| 85640 | طلاق کے احکام | عدت کا بیان |
سوال
میرے شوہر نے مجھے مارچ 2023 میں تین طلاقیں دے دی تھیں، جس کا کوئی گواہ موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد سے میرےشوہر سے علیحدگی کو ایک سال سے اوپر ہو گیا ہے۔ نان نفقہ اور بنیادی حقوق ادا نہ کرنے اور مار پیٹ کرنے کی وجہ سے میں نے کورٹ میں کیس دائر کیا تھا ،جس میں شوہر کے پیش نہ ہونے پر 25 مئی 2024 کو کورٹ نے خلع کا فیصلہ دے دیا تھا۔ اس کے بعد میرے شوہر نے 06 نومبر 2024 کو خلع کے پیپرز پر دستخط کر دیے ہیں۔ میرے تین بچے ہیں جن کی کفالت کی ذمہ داری ان کے ابو نہیں اٹھار ہے، چنانچہ میں نوکری کر کے بچوں کا خرچہ اٹھا ر ہی ہوں جو کہ واحد آمدنی اور گھر کے اخراجات کا ذریعہ ہے۔ میں ایک پرائیویٹ ہسپتال میں نوکری کرتی ہوں ،جہاں میرا کام مریضوں کو ورزش کروانا ہے جن میں مرد و عورت دونوں شامل ہیں۔ تعلیم کی کمی کی وجہ سے مجھے چونکہ یہ نوکری بڑی مشکل سے ملی ہے ،لہذا میں نہ یہ نوکری چھوڑ سکتی ہوں اور نہ چھٹی کر سکتی ہوں۔
میرا سوال یہ ہے کہ میری عدت کے معاملے میں شریعت کے مطابق کیا حکم ہے اور اس کی مدت کہاں سے اور کس تاریخ سے شمار کی جائے گی۔ نیز اس کا دورانیہ کتنا ہو گا کس تاریخ سے شروع ہو گی اور کس تاریخ کو ختم ہو گی ؟ تفصیلی وضاحت فرمادیں، عین نوازش ہوگی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ طلاق کے لیے گواہ کا موجود ہونا ضروری نہیں ، گواہوں کے بغیر بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ لہذا مذکورہ بالا صورت میں اگر واقعتاً آپ کے شوہر نے مارچ 2023 میں آپ کوتین طلاقیں دی تھیں تواسی وقت آپ کو تین طلاقیں ہوگئی تھیں اور آپ کی عدت بھی اسی دن سے شمار ہوکر تین ماہواری گزرنے کے بعد ختم ہوگئی تھی۔
تین طلاقیں واقع ہونے کے بعدخلع کی کاروائی اور شوہر کا دستخط کرنا وغیرہ محض قانونی چارہ جوئی ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ تعالی: (وهي في) حق (حرة) ولو كتابية تحت مسلم (تحيض لطلاق) ولو رجعيا ..... (بعد الدخول حقيقة أو حكما) أسقطه في الشرح، ...(ثلاث حيض كوامل) لعدم تجزي الحيضة، فالأولى لتعرف براءة الرحم، والثانية لحرمة النكاح والثالثة لفضيلة الحرية. (الدر المختار ص:245)
قال العلامۃ الکسانی رحمہ اللہ تعالی: وأما بيان مقادير العدة، وما تنقضي به، فأما عدة الأقراء فإن كانت المرأة حرة فعدتها ثلاثة قروء،لقوله تعالى: {وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلاثَةَ قُرُوءٍ}.( بدائع الصنائع: 3/ 193)
وقال العلامۃ المرغینانی رحمہ اللہ تعالی:وإذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا ،أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق ، وهي حرة ممن تحيض :فعدتها ثلاثة أقراء ؛ لقوله تعالى: {وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلاثَةَ قُرُوءٍ} [البقرة: 228]. ... والأقراء الحيض عندنا. ( الهداية: 2 / 274)
وقال العلامۃ الحصکفي رحہ اللہ تعالی: (ومبدأ العدة بعد الطلاق و) بعد (الموت) على الفور (وتنقضي العدة وإن جهلت) المرأة (بهما) أي بالطلاق والموت، لانها أجل فلا يشترط العلم بمضيه سواء اعترف بالطلاق أو أنكر. (فلو طلق امرأته ثم أنكره وأقيمت عليه بينة وقضى القاضي بالفرقة) كأن ادعته عليه في شوال، وقضي به في المحرم (فالعدة من وقت الطلاق لا من وقت القضاء) بزازية.( الدر المختار،ص: 247)
شمس اللہ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
23/جمادی الاولی،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شمس اللہ بن محمد گلاب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


