03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
علاج کے بعد انشورنس کمپنی سے ڈاکٹرز کو رقم دلوانے کا حکم
89026سود اور جوے کے مسائلانشورنس کے احکام

سوال

میری نوکری میڈیکل بلنگ کے شعبے میں ہے، میرا کام یہ ہے کہ میں ڈاکٹر یا کلینک کی طرف سے مریض کے انشورنس کو کلیم جمع کرتا ہوں، پھر ادائیگی آنے کا انتظار کرتا ہوں، اور اگر ادائیگی نہ ہو تو انشورنس کمپنی کو کال کرکے وجہ دریافت کرتا ہوں۔ میں خود انشورنس پالیسی بیچنے، پالیسی بنانے یا کسی سودی سرمایہ کاری میں شریک نہیں ہوں، صرف میرا کام یہ ہے کہ مریض کا علاج ہونے کے بعد اس کا کلیم انشورنس کمپنی کو جمع کروا کے ڈاکٹر/کلینک کو پیمنٹ دلوانا۔ اس سلسلے میں ڈاکومنٹ وغیرہ سب ہم ہی فل کر کے انشورنس کمپنی کو بھیجتے ہیں، کیا میرا یہ کام شرعاً حلال ہے یا حرام؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں چونکہ آپ انشورنس کمپنی سے سود اور جوئے کی رقم ڈاکٹرز کو دلوانے کی ذمہ داری سرانجام دیتے ہیں، جبکہ سود اور جوئے کی رقم شرعی اعتبار سے حرام اور ناجائز ہے، جس کا لینا اور دینا ہرگز جائز نہیں، اس لیے آپ کا اس حرام رقم کے دلوانے کی ڈیوٹی سرانجام دینا بھی شرعاً ناجائز اور گناہ ہے، کیونکہ آپ اس معصیت اور گناہ کبیرہ کے کام میں معاونت کر رہے ہیں اور شریعت میں گناہ کے کاموں میں معاونت سے منع فرمایا گیا ہے، لہذا آپ جلد از جلد کوئی اور ملازمت اختیار کر کے اس کام کو چھوڑ دیں۔

حوالہ جات

صحیح المسلم(2/27):

عن جابر قال لعن رسول اللہ ﷺ اٰکل الربا و موکلہ و کاتبہ و شاھدہ و قال ھم سواء اھ

تکملۃ فتح الملھم : (1/619):

 قولہ "و کاتبہ " لأن کتابۃالربا إعانۃ علیہ و من ھنا ظھر أن التوظف فی البنوک الربویۃ لایجوز؛ فإن کان عمل الموظف فی البنک مایعین علی الربا کالکتابۃ أو الحساب فذالک حرام لوجھین : الأول : إعانۃ علی المعصیۃ و الثانی : أخذالأجرۃ من المال الحرام فإن معظم دخل البنوک حرام مستجلب بالربا و أما إذا کان العمل لاعلاقۃ لہ بالربا؛ فانہ حرام للوجہ الثانی فحسب فإذا وجد بنک معظم دخلہ حلال جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الأعمال اھ

الفقه الإسلامي وأدلته (4/234) الناشر: دار الفكر - سوريَّة - دمشق:

رابعاً ـ الإجارة للكنيسة أو حمل خمر الذمي:

قال الصاحبان والأئمة الثلاثة: لا ينبغي كل تلك الإجارات، وهي مكروهة؛ لأنها إعانة على المعصية، ولأنه عليه الصلاة والسلام لعن في الخمر عشرة، وعد منها «حاملها» واعتبر أبو حنيفة الحديث محمولاً على الحمل المقرون بقصد المعصية. وعلى كل حال فرأي أبي حنيفة قياس. ورأي الصاحبين استحسان. وهو المعول عليه في كثير من الفتاوى.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

23/جمادی الاولیٰ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب