03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نماز جنازہ کی ویڈیو بنانے میں پیسے خرچ کرنے کا حکم
85642جنازے کےمسائلایصال ثواب کے احکام

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم مفتی صاحب! میرا نام فارد ہے اور میں جنوبی امریکہ کے ملک سرینام سے ہوں۔ مجھے امید ہے کہ یہ آپ تک ایمان اور صحت کی بہترین حالت میں پہنچے گا ۔اس وقت ویڈیو فلم بندی اور ڈیجیٹل فوٹو ایک بڑا مسئلہ ہے، جیسا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں علمائے کرام کے درمیان اختلاف ہے۔ میں جہاں رہتا ہوں، اختلافات سے صرف نظر کرتے ہوئے، ایک مسئلہ یہ ہے کہ جنازے کو لائیو اسٹریم کرنے اور ریکارڈ کرنے کا رجحان بنتا جا رہا ہے۔ لوگ جنازے کو لائیو سٹریم یا ریکارڈ کرنے کے لیے لوگ hire کر رہے ہیں اور یو ٹیوب پر اپ لوڈ کیا جاتا ہے،رشتہ دار بھی اجازت دیتے ہیں۔ میرا سوال اس بارے میں نہیں ہے کہ آیا ایسے پروگرام کی لائیو سٹریمنگ کی ویڈیو ریکارڈنگ جائز ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ مناسب ہے یا نہیں؟ ایک ایسی جگہ جہاں ہمیں موت کے بارے میں سوچنا چاہیے اور میت کے لیے بہت زیادہ ایصال ثواب اور دعا کرنی چاہیے، ہم اپنے آپ کو اس قسم کے کام میں مشغول رکھتے ہیں جو زیادہ تر دکھاوے کے لیے کیا جاتا ہے۔ کیا اس مال کو غریبوں میں صدقہ کرنے سے میّت کو زیادہ فائدہ نہیں ہوگا بنسبت ایسے کاموں میں خرچ کرنے کے؟ شریعت اس معاملے میں کیا کہتی ہے؟ اللہ تعالیٰ حضرت کو ان کی محنت کا اجر عطا فرمائے۔ و السلام

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نماز جنازہ کے دوران اس طرح ویڈیو بنانا اور یوٹیوب پر اپلوڈ کرنا بہت ہی غیر مناسب ہے،جنازے  میں موت اور آخرت کی فکر کرنی چاہیے   ، میت کی مغفرت  اور درجات کی بلندی کے لیے دعائیں  کرنی چاہئیں۔  جنازے کی حالت کی ویڈیو بنانے اور اپلوڈ کرنے پر پیسے خرچ کرنےسے نہ میت کو  فائدہ پہنچتا ہے نہ خرچ کرنے والوں کو ، اس کی بجائے میت کو ایصال ثواب کے لیے  وہ رقم  غریبوں میں تقسیم کرنا چاہیے ، تاکہ میت کو ثواب پہنچے اور  درجات میں ترقی بھی۔

حوالہ جات

قال العلامة ابن عابدین رحمه الله: صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها ،كذا في الهداية، بل في زكاة التتارخانية عن المحيط: الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات ؛لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيء اهـ هو مذهب أهل السنة والجماعة. (ردالمحتار :2/243)

قال العلامة ابن عابدین رحمه الله: وفي البحر: من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة ،كذا في البدائع.  (ردالمحتار : 2/243)

قال العلامة الجلال السیوطي رحمه الله: عن أنس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال :من دخل المقابر فقرأ سورة يس خفف الله عنهم ،وكان له بعدد من فيها حسنات. (شرح الصدور :304)

وقال أیضا : وأخرج أيضا عن ابن عمرو قال :قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا تصدق أحدكم بصدقة تطوعا ،فليجعلها عن أبويه فيكون لهما أجرها ولا ينتقص من أجره شيئا ،وأخرج الديلمي نحوه من حديث معاوية بن حيدة. (شرح الصدور :300)

وقال أیضا : وأخرج الطبراني في الأوسط عن أنس سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ما من أهل بيت يموت منهم ميت، فيتصدقون عنه بعد موته إلا أهداها له جبريل على طبق من نور ثم يقف على شفير القبر فيقول: يا صاحب القبر العميق هذه هدية أهداها إليك أهلك فاقبلها، فتدخل عليه ،فيفرح بها ويستبشر، ويحزن جيرانه الذين لا يهدى إليهم شيء. (شرح الصدور :300)

محمد یونس بن امین اللہ 

دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی

‏23‏ جمادى الأولىٰ، 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد یونس بن امين اللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب