03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد، بھائیوں کی رقم اور بھابھیوں کے زیورات سے خریدے گئے مکان کا حکم
85588میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

 ہم سات بہنیں اور چار بھائی ہیں۔ ہماری والدہ کا انتقال 2018 میں ہوا اور والد کا انتقال 2021 میں ہوا۔ ہمارے والد کے نام پر ایک پلاٹ تھا، جو کہ والد اور بھائیوں کی رقم اور ہماری بھابھیوں کے زیورات فروخت کرکے والد کے نام پر خریدا گیا تھا۔ اس کے بعد ہمارے دو بھائیوں نے والد سےجھوٹ اور دھوکہ دہی کے ذریعے گفٹ پیپر پر دستخط کروا کر پلاٹ اپنے نام کر لیا تھا۔ بعد میں والد نے بھائیوں سے کہا تھا کہ وہ گفٹ پیپر کو پھاڑ کر پھینک دیں، لیکن بھائیوں نے ایسا نہیں کیا۔ تو معلوم یہ کرنا ہے کہ:

اس پلاٹ پر، جس پر بھائیوں نے اپنی رقم سے تعمیر کروائی ہے، کیا ہم سات بہنوں اور باقی دو بھائیوں کا حصہ ہے یا نہیں؟اور اسی طرح، جو زیور بھابھیوں کے فروخت ہوئے تھے پلاٹ کی خریداری کے لیے، کیا ان کا حصہ ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کیا وہ اس وقت کے حساب سے ہوگا جب زیور فروخت ہوئے تھے یا اتنی رقم دی جائے گی جتنی پلاٹ میں لگی ہوئی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر  یہ سچ ہے کہ دو بھائیوں نے جھوٹ اور دھوکہ دہی کے ذریعے گفٹ پیپر پر والد کے دستخط لیے تھے اور حقیقت میں والد نے یہ مکان ان کوگفٹ نہیں کیاتھااور قبضہ نہیں کرایا تھا، تو اس صورت میں یہ بھائیوں کو گفٹ نہیں ہوا۔

اگر بھائیوں نے اپنی اور بھابھیوں نے زیورات کی رقم والد کو گفٹ کر دی تھی، تو پھر یہ پورا مکان میراث میں جائے گا اور سب ورثاء میں تقسیم ہوگا۔

اور اگر بھائیوں اور بھابھیوں نے رقم مرحوم والد کو قرض دی تھی، تو پھر اتنی ہی رقم ان کو ترکہ سے لوٹائی جائے گی اور مکان پورا میراث میں جائے گا۔

اور اگر بھائیوں نےاپنی رقم اور بھابھیوں نے زیورات کی رقم مکان میں حصہ لینے کے لیے والدکودی تھی، تو پھر یہ مکان والد، بھائیوں اور بھابھیوں کامشترکہ ہوگااورہرایک اس میں اپنے سرمایہ کے تناسب سے شریک ہوگا، جس نے جتنی رقم لگائی ہوگی، وہ اتنی نسبت سے اس مکان کا مالک ہوگا اور صرف والد والے حصے میں میراث جاری ہوگی۔

اب آپ کے سوال کا مختصر جواب درج ذیل ہے:

 بھائیوں اور بھابھیوں نے اگر اپنی اپنی رقم والدکو گفٹ کی تھی یا یارقم قرض دی تھی اس صورت میں یہ پورامکان

میراث شمارہوگااور سب بہن بھائیوں کا اس مکان میں حصہ ہوگا۔ البتہ قرض کی صورت میں پہلے ترکہ سے بھائیوں اور بھابھیوں کی رقم نکالی جائے گی اور پھر باقی میں میراث جاری ہوگی۔ اور اگرمذکورہ رقم بھائیوں اور بھابھیوں نے مکان میں حصہ دار بننےکی نیت سے دی تھی، تو پھر صرف والد والے حصے میں سب ورثاء کا حق ہوگا۔لہذاپہلے بھائیوں اوربھابھیوں والاحصہ الگ کرکے ان کودیاجائے گا اوراس کے بعدجوبچے وہ والد والاحصہ ہوگا جس میں سب شرعی ورثہ کاحصہ ہوگا۔

حوالہ جات

فی صحيح مسلم (1/ 99)

عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا»

حاشية ابن عابدين - (5 / 692)

وفی مسند احمد:

ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، إنه لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه(مسند احمد :۳۴؍۲۹۹،رقم: و۲۰۶۹۵)

رد المحتار(5/688)

(قوله: هو الإيجاب) وفي خزانة الفتاوى: إذا دفع لابنه مالا فتصرف فيه الابن يكون للأب إلا إذا دلت دلالة التمليك بيري.قلت: فقد أفاد أن التلفظ بالإيجاب والقبول لا يشترط، بل تكفي القرائن الدالة على التمليك كمن دفع لفقير شيئا وقبضه، ولم يتلفظ واحد منهما بشيء، وكذا يقع في الهداية ونحوها فاحفظه. وذكر قبله هبة المشاع فيما يقسم لا تفيد الملك عند أبي حنيفة وفي القهستاني لا تفيد الملك وهو المختار كما في المضمرات وهذا مروي عن أبي حنيفة وهو الصحيح .

خلا صة الفتاوى (4,390)

ومن شرائط الهبة الافراز حتى لايجوز هبة المشاع فيما يحتمل القسمة كالبيت والدار والارض ونحوها وان كان لا يحتمل القسمة يجوز كالبئر والحمام والرحى

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 56)

الشركة في الأصل نوعان: شركة الأملاك، وشركة العقود وشركة الأملاك نوعان: نوع يثبت بفعل الشريكين، ونوع يثبت بغير فعلهما.(أما) الذي يثبت بفعلهما فنحو أن يشتريا شيئا، أو يوهب لهما، أو يوصى لهما، أو يتصدق عليهما، فيقبلا فيصير المشترى والموهوب والموصى به والمتصدق به مشتركا بينهما شركة ملك.

المبسوط للسرخسي (11/ 151)

(ثم) الشركة نوعان: شركة الملك وشركة العقد. (فشركة الملك) أن يشترك رجلان في ملك مال، وذلك نوعان: ثابت بغير فعلهما كالميراث، وثابت بفعلهما، وذلك بقبول الشراء، أو الصدقة أو الوصية. والحكم واحد، وهو أن ما يتولد من الزيادة يكون مشتركا بينهما بقدر الملك، وكل واحد منهما بمنزلة الأجنبي في التصرف في نصيب صاحبه.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 229)

والمراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه، وإن كان حق الغير متعلقا بعينه كالرهن والعبد الجاني والمشترى قبل القبض فإن صاحبه يتقدم على التجهيز كما في حال حياته.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

24/جمادی الاولی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب