| 85515 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سوال: حامد کا انتقال ہو گیا ہے اور اس کے ورثہ میں ایک بیٹا، احمد، اور ایک بیٹی، فاطمہ، شامل ہیں۔ حامد نے اپنی جائیداد میں سے کچھ بھی فاطمہ کو نہیں دیا اور ساری جائیداد احمد کو دے دی۔ کچھ عرصے بعد، احمد کا بھی انتقال ہو جاتا ہے۔ احمد کے ورثہ میں اس کی اپنی دو بیٹیاں، عائشہ اور زینب، شامل ہیں۔ احمد کی بہن، فاطمہ اس موقع پر بھی حامد کی وراثت میں اپنے حصے سے محروم رہی۔ بعد میں فاطمہ کا بھی انتقال ہو گیا اور اس کے بعد فاطمہ کا بیٹا، علی اپنی والدہ (فاطمہ) کے حصے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ نہ تو حامد نے اپنی وراثت کی وصیت کی تھی اور نہ ہی احمد نے اپنی جائیداد کے بارے میں کوئی وصیت کی تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ:
1. کیا فاطمہ کو اپنے والد، حامد کی جائیداد میں سے حصہ ملنا چاہیے تھا، جس سے اسے محروم رکھا گیا تھا اور کیا اب فاطمہ کے بیٹے، علی کا اس پر حق بنتا ہے؟
2. کیا احمد کی اپنی جائیداد میں بھی فاطمہ کا (اور اس کے انتقال کے بعد علی کا) حصہ بنتا ہے؟
3. جب کہ کوئی وصیت نہیں کی گئی تو وراثت کی تقسیم کس طرح ہوگی؟
تنقیح : سائل نے بتایا کی حامد نے اپنی ساری جائیداد احمد کو ملکیت کے طور پر دی تھی اور قبضہ بھی کروادیاتھا ،نیز یہ بھی بتایا کہ احمد کی دو بیٹیاں ،ایک بہن اور دو بیویاں ہیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1. مذکورۃبالا تفصیل کے مطابق حامد نےاپنی زندگی میں جو جائیداد احمد کو مالک بنا کر دی تھی اور قبضہ بھی کروادیا تھاتو وہ احمد کی ہوگئی تھی۔حامد کے فوت ہونے پر وہ جائیداد حامد کے ترکے میں شمار نہیں ہوگی، لہذا اس میں فاطمہ کا کوئی حق نہیں بنتا۔
2.احمد کی اپنی جائیداد میں فاطمہ کا حصہ بنتا ہے جس کی تفصیل نیچے دیے گئے نقشہ میں مذکور ہے ۔
3.احمد کی وراثت ان کی دو بیٹیوں، ایک بہن اور دو بیویوں کے درمیان اس طور پر تقسیم ہوگی کہ کل مال کے 48حصے بنائے جائیں گے ،ان میں سےہر بیوی کو تین تین حصہ ، ہربیٹی کو سولہ سولہ حصے اوربہن کو دس حصےدیے جائیں گے ، جبکہ فیصدی لحاظ سے ہر بیوی کو 6.25 فیصد ، ہربیٹی کو 33.33فیصد اور بہن کو20.83 فیصد ملے گا ۔آسانی کے لیے نقشہ ملاحظہ ہو :
|
نمبر شمار |
ورثہ |
کل :48حصہ |
100فیصد |
|
1 |
بیوی |
3 |
6.25 |
|
2 |
بیوی |
3 |
6.25 |
|
3 |
بیٹی |
16 |
33.33 |
|
4 |
بیٹی |
16 |
33.33 |
|
5 |
بہن |
10 |
20.83 |
حوالہ جات
وفي الھندیۃ: وأما النساء فالأولى البنت ،ولها النصف إذا انفردت وللبنتين فصاعدا الثلثان، كذا في الاختيار شرح المختار.(فتاوي الھندیۃ : 6/448)
وفي الھندیۃ: وللزوجة الربع عند عدمهما والثمن مع أحدهما، والزوجات والواحدة يشتركن في الربع والثمن ،وعليه الإجماع، كذا في الاختيار شرح المختار. (فتاوي الھندیۃ : 6/450)
قال العلامة الزیلعي رحمه الله: أما تعصيب الإخوة لهن فظاهر لما تلونا، وأما تعصيب البنت لهن وبنت الابن ؛فلقوله عليه الصلاة والسلام (اجعلوا الأخوات مع البنات عصبة) (وورث معاذ رضي الله عنه في اليمن بنتا وأختا، فجعل لكل واحدة منهما النصف، ورسول الله صلى الله عليه وسلم حي يومئذ)وروي (أنه عليه الصلاة والسلام قضى في ابنة وابنة ابن وأخت للبنت النصف ولابنة الابن السدس والباقي للأخت) وجعل المصنف رحمه الله البنت ممن يعصب الأخوات، وهو مجاز.(تبیین الحقائق :6/236)
قال العلامة ابن نجیم رحمه الله: وإن وهب ماله كله لواحد جاز قضاء ،وهو آثم ،كذا في المحيط. (البحر الرائق : 7/288)
وفي الھندیۃ: رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثما فيما صنع، كذا في فتاوى قاضي خان. وإن كان في ولده فاسق لا ينبغي أن يعطيه أكثر من قوته كي لا يصير معينا له في المعصية، كذا في خزانة المفتين. (فتاوي الھندیۃ :4/391)
محمد یونس بن امین اللہ
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
18 جمادى الأول، 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد یونس بن امين اللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


