| 85589 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے ابو کے انتقال کے وقت ان پر تقریباً ایک لاکھ روپے کا قرض تھا اور وہ قرض اس وجہ سے چڑھ گیا تھا کہ ابو اور بھائی ایک ساتھ الیکٹریشن کی دکان پر کام کرتے تھے۔ تو کام کے حوالے سے ہی قرض چڑھ گیا تھا، جبکہ دکان کی مکمل آمدنی بھائی کے پاس ہی جاتی تھی۔ تو اب معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ ایک لاکھ کا قرض وہی بھائی ادا کرے گا جو ابو کے ساتھ کام کرتا تھا اور دکان کی مکمل آمدنی خود رکھتا تھا، یا پھر ابو کی وراثت میں سے پہلے قرض ادا کیا جائے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر مذکورہ کاروبار کی ملکیت آپ کے والد کی تھی اور بھائی بطور معاون یا مزدور کے کام کرتا تھا، تو پھر یہ قرض والد پر ہونے کی وجہ سے ان کے ترکہ سے ادا کیا جائے گا۔ اور اگر کاروبار کی ملکیت بھائی کی تھی اور والد بطور تعاون کام کرتا تھا، تو پھر یہ قرض صرف بھائی ادا کرے گا۔ اور اگر کاروبار دونوں کا مشترکہ تھا، تو سرمایہ کے تناسب سے قرض تقسیم ہوگا، اور جو والد کے حصے میں آئے گا، صرف وہ قرض والد کے ترکہ سے ادا کیا جائے گا، باقی وہی شریک بھائی ادا کرے گا۔
حوالہ جات
مصنف ابن أبي شيبة - (ج 4 / ص 364)
حدثنا أبو بكر قال حدثنا إسماعيل بن علية عن الليث والشعبي وإبراهيم قالوا إذا مات الرجل وعليه دين إلى أجل فقد حل دينه.
قال في كنز الدقائق (ص:696, المكتبة الشاملة) :
"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..."
البحرالرائق(5/188) :
ولنا قوله عليه السلام: الربح على ما شرطا، والوضيعة على قدر المالين.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
24/5/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


