| 85560 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
میرے والد صاحب نے اپنی زندگی (حالت صحت) میں ایک عدد گاڑی مع کاغذات اور قبضہ 2017 ءمیں اور ایک عدد پلاٹ مع کاغذات اور قبضہ 2012 ءمیں مجھے تحفہ میں دیا۔ جس کی میں نے اپنی سستی کے باعث کاغذی کاروائی نہیں کروائی۔ 2020 ءجون کو والد کا انتقال ہوگیا اس کے بعد سب سے بڑی بہن کے اصرار پر (والد کی خواہش کے مطابق والد کے اپنی زندگی میں دیے گئے تحفے اپنے نام پر کرواؤ)، 2021 ءمیں، میں نے کاغذی کاروائی کی اور قانونِ پاکستان کی پاسداری کرتے ہوئے پہلے تمام جائیداد سب میں تقسیم کی اور پھر پلاٹ اور گاڑی اپنے نام منتقل کروائی تمام بہنوں سے واضح طور پر پوچھ کر۔اس وقت تمام بہنوں کا جواب یہی تھا کہ یہ دونوں آپ کی چیزیں ہیں، جس سے اب وہ انکاری ہیں۔ پلاٹ اور گاڑی پر کچھ واجبات بھی تھے جو میں نے 2018 ءاور 2020 ءمیں ادا کئے۔ وکیل اور کورٹ کی فیس بھی میں نے ہی ادا کی کیونکہ اس وقت بہنوں کا یہی کہنا تھا کہ یہ دونوں چیزیں تمہاری ہیں اس لئے کسی نے کوئی رقم ادا نہیں کی۔ تیسری جائداد جو ایک فلیٹ ہے اسکے بھی کورٹ اور وکیل کے اخراجات میں نے ہی ادا کیے اور وہ تمام ورثہ کے نام کروایا۔ پلاٹ اور گاڑی مع کاغذات میرے قبضے میں ہیں ابھی تک اور قانونِ پاکستان کے مطابق بھی میرے نام پر ہیں۔ حضرت اب شریعت کے مطابق پلاٹ اور گاڑی سے متعلق کیا حکم ہے؟ مفتیانِ کرام شریعت کے مطابق اپنی قیمتی رائے پیش فرمائیں ۔
سائل سے تنقیح کے بعد یہ بات واضح ہوئی کہ سائل کے پاس تین گواہ ہیں،اور قانون پاکستان کے مطابق پہلے یہ جائیداد تمام ورثہ کے نام ہوئی پھر بہنوں نے بھائی کے نام پر گاڑی اور پلاٹ منتقل کروایا اور تقریبا دو ماہ بعد بہنیں اس بات کا مطالبہ کرہی ہیں کہ پلاٹ اور گاڑی میں ان کا بھی حصہ ہیں جو انہیں دیا جائے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں فراہم کی گئی معلومات اگر حقیقت پر مبنی ہوں اور دیگر ورثہ اس کی تائید کریں تو جو پلاٹ اور گاڑی والد صاحب نے اپنی زندگی میں آپ کے نام کی اور آپ نے ان پر قبضہ کرلیا تھا وہ آپ کی ملکیت ہے بہنوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔باقی جائیداد میں سب کا حصہ ہے،اخراجات میں تمام ورثہ اپنے حصے کے بقدر رقم ادا کریں گے ۔اختلاف کی صورت میں آپ کو اپنا دعوی قابل قبول گواہوں سے ثابت کرنا پڑے گا ورنہ یہ مال وراثت میں شمار ہوگا۔
حوالہ جات
أجرة القسام إذا استأجره الشركاء للقسمة فيما بينهم على عدد الرءوس لا على مقادير الأنصباء وقال أبو يوسف ومحمد - رحمهما الله تعالى -: على مقادير الأنصباء ويستوي في ذلك قاسم القاضي وغيره وهو رواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وأما أجرة الكيال والوزان في القسمة فقد قال بعض مشايخنا: هي على هذا الاختلاف والأصح أن قوله فيهما كقولهما(الفتاوی الہندیۃ:(231/5
وتصح بقبول أي :في حق الموهوب له ،أما في حق الواهب فتصح بالإيجاب وحده؛ لأنه متبرع ..و تصح بقبض بلا إذن في المجلس ؛فإنه هنا كالقبول فاختص بالمجلس وبعده به .أي :بعد المجلس بالإذن... وتتم الهبة بالقبض الكامل(الدر المختار مع رد المحتار:(691/5
أما ركن الهبة فهو الإيجاب من الواهب فأما القبول من الموهوب له فليس بركن... فأما القبول والقبض ففعل الموهوب له فلا يكون مقدور الواهب(بدائع الصنائع:(127/6
لا تجوز الهبة إلا محوزة مقسومة مقبوضة يستوي فيها الأجنبي والولد إذا كان بالغاً، وقوله لا يجوز: لا يتم الحكم، فالجواز ثابت قبل القبض باتفاق الصحابة، والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة . )البحر الرائق:(238/6
انس رشید ولدہارون رشید
دار الإفتاء جامعۃ الرشید کراچی
ھ1446جمادی الاولی/22
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | انس رشید ولد ہارون رشید | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


