| 85707 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
السلام علیکم! میں نے اپنی بیوی کے ساتھ لڑائی میں اس کے کہنے پر بول دیا کہ میں تمہیں آزاد کر دیتا ہوں یا اگر تمہیں طلاق چاہیے تو وہ بھی دے دیتا ہوں تو کیا اس سے طلاق واقع ہو گئی ہے؟ اس سے پہلے بھی ایک بار طلاق ہو چکی ہے ۔ روشنی ڈالیں!جزاک اللہ!
تنقیح:شوہر نے سوال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میری مراد یہ تھی کہ اگر تم مجھ سے تعلق قطع کرنا چاہتی ہوتو میں تمہیں آزادکردینا چاہتا ہوں یعنی اپنی مرضی سے زندگی گزاریں اور اگر مجھ سے طلاق لینا چاہتی ہو تو تمہیں طلاق دیتا ہوں ۔سوال میں یہ دونوں آپشن اس کے سامنے رکھے کہ تم جو صورت اختیار کرنا چاہوگی تو میں اس پر آمادہ ہوں ،اس وقت عملا طلاق میرا مقصود نہ تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شوہر کی وضاحت سے معلوم ہوا کہ یہ صرف طلاق لینے کی پیشکش ہےاورمحض پیشکش کی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔اس لیے شوہر کے دونوں جملوں سے ”میں تمہیں آزاد کر دیتا ہوں “ اور” اگر تمہیں طلاق چاہیے تو وہ بھی دے دیتا ہوں “سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔
حوالہ جات
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى : فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا. (رد المحتار : 3/ 299)
وقال أيضا: (قوله لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ليس ظاهرا في إنشاء الطلاق كذا في الفتح، وقيد بقوله الذي لا يلحق إشارة إلى أن البائن الموقع أولا أعم من كونه بلفظ الكناية أو بلفظ الصريح المفيد للبينونة كالطلاق على مال، وحينئذ فيكون المراد بالصريح في الجملة الثانية أعني قولهم فالبائن يلحق الصريح لا البائن هو الصريح الرجعي فقط دون الصريح البائن.(رد المحتار : 3/ 308)
وقال أيضا: (قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية.(رد المحتار : 3/ 230)
قال ابن نجيم رحمه الله تعالى : رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص.( البحر الرائق: 3 /252)
واجد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۸/ جمادی الاولی 6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | واجد علی بن عنایت اللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


