03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بندوق کے شکارکاحکم
85450ذبح اور ذبیحہ کے احکام شکار سے متعلق مسائل

سوال

گندم کی فصل کے دوران کھیتوں میں بڑی تعداد میں پرندے (چڑیاں) آتی ہیں، ہم کبھی کبھار شکار کے لیے جاتے ہیں، اور اکثر یہ پرندے گندم پر بیٹھے ہوتے ہیں،  جب ہم کارتوس والی بندوق سے شکار کرتے ہیں تو ایک کارتوس سے تقریباً 40 سے 50 پرندے شکار ہو جاتے ہیں، ہم جلدی میں زندہ پرندوں پر تکبیر پڑھ کر ذبح کر دیتے ہیں، جبکہ بعض پرندے بندوق کی آواز سے ہی مر جاتے ہیں اور بعض کھیت میں گر کر گم ہو جاتے ہیں، جو بعد میں ملتے ہیں۔ ہم ان ملنے والے مردہ پرندوں پر بھی تکبیر کہہ لیتے ہیں۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ ایسے پرندے کھانا جائز ہیں یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بندوق کی گولی سے کیا ہوا شکار اگر ذبح سے پہلے مر جائے تو اس کا کھانا جائز نہیں ہوگا۔ البتہ اگر گولی سے شکار کرنے کے بعد جانور زندہ زخمی حالت میں مل جائے اور اسے اللہ کا نام لے کر ذبح کر دیا جائے تو اس کا کھانا جائز ہوگا۔ عام گولیوں کے لیے یہی حکم ہے، لیکن اگر بندوق کی گولی محدد (نوک دار)، دھاری دار ہو یا نوک دار چھرے والا کارتوس ہو، تو ایسی نوک دار گولی سے کیا گیا شکار حلال ہوگا۔ لہٰذا اگر اللہ کا نام لے کر ایسی گولی جانور پر چلائی جائے اور گولی لگنے کے بعد جانور پر قابو پانے سے پہلے ہی وہ مر جائے، تو اس شکار کا کھانا درست ہوگا۔

حوالہ جات

فی الهداية في شرح بداية المبتدي :(ج 5 / ص 229)

ولا يؤكل ما أصابته البندقة فمات بها؛ لأنها تدق وتكسر ولا تجرح فصار كالمعراض إذا لم يخزق، وكذلك إن رماه بحجر، وكذا إن جرحه قالوا: تأويله إذا كان ثقيلا وبه حدة لاحتمال أنه قتله بثقله، وإن كان الحجر خفيفا وبه حدة يحل لتعين الموت بالجرح، ولو كان الحجر خفيفا، وجعله طويلا كالسهم وبه حدة فإنه يحل؛ لأنه يقتله بجرحه، ولو رماه بمروة حديدة ولم تبضع بضعا لا يحل؛ لأنه قتله دقا، وكذا إذا رماه بها فأبان رأسه أو قطع أوداجه؛ لأن العروق تنقطع بثقل الحجر كما تنقطع بالقطع فوق الشك أو لعله مات قبل قطع الأوداج، ولو رماه بعصا أو بعود حتى قتله لا يحل؛ لأنه يقتله ثقلا لا جرحا، اللهم إلا إذا كان له حدة يبضع بضعا فحينئذ لا بأس به؛ لأنه بمنزلة السيف والرمح.

والأصل في هذه المسائل أن الموت إذا كان مضافا إلى الجرح بيقين كان الصيد حلالا، وإذا كان مضافا إلى الثقل بيقين كان حراما، وإن وقع الشك ولا يدري مات بالجرح.

وفی رد المحتار: (ج 1 / ص 29)

قوله: (أو بندقة) بضم الباء والدال: طينة مدورة يرمى بها.قوله: (ولو كانت خفيفة) يشير إلى أن الثقيلة لا تحل وإن جرحت.قال قاضيخان: لا يحل صيد البندقة والحجر والمعراض والعصا وما أشبه ذلك وإن جرح، لانه لا يخرق إلا أن يكون شئ من ذلك قد حدده وطوله كالسهم وأمكن أن يرمى به، فإن كان كذلك وخرقه بحده حل أكله، فأما الجرح الذي يدق في الباطن ولا يخرق في الظاهر لا يحل لانه لا يحصل به إنهار الدم، ومثقل الحديد وغير الحديد سواء، إن خزق حل وإلا فلا.

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

14 ٖجماد الاولی1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب