| 85734 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
میری شادی 2021 میں ہوئی تھی۔ کچھ عرصے بعد مجھے ذہنی بیماری لاحق ہوئی جس کا میں نے علاج کرایا۔ پھر 2024 کے ستمبر میں مجھ پر شدید پیسے کی پریشانی کا دباؤ آیا جس سے میری نیند خراب رہنے لگی۔ تو میں نے آن لائن ایک نیند کی دوا منگوائی اور اسے لینا شروع کر دیا۔ اس کی وجہ سے میرے موڈ میں خرابی رہنے لگی اور ہر دوسرے انسان کی باتوں میں فوراً آتا رہا۔ گھر میں جھگڑا کرتا رہتا اور شک و شبہ بھی رہتے۔ 19 ستمبر 2024 کو ایک چھوٹی سی بات پر بیگم سے جھگڑا ہوا اور موڈ میں شدید غصے کی وجہ سے میں نے اس کو طلاق کی دھمکی دے دی۔ اس نے اپنے گھر والوں کو بتایا اور وہ بھی جذباتی ہو گئے۔ پھر میں نے شام میں اپنا سامان لیا اور گھر چھوڑ کر اپنی ماں کے گھر چلا گیا۔ رات کو امی نے مجھے سمجھایا اور ہم صلح کرنے چلے گئے بیگم کے پاس۔ اتنے میں اس کے گھر والے آئے اور تماشہ کرنے لگے۔ میں پہلے ہی ذہنی دباؤ میں تھا تو اس صورتحال کو دیکھ کر شدید غصے میں آ گیا اور جاتے ہوئے میں نے اپنے سسر سے کہا تیری بیٹی کو طلاق تین بار۔ اس کے بعد بھی میری طبیعت ٹھیک نہیں رہی۔ الٹی سیدھی گھر میں باتیں کرتا رہا۔ جینے کی امید چھوڑ دیتا۔ پھر میں نے دوائی لینا بند کی تو مزید لوگوں سے بات کرنے کی بھی طاقت نہیں رہتی۔ پھر میں نے اپنا ڈپریشن کا علاج کرایا اب میں بہتر ہوں۔ اس سب میں طلاق واقعی ہو گئی یا کوئی گنجائش ہے؟ اور طلاق کے بعد کا میں نے نہیں سوچا اور میری وائف بھی حاملہ ہے اور میرے دو بچے بھی ہیں.
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ نارمل غصہ میں طلاق ہوجاتی ہے،اگر طلاق کے جملے بولتے وقت آپ کی کیفیت ایسی تھی کہ آپ کو اس بات کا ادراک تھا کہ آپ بیوی سے مخاطب ہوکر اسے طلاق دے رہے رہیں اور طلاق پر مرتب ہونے والے نتیجے کا بھی آپ کو احساس تھا تو پھر مذکورہ صورت میں اس کیفیت میں دی گئی تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،اور بیوی حرام ہوچکی ہے،لیکن اگر طلاق کے جملے بولتے وقت آپ کی کیفیت ایسی نہیں تھی،بلکہ اس کے برعکس تھی،یعنی آپ کے ہوش و حواس قائم نہ تھے اور آپ کو اپنے اقوال و افعال کے نتیجے کا ادراک نہیں تھا کہ جو الفاظ آپ بول رہے ہیں اس کا نتیجہ کیا ہوگا اور آپ کا اس کیفیت سے دوچار ہونا آپ کے خاندان کے لوگوں میں معروف ہویا اگر معروف نہ ہوتو دو ثقہ آدمی بوقت طلاق آپ کے دیگر افعال واقدامات کو دیکھتے ہوئے مغلوب الحواس ہونے کی گواہی دے دیں تو پھر اس کیفیت میں دی گئی طلاقیں واقع نہیں ہوئیں۔
حوالہ جات
"العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية" (1/ 38):
"(سئل) في رجل حصل له دهش زال به عقله وصار لا شعور له لأمر عرض له من ذهاب ماله وقتل ابن خاله فقال في هذه الحالة يا رب أنت تشهد على أني طلقت فلانة بنت فلان يعني زوجته المخصوصة بالثلاث على أربع مذاهب المسلمين كلما حلت تحرم فهل لا يقع طلاقه؟
(الجواب) : الدهش هو ذهاب العقل من ذهل أو وله وقد صرح في التنوير والتتارخانية وغيرهما بعدم وقوع طلاق المدهوش فعلى هذا حيث حصل للرجل دهش زال به عقله وصار لا شعور له لا يقع طلاقه والقول قوله بيمينه إن عرف منه الدهش وإن لم يعرف منه لا يقبل قوله قضاء إلا ببينة كما صرح بذلك علماء الحنفية رحمهم ﷲ تعالى".
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
یکم/ جمادی الثانیہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


