| 90582 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
ہم نے عرب ممالک میں رہنے والے مزدور ،ہوٹل مالکان، ڈرائیور، کھجوروں کے باغات میں کام کرنے والے اور کھیتوں میں کام کر نے والوں کے گھر پر پیسے پہنچا نے کے کام کا آغاز کیا ہے۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ ہمارا ایک نمائندہ وہاں موجود ہوتا ہے جس بندے نے پیسے بھیجنے ہوتے ہیں وہ اس کو فون کر کے آگاہ کرتا ہے تو وہ گاڑی پر جاکر مختلف علاقوں سے پیسے اکٹھے کرتاہے، پھر ہمیں کال کرتاہے ۔ہم یہاں سے ان کے گھر تک پہنچانے کا انتظام کرتے ہیں ،معاملہ ہونے کے بعد ہمارا پاکستان میں موجود نمائندہ فورا پاکستانی روپے میں ادائیگی کردیتا ہے اگرچہ سعودی سے پیسے آنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ زیادہ تر ایزی پیسہ یاجاز کیش کی صورت میں ہوتا ہے۔ کچھ جگہوں پر ہمارا نمائندہ گھر پر نقدی کی صورت میں پہنچا تاہے۔ ہم اس پر ان سے اجرت وصول کرتے ہیں بہت ہی قلیل مقدار میں۔ یہ اجرت ان پیسوں کے علاوہ ہوتی ہے۔ اگر وہ خود شہر میں جاکر یہ کام سر انجام دیں تو ان کو آنے جانے کے اخراجات میں 50 سے 200ریال تک خرچ ہو جاتے ہیں ۔اگر وہ ہم سے بھجوائیں تو 5 سے دس ریال لگتے ہیں ۔ یہ پیسے ہمارے پاس قانونی طور پر بنک میں ٹرانسفر کر دئیے جاتے ہیں ،جب تک رقم وہاں سے ہمارے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر نہیں ہوتی تو اس مقصد کے لیے ہم مختلف انویسٹر سے بات کرکرکے ان کی رقم کو استعمال کرتے ہیں، اور اس پر انہیں اجرت دیتے ہیں ۔ اس سارے معاملے میں ہمیں ایک لاکھ پر 900 بچتے ہیں جو ہم آدھا آدھا تقسیم کر لیتے ہیں کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں آپ کے لیے رقم منتقلی کی سروس فراہم کرنے کی اجرت لینا چند شرائط کے ساتھ جائز ہے، البتہ آپ کا انوسٹر کی رقم استعمال کرکے ان کو اس پر اجرت دینا سود ہے، جوکہ جائز نہیں ۔آپ کو چاہیے کہ لوگوں کو ادائیگی اپنے پاس موجود پیسوں سے یا ان لوگوں کے پیسے اپنے اکاونٹ میں ٹرانسفر ہونے کے بعد یا بغیر اجرت کے کسی سے پیسے لے کر کریں تاکہ مذکورہ خرابی سے بچا جاسکے ۔
رقم منتقلی کے جواز کی شرائط درج ذیل ہیں ۱۔ جس دن یہ معاملہ ہوا ہو اس دن سعودی ریال کی جو قیمت پاکستان میں بنتی تھی اتنی ہی ادا کی جائے۔ اس میں کمی بیشی نہ کی جائے کیونکہ یہ قرض ہے اور جتنا قرض لیا جائے اس کا مثل ہی دا کرنا ضروری ہوتا ہے۔
۲۔دونوں عوضوں میں سے کسی ایک پر مجلس عقد میں قبضہ کیا جائے یعنی سعودی عرب میں موجود معاملہ کرنے والا شخص اس بندے سے معاملہ کرتے وقت ریال لے کر قبضہ کر لے ۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 395):
(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعا ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض، فأما إذا كانت غير مشروطة فيه ولكن المستقرض أعطاه أجودهما؛ فلا بأس بذلك؛ لأن الربا اسم لزيادة مشروطة في العقد، ولم توجد، بل هذا من باب حسن القضاء، وأنه أمر مندوب إليه قال النبي عليه السلام: «خيار الناس أحسنهم قضاء.
فقہ البیوع ﴿2/739﴾:
اما تبادل العملات المختلفة الجنس مثل الربیہ الباکستانیہ بالریا ل السعودی ، فقیاس قول الامام محمد رحمہ اللہ تعالی ان تجوز فیہ النسیئة ایضا ،لان الفلوس لو بیعت بخلاف جنسھا من الاثمان مثل الدراھم فیجوز فیھا التفاضل والنسیئة جمیعا ،بشرط ان یقبض احد البدلین فی المجلس ،لئلا یودی الی الافتراق عن دین بدین ۰۰۰۰ فلاتجوز النسیئة فی الموقف الثانی وتجوز فی الموقف الثالث ھو الذی اخترتہ فی رسالتی احکا م اوراق النقدیہ.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 179)
(باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز) وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز لما مر
قال ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی ؛ لأن ما في الأصل لا يمكن حمله، على أنه لا يشترط التقابض، ولو من أحد الجانبين، لأنه يكون افتراقا عن دين بدين وهو غير صحيح. فيتعين حمله على أنه لا يشترط منهما جميعا بل من أحدهما فقط.
بحوث فی قضایا فقهیة معاصرة (1/175:
واشتراط سعر المثل فی المبادلات له نظائر کثیرة فی الفقه، مثل أجرة کتابة الفتوی، أجازها الفقهاء بشرط أن لایتجاوز فیه عن أجر المثل، وذلك لئلا یتخذ ذلك حیلة لتقاضی الأجرة علی الإفتاء نفسه.
المبسوط للسرخسي (14/ 24):
وإذا اشترى الرجل فلوسا بدراهم ونقد الثمن، ولم تكن الفلوس عند البائع فالبيع جائز؛ لأن الفلوس الرابحة ثمن كالنقود، وقد بينا أن حكم العقد في الثمن وجوبها ووجودها معا، ولا يشترط قيامها في ملك بائعها لصحة العقد كما يشترط ذلك في الدراهم والدنانير.وإن استقرض الفلوس من رجل ودفع إليه قبل الافتراق أو بعده فهو جائز إذا كان قد قبض الدراهم في المجلس لأنهما قد افترقا عن عين بدين، وذلك جائز في عين الصرف، وإنما يجب التقابض في الصرف بمقتضى اسم العقد، وبيع الفلوس بالدراهم ليس بصرف، وكذلك لو افترقا بعد قبض الفلوس قبل قبض الدراهم.
سلیم اصغر بن محمد اصغر دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
04 /ذوالحجہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سلیم اصغر بن محمد اصغر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


