زندگی میں  بہرصورت اس فنڈ میں سےکسی حصے کا مطالبہ کرے۔

            اگر یہ کہا جائے کہ اس فنڈ میں جو رقم ملازم کی تنخواہ سے کاٹی جاتی ہے وہ تو اس کا حقِ لازم بن چکا ہے تو وہ تبرع کیسے ہوا؟ تو اس کا جواب یہ کہ ملازم کا معاہدہ کے وقت اس کٹوتی کی شرط کے ساتھ ملازمت کو قبول کرنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ اس پر راضی ہے کہ حکومت مخصوص مقدار میں اس کی تنخواہ سے کٹوتی کر کے اپنے اصول وضوابط کے مطابق مستحقین کو یہ رقم دے۔ لہٰذا اگرچہ یہ رقم ملازم کی تنخواہ سے عام طورپرجبری طور پر کاٹی جاتی ہے، مگر ملازم کا اس رقم پر استحقاق نہیں ہوتا، بلکہ بورڈ آف ٹرسٹیز اپنے اصول وضوابط کے مطابق اس فنڈ کو خرچ کرتا ہے اور اس کے حقدار صرف مستحق لوگ ہوتے ہیں۔

گروپ انشورنس کی رقم ملازم کی فیملی کو صرف ملازم کی وفات کی صورت میں دی جاتی ہے، خواہ اس کا انتقال دورانِ ملازمت ہو یا ریٹائرمنٹ کے بعد۔ البتہ اگر کوئی ملازم اس فنڈمیں اپنی تنخواہ سے کٹوتی نہ کروائے تو بھی اس کی فیملی کو قانون کے مطابق یہ فنڈبطورِ تعاون عطیہ کیے جاتے ہیں۔(ماخذہ بتصرف عدالتی فیصلے ج:2ص213تا217 از مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم)

واضح رہے کہ یہاں تنخواہ سے کٹوتی کے عوض فنڈ دینے  پر  عقدِ معاوضہ کا اشکال وارد نہیں ہوتا، کیونکہ یہ فنڈ ان ملازمین کو بھی ملتا ہے جو اپنی سستی یا کوتاہی کی بنیاد پر تنخواہ سے کٹوتی نہ کرواتے ہوں، البتہ ایسے ملازمین کو دیتے وقت اتنی رقم کاٹ لی جاتی ہے جتنی تنخواہ سے کٹوانا ضروری تھا۔ دوسری بات یہ کہ اس فنڈ میں صرف ملازمین کی تنخواہ کی کٹوتی شامل نہیں ہوتی، بلکہ اس میں مرکزی حکومت اور دیگر خود مختار اداروں کی دی ہوئی گرانٹ اور عطیات بھی شامل ہوتے ہیں۔

مذکورہ تفصیل کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ گروپ انشورنس  کی رقم پر ملازم کا زندگی میں استحقاق ثابت نہیں ہوتا،(بشرطیکہ مرحوم سرکاری ملازم ہو، اگر کسی پرائیوٹ ادارے کا ملازم ہو تو اس کے اصول وضوابط کے مطابق حکم لگے گا) اس لیے ادارہ اپنے اصول وضوابط کے مطابق جس کو مالک بنا کر یہ رقم دےگاوہی اس کا مالک ہو گا، تمام ورثاء اس کے حق دار نہیں ہوں گے، نیز گروپ انشورنس میں  ملازم کی تنخواہ سے کاٹی جانے والی رقم اور جو اضافی رقم بورڈ آف ٹرسٹی نے ملازم کی طرف سے انشورنس کمپنی کے پاس جمع کروائی ہو اتنی رقم ورثاء کے لیے لینا تو بہرحال جائز ہے،البتہ مذکورہ جواز اس بات سے مشروط ہے کہ گروپ انشورنس کی صورت میں،ملازم کا قانونی حق نہ ہو کہ فوتگی کی صورت میں اس کے ورثاء کو ضرور اس فنڈ سے اضافی رقم دی جائے گی اور دوسری طرف فنڈ انتظامیہ پر بھی قانوناً لازم نہ ہو کہ گروپ انشورنس میں حصہ لینے والے ملازم کے وارث کے ساتھ لازمی طور پر تعاون کریں،بلکہ تعاون کے سلسلے میں کمیٹی کے صوابدیدی فیصلے پر ہی مدار ہو۔اس کے علاوہ  انشورنس کمپنی کی طرف سے دی جانے والی  اضافی رقم کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر حکومتی ادارہ انشورنس کمپنی سے وصول کر کے اپنے خزانہ(مشتركہ اکاؤنٹ) میں شامل کر کے دے تو اضافی رقم کا لینا بھی جائز ہے، لیکن اگر یہ رقم انشورنس کمپنی سے خود وصول کرنا پڑتی ہو تو اس صورت میں یہ اضافی رقم لینا جائز نہیں، کیونکہ  انشورنس کمپنی کی طرف سے بلاواسطہ دی جانے والی اضافی رقم سود اور جوئے کا عنصر پائے جانے کی وجہ سے حرام ہے۔(ماخوذ از تبویب بتغییر یسیر/81105)

حوالہ جات

الفقه الإسلامي وأدلته (10/ 372)

الإرث لغة: بقاء شخص بعد موت آخر بحيث يأخذ الباقي ما يخلفه الميت. وفقهاً: ما خلفه الميت من الأموال والحقوق التي يستحقها بموته الوارث الشرعي.

الأشباه والنظائر - حنفي (ص: 331)العطاء لا يورث كذا في صلح البزازية.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 92)

(قوله ولا من مات فيها وبعد الإحراز بدارنا يورث نصيبه) لأن الإرث يجري في الملك ولا ملك قبل الإحراز وإنما الملك بعده كما قدمناه صرحوا في كتاب الوقف أن معلوم المستحق لا يورث بعد موته على أحد القولين وفي قول يورث ولم أر ترجيحا وينبغي أن يفصل فإن كان مات بعد خروج الغلة وإحراز الناظر لها قبل القسمة يورث نصيب المستحق لتأكد الحق فيه فإن الغنيمة بعد الإحراز بدارنا يتأكد الحق فيها للغانمين ولا ملك لواحد بعينه في شيء قبل القسمة مع أن النصيب يورث فكذا في الوظيفة وإن مات قبل الإحراز في يد المتولي لا يورث نصيبه قياسا على مسألة الغنيمة وسيأتي أن من مات من أهل الديوان قبل خروج العطاء لا يورث نصيبه سواء مات في نصف السنة أو آخرها.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

 ۱۱.جمادی الاولی۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب