03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مدرسہ کےلیے زکاۃاور صدقات واجبہ لینا
85625زکوة کابیانمستحقین زکوة کا بیان

سوال

ایک مسئلہ عرض کرنا ہیں، کہ ایک آدمی نے بچیوں کا جزوقتی مدرسہ بنایا ہوا ہے،ایک عالمہ معلمہ بھی رکھی ہوئی ہے، 3 گھنٹے کےلیےمعلمہ صاحبہ آتی ہیں اور قرآن پاک پڑھا کر چلی جاتی ہے، اس مدرسہ کے ذمہ دار زیادہ تنخواہ کا حصہ اپنی جیب سے دیتے ہیں،اتنے مالی اسباب بھی نہیں۔ کیا وہ اس جز وقتی مدرسہ کےلیے عشر، زکوۃیا صدقہ لے سکتے ہیں یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جز وقتی مدرسہ میں زکاۃ اور صدقات واجبہ کااگر کوئی مصرف ہے ،یعنی مدرسہ میں پڑھنے والی بچیوں کےلیے قیام وظعام اور علاج معالجہ وغیرہ کاکوئی نظم ہے تو اس جزوقتی مدرسہ کےلیے بقدرضرورت زکاۃاور صدقات واجبہ کالینادرست ہے ۔اور کوئی مصر ف نہ ہوجیسے کہ عام طور جز وقتی مدرسہ میں ایساہی ہوتاہے ،تب زکاۃ اور صدقات واجبہ کالینا درست نہیں ہے۔ البتہ نفلی خیرات اورصدقات لےسکتے ہیں ۔

حوالہ جات

قال العلامۃالحصکفی رحمہ اللہ:ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة.(الدر المختار:ص،137)

قال العلامۃ  عبد الرحمن  رحمہ اللہ :قولہ:     (ولا تدفع) الزكاة (لبناء مسجد) ؛ لأن  التمليك شرط  فيها ولم يوجد ،وكذا بناء القناطير ،وإصلاح الطرقات ،وكري الأنهار ،والحج ،والجهاد ،وكل ما لا يتملك فيه، وإن أريد الصرف إلى هذه الوجوه صرف إلى فقير ،ثم يأمر بالصرف إليها ،فيثاب المزكي والفقير.(مجمع الانھر:1/222)

قال العلامۃ المرغینانی رحمہ اللہ :ولا يبني بها مسجد ولا يكفن بها ميت لانعدام التمليك وهو الركن.(الھدایۃ:ص،110)

قال العلامۃ فرید الدین رحمہ اللہ :فأماالصدقۃ علی وجہ الصدقۃ والتطوع فلابأس بہ وفی الفتاوی العتابیۃ وکذالک یجوز النفل للغنی .(التاتار خانیۃ :275/2)

ارشاد احمدبن عبد القیوم 

دار الافتاءجامعۃالرشید ،کراچی

23/جمادی الاولیٰ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ارشاد احمد بن عبدالقیوم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب