03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سوشل میڈیا انوویٹرز(Social media innovators) کا حکم
85676خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

فیس بک پر ایک پیج ہے،جس کانام "سوشل میڈیا انوویٹرز(social media innovators)"ہے،ان کے ساتھ کام کرنا اور نفع کماناجائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سےآن لائن ارننگ کی مختلف ایپلیکیشنز  ،پیجزاور ویب سائٹس وغیرہ آئے روز مختلف ناموں سے سامنے آتی رہتی ہیں،ایسی تمام ایپلیکیشنز  ،پیجزاور ویب سائٹس وغیرہ میں لوگوں سے انویسٹمنٹ لینےاور انویسٹمنٹ پر اضافی رقم دینے کا طریقہ کار تقریباً ایک جیسا ہوتا ہے،بعض ڈیجیٹل ایسٹس کے نام سے کام کرتی ہیں اور بعض روایتی کرنسیوں کے نام پر کام کرتی ہیں،اور بعض دیگر ناموں سے کام کرتی ہیں،اب تک سامنے آنے والی اس طرح کی تقریباً تمام ایپلیکیشنز دھوکہ دہی ،غلط بیانی یا کسی دوسری شرعی خرابی پر مشتمل   معلوم ہوئی ہیں،اس لیے ذیل میں کچھ اصولی باتیں ذکر کی جاتی ہیں ،ان کے مطابق اس طرح کی ایپلیکیشنز،پیجز اور ویب سائٹس وغیرہ سے متعلق عمل کیا جائے۔

سب سے پہلے انویسٹمنٹ لینے والی کمپنی کی مکمل معلومات حاصل کی جائیں کہ وہ کمپنی کن کی ملکیت ہے؟اس کے مالکان کون ہیں؟کون سے ملک کی ہے؟جس ملک کی ہے، کیا وہاں کسی معتبرقانونی ادارے میں رجسٹرڈ ہے یا نہیں؟اگر رجسٹرڈ ہےتو رجسٹریشن سرٹیفیکٹ کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے کہ وہ اصلی ہے یا جعلی؟اگر اصلی ہے تو یہ تحقیق کی جائے کہ یہ سرٹیفیکٹ کن بنیادوں پر ملتا ہے؟کیا انویسٹمنٹ  لینےکے لیے فقط یہ سرٹیفیکٹ کافی ہےیا مزید تحقیق کی ضرورت ہے؟مذکورہ سرٹیفیکٹ کی تفصیلات معلوم کی جائیں کہ اس سرٹیفیکٹ کی بنیاد پر کمپنی کو کون کون سے کاموں کی اجازت قانوناً ملی ہے؟کیا وہ اس سرٹیفیکٹ کی بنیاد پر لوگوں سے انویسٹمنٹ لے سکتی ہے یا نہیں ؟وغیرہ

دوسرے نمبر پر کمپنی کے کاروبار کی معلومات کی جائیں کہ کمپنی کیا کاروبار کرتی ہے؟جس کے ذریعے وہ  لوگوں کی انویسٹمنٹ سے نفع حاصل کرکےوہ نفع لوگوں میں تقسیم کرتی ہےاور پھرکاروبار کی مکمل تفصیل تحقیق کے ساتھ  معلوم کرکے اس کا شرعی حکم معلوم کیا جائے۔

تیسرے نمبر پر کمپنی کا انویسمنٹ لینے اور اس پر نفع دینے کا تفصیلی طریقہ کار معلوم کرکے اس کا شرعی حکم معلوم کیا جائے۔

چوتھے نمبر پر یہ تحقیق بھی ضروری ہے کہ بالفرض اگر پہلی تین چیزیں عملاً اور شرعاً قابل اطمینان ہوں تو کمپنی کے تمام آپریشنز کا شریعت کے  مطابق سرانجام دیے جانے کا مکینزم یعنی طریقہ کار کیا ہے؟کیا کوئی ایسی  معتبرباڈی موجود ہے جو کمپنی کے معاملات کی عملاً اور شرعاً جانچ پڑتال کرتی ہو اور مسلسل نگرانی کرتی ہو؟

موجودہ دور میں ماہرین معیشت پونزی اسکیمز یا مختلف اسکیم(scam)  کو پہچاننے کے چند طریقے بتاتے ہیں ،جو معمولی فرق کے ساتھ تقریباً وہی ہیں جو اوپر بیان کیے گئے ہیں،ان کا بھی لحاظ رکھنا ضرروی ہے،جوکہ درج ذیل ہیں:

۱)سب سے پہلے کمپنی کا بزنس دیکھا جائے کہ کمپنی حقیقتاً کوئی چیز بیچتی ہے،کوئی خدمات فراہم  کرتی ہےیا فقط نئے ممبر بنانے پر فوکس کرتی ہے؟اگر فقط نئے ممبر بنانے پر فوکس کرتی ہے تو  یہ پونزی اسکیم ہوسکتی ہے۔

۲)دوسرے نمبر پر شفافیت دیکھی جائے کہ کمپنی کے تمام آپریشنز،مالکان ،مینجمنٹ اور فائنانشل اسٹرکچر بالکل واضح اور قابل اعتماد ہیں یا نہیں۔

۳)تیسرے نمبر پر مختلف آزادفورمز سے  کمپنی سے متعلق تحقیق کی جائے کہ جیسا بتایا جارہا ہے،کیا حقیقتاً ایسا ہے یا نہیں؟اس کام کے لیے آڈٹ رپورٹس ،میڈیا رپورٹس ،متعلقہ حکومتی ادارے اور یوزرز وغیرہ سے معلومات لی جاسکتی ہیں۔

۴)چوتھے نمبر پر ریگولیٹری کمپلائنس کے حوالے سے معلوم کیا جائے ۔

۵)پانچویں نمبر پر یہ دیکھا جائے کہ کمپنی حقیقی مارکیٹ پریکٹس کے برخلاف غیر معمولی نفع کا وعدہ تو نہیں کر رہی؟اگر کر رہی ہے تو یہ پونزی اسکیم ہوسکتی ہے۔

درج بالا تمام تر تفصیلات کو سامنے رکھتے ہوئے مذکورہ کمپنی یعنی سوشل میڈیا انوویٹرز(social media innovators)کے ذریعے انویسٹمنٹ کرنے سے اجتناب ضروری ہے،کیوں کہ مذکورہ کمپنی کےحوالے سے تفصیلات واضح نہیں ہیں،تھوڑی بہت معلومات جو انٹر نیٹ اور دیگر ذرائع سے موصول ہوئی ہیں،وہ ناکافی ہیں،البتہ ظاہری طور پر یہ معلوم ہورہا ہے کہ ان کا بنیادی کام ملٹی لیول یا نیٹ ورک مارکیٹنگ کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جوڑنا اور انویسٹمنٹ کے نام سے پیسے  جمع کرنا ہے،اورملٹی لیول مارکیٹنگ یا نیٹ ورک مارکیٹنگ کے مروجہ تقریباً تمام ماڈل درج ذیل وجوہ سے ناجائز ہیں۔

۱۔ایک عقد دوسرے عقد کے ساتھ مشروط ہوتاہے جوکہ شرعاًناجائز ہے،جس کی تفصیل یہ ہےکہ مذکورہ نظام میں لوگوں کو چیز فروخت کروا کر کمیشن لینا اجارے (ملازمت) کے تحت آتا ہے،جسے مصنوعات کی خریداری کے ساتھ مشروط کر دیا جاتا ہے،لہٰذا اگر مصنوعات نہیں خریدی گئیں تو دوسروں کو خریداری کروا کر کمیشن کا حق بھی نہیں ہوگا،یوں ایک عقد (معاملے) میں دوسرا عقد جمع کیا جاتا ہے جو کہ شرعاً ناجائز ہے۔

۲۔بغیر عمل کے اجرت کا ملنا یاایک ہی مرتبہ کے عمل کے نتیجے میں بار بار اجرت کا ملنا،اس کی تفصیل یہ ہے کہ  مذکورہ نظام میں جب کوئی شخص پہلا ممبر بناتا ہے اور وہ ممبر ،مزید آگے ممبرز بناتا ہے تو ان آگے والے ممبران کی لین دین میں اس شخص کا کوئی ایسا عمل نہیں ہوتا ،جس کا تعلق براہ راست کمپنی اور خریدار کے لین دین سے ہو، ایسی صورت میں یہ شخص جو اجرت لیتا ہے، وہ بغیر کسی عمل کے ہوتی ہےیا ابتدا میں بنائے گئے ممبر کے عمل کے نتیجے میں بار بار اجرت ملتی ہے اور ان دونوں صورتوں میں اجرت جائز نہیں ہے۔

۳۔قمار یعنی جوے کا ہونا،جس کی تفصیل یہ ہے کہ مذکورہ نظام میں شامل ہونے والےاکثر لوگ نیٹ ورک بنانے کے مقصد سے شامل ہوتے ہیں اور پراڈکٹ خریدنے سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ممبران بنائیں تو ان کا کمیشن حاصل ہو، چونکہ معاملات میں مقاصد کا اعتبار ہوتا ہے لہذا یہ لوگ رقم پراڈکٹ خریدنے کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسے کام کے لیے لگاتے ہیں جس کا ہونا یا نہ ہونا ، دونوں ممکن ہوتے ہیں، اگر کام ہو گیا (یعنی ممبر بن گئے) تو نفع ہو جائے گا اور ممبر نہ بن سکے تو یہ رقم بھی جائے گی، یہ شرعاً قمار (جوے) کے تحت آتا ہے،جوکہ ناجائز ہے۔

۴۔حق مجرد کی بیع ہونا،جس کی تفصیل یہ ہےکہ مذکورہ نظام میں مصنوعات کی خریداری کا مقصد مصنوعات نہیں ہوتیں بلکہ نیٹ ورکنگ کا حق حاصل کرنا ہوتا ہے، لہذا یہ نیٹ ورکنگ کے حق کی بیع ہوتی ہے، نیٹ ورکنگ کا عمل اجارہ کے تحت آتا ہے ، اس کی بیع حق اجارہ کی بیع ہے جو ایک  حق مجرد ہے اور حق مجرد کی بیع جائز نہیں ہوتی۔

جواب کا خلاصہ یہ ہوا کہ نیٹ ورک مارکیٹنگ یا ملٹی لیول مارکیٹنگ کی مروجہ مختلف اسکیمیں یا کسی اور نام سے مذکورہ نظام  کی طرح  رائج اسکیمیں ،مذکورہ خرابیوں کی وجہ سے ناجائز ہیں،لہٰذا اس طرح کی کاروباری اسکیمیں شروع کرنا یا اس کاحصہ بننا جائز نہیں ہے۔(اگر مستند تفصیلات مذکورہ کمپنی کی معلوم ہوں،اور وہ جواب میں لکھی گئی صورت سے مختلف ہوں تو اسے تفصیل سے لکھ کر دارالافتاء سے دوبارہ حکم معلوم کرلیا جائے)۔

حوالہ جات

(وكذلك لو باع عبدا على أن يستخدمه البائع شهرا، أو دارا على أن يسكنها شهرا، أو على أن يقرضه المشتري دراهم، أو على أن يهدي له هدية) فالبيع فاسد۔۔۔ وقد نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن صفقتين في صفقة ونهى عن بيع وشرط عن شرطين في بيع وعن بيع وسلف وعن ربح ما لم يضمن وعن بيع ما لم يقبض وعن بيع ما ليس عند الإنسان ، أما بيع وشرط فهو أن يبيع بشرط فيه منفعة لأحد المتعاقدين وأما نهيه عن شرطين في بيع فهو أن يبيع عبدا بألف إلى سنة، أو بألف وخمسمائة إلى سنتين ولم يثبت العقد على أحدهما، أو يقول: على إن أعطيتني الثمن حالا فبألف، وإن أخرته إلى شهر فبألفين، أو أبيعك بقفيز حنطة، أو بقفيزي شعير فهذا لا يجوز. لأن الثمن مجهول عند العقد ولا يدري البائع أي الثمنين يلزم المشتري، وأما صفقتان في صفقة أن يقول: أبيعك هذا العبد بألف على أن تبيعني هذا الفرس بألف وقيل هو أن يبيع ثوبا بشرط الخياطة، أو حنطة بشرط الحمل إلى منزله فقد جعل المشتري الثمن بدلا للعين والعمل فما حاذى العين يكون بيعا وما حاذى العمل يكون إجارة فقد جمع صفقتين في صفقة۔۔۔. (الجوهرة النيرة، 1/203، ط: المطبعة الخيرية)

وإن اشترى ثوبا على أن يخيطه البائع بعشرة فهو فاسد؛ لأنه بيع شرط فيه إجارة؛ فإنه إن كان بعض البدل بمقابلة الخياطة فهي إجارة مشروطة في بيع، وإن لم يكن بمقابلتها شيء من البدل فهي إعانة مشروطة في البيع، وذلك مفسد للعقد۔۔۔.(المبسوط للسرخسي، 15/102، ط: دار المعرفة)

وإن سلم غلاما إلى معلم ليعلمه عملا وشرط عليه أن يحذقه فهذا فاسد؛ لأن التحذيق مجهول إذ ليس لذلك غاية معلومة وهذه جهالة تفضي إلى المنازعة بينهما، وكذلك لو شرط في ذلك أشهرا مسماة؛ لأنه يلتزم إيفاء ما لا يقدر عليه فالتحذيق ليس في وسع المعلم بل ذلك باعتبار شيء في خلقة المتعلم، ثم فيما سمي من المدة لا يدري أنه هل يقدر على أن يحذقه كما شرط أم لا والتزام تسليم ما لا يقدر عليه بعقد المعاوضة لا يجوز.  (المبسوط للسرخسي، 16/41، ط: دار المعرفة)

العبرة في العقود للمقاصد والمعاني لا للألفاظ والمباني۔۔۔ والمراد بالمقاصد والمعاني: ما يشمل المقاصد التي تعينها القرائن اللفظية التي توجد في عقد فتكسبه حكم عقد آخر كما سيأتي قريبا في انعقاد الكفالة بلفظ الحوالة، وانعقاد الحوالة بلفظ الكفالة، إذا اشترط فيها براءة المديون عن المطالبة، أو عدم براءته.

وما يشمل المقاصد العرفية المرادة للناس في اصطلاح تخاطبهم، فإنها معتبرة في تعيين جهة العقود، فقد صرح الفقهاء بأنه يحمل كلام كل إنسان على لغته وعرفه وإن خالفت لغة الشرع وعرفه: (ر: رد المحتار، من الوقف عند الكلام على قولهم: وشرط الواقف كنص الشارع) . (شرح القواعد الفقهية، 1/55، دار القلم)

لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض). (الدر المختار و حاشية ابن عابدين، 6/4، ط: دار الفكر)

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

  ۲۵.جمادی الاولی۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب