03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ملازم کی وفات کی صورت میں جی پی(General Provident Fund)فنڈ کی مد میں ملنے والی رقم کاحکم
85581میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مرحومہ(سرکاری ملازم) کی وفات کے بعد گورنمنٹ کی طرف سے جی پی فنڈ کی مد میں 8 ہزار روپے ہیں،برائے مہربانی اس کی تقسیم ورثاء میں کیسے ہوگی ؟ شریعت کے مطابق مکمل وضاحت سے رہنمائ فرمادیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اصولی بات یہ ہے کہ جو رقم(خواہ کسی بھی فنڈ سے متعلق ہو)ملازم(مرحوم)کی ملکیت میں اس کی زندگی میں تھی یا کم ازکم اس رقم پر ملازم کا زندگی میں استحقاق ثابت ہوچکا تھا وہ رقم ترکہ میں شامل ہوگی اور جو رقم ملازم کی ملکیت میں نہ ہو اور نہ اس پر زندگی میں استحقاق ثابت ہوا ہو،ایسی رقم ادارے کی طرف سے عطیہ شمار ہوگی اور ترکہ میں شامل نہیں ہوگی،عطیہ ہونے کی صورت میں ادارہ اپنی پالیسی کے مطابق ملازم (مرحوم) کے جن رشتہ داروں کو یہ رقم دے گا وہی اس کے مالک ہوں گے،کسی اور کو ان سےمطالبے کا حق نہیں ہوگا۔

حاصل شدہ معلومات کے مطابق جی پی فنڈ کی رقم ملازم کی اپنی تنخواہ سے کٹوتی کی ہوئی رقم ہوتی ہے،کبھی یہ کٹوتی جبراً ہوتی ہے اور کبھی اختیاری، اس رقم کی ادائیگی ریٹائرمنٹ کے بعد کی جاتی ہے، ملازم ملازمت کے دوران بھی یہ رقم لے سکتا ہے، البتہ پھر وہ رقم واپس کرنا ضروری ہوتا ہے، تاکہ ریٹائرمنٹ کے بعد یکمشت رقم لے سکے، لیکن یہ بات طے ہے کہ جی پی فنڈ کی رقم پر ملازم کا استحقاق ثابت ہو جاتا ہے، نیزیہ رقم کسی متعین وارث کو نہیں دی جاتی، بلکہ اس میں سب ورثاء حق دار ہوتے ہیں،لہٰذا یہ رقم ترکہ میں شامل ہوکرشرعی حصص کے مطابق تمام ورثاء میں تقسیم کی جائے گی۔(ماخوذ از تبویب بتغییر /81105)

حوالہ جات

الفقه الإسلامي وأدلته (10/ 372)

الإرث لغة: بقاء شخص بعد موت آخر بحيث يأخذ الباقي ما يخلفه الميت. وفقهاً: ما خلفه الميت من الأموال والحقوق التي يستحقها بموته الوارث الشرعي.

الأشباه والنظائر - حنفي (ص: 331)

العطاء لا يورث كذا في صلح البزازية.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

 ۱۱.جمادی الاولی۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب