| 85514 | گروی رکھنے کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
ایک آدمی نے زمین رہن میں دینے کے ایک سال بعد ندی اس زمین کو لے گیا ۔اس زمین کا وجود ہی ختم ہوگیا ۔ اب مرتہن زمین واپس کۓ بغیر راہن کے اولاد سے پیسے مانگتے ہیں ۔ چونکہ راہن فی الحال زندہ نہیں ہے ۔ اب راہن کے اولاد کیا کریں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مذکورہ میں زمین جب ہلاک ہوئی اس وقت مرتہن کے ہاتھ میں تھی تو اس کا قرض کی حد تک ضمان بھی مرتہن پر ہے۔لہذا زمین کی قیمت اگرمرتہن کے پیسوں کے برابر یا زیادہ تھی تو زمین کےبدلےمرتہن کی رقم کاٹ دی جائے گی،البتہ اگرزمین کی قیمت کم اور مرتہن کی رقم زیادہ ہو تواس سے زمین کی قیمت کاٹ کرمرتہن صرف باقی رقم کا مطالبہ راہن کی اولاد سے کرسکتا ہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ :و وإذاھلک یھلک بالأقل من قیمتہ ومن الدین. (بدائع الصنائع:136/6)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ :(وهو مضمون إذا هلك بالأقل من قيمته ومن الدين )(فإن) هلك و (ساوت قيمته الدين صار مستوفيا) دينه (حكما، أو زادت كان الفضل أمانة) فيضمن بالتعدي (أو نقصت سقط بقدره ورجع) المرتهن (بالفضل) لأن الاستيفاء بقدر المالية. ) رد المحتار : 6 / 479)
قال العلامۃ المرغینانی رحمہ اللہ :وهو مضمون بالأقل من قيمته ومن الدين، فإذا هلك في يد المرتهن، وقيمته والدين سواء صار المرتهن مستوفيا لدينه، وإن كانت قيمة الرهن أكثر فالفضل أمانة في يده؛ لأن المضمون بقدر ما يقع به الاستيفاء وذاك بقدر الدين "وإن كانت أقل سقط من الدين بقدره ورجع المرتهن بالفضل؛ لأن الاستيفاء بقدر المالية. (الهداية :4/ 414)
محمدادریس
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
10جمادی الأولی 1446/ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن غلام محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


