03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حدود حرم سے باہر حلق کرنے کاحکم
85744حج کے احکام ومسائلجنایات حج کا بیان

سوال

ایک دوست نے سائل کو عمرہ کے لیے بلوایا، جس کی رہائش مسجد عائشہ کے مقابل ہے،سائل نے متعدد عمرے کیے،جن میں کچھ کا حلق حرم میں کروایا اور بعض کا حلق رہائش پر کروایا۔ سائل جب پاکستان واپس آیا تو ایک دوست نے اس مسئلہ کی بابت پوچھا، بتانے پر اس نے کہا کہ تم پر دم پڑتے ہیں۔ ایک عالم سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ضرورت شدیدہ کی وجہ سے نہیں پڑتے ہیں،جس پر ہدایہ شریف سے امام ابو یوسف کا حوالہ دیا، جبکہ سائل اس مسئلہ میں کوئی علم نہیں رکھتا تھا کہ حدود حرم کے باہر حلق پر دم پڑتے ہیں۔

1۔صورت مذکورہ میں سائل پر دم ہے یا نہیں ؟

2۔ اگردم ہے تو کتنے دم دینے پڑیں گے ؟

 3۔کیا اس کا کفارہ صدقہ ، روزہ، توبہ ہیں ؟ جبکہ سائل مالی حالات بالکل مفقود ہیں،عمرہ پر اس کے دوست نے بلوایا ہے۔ اس سے رابطہ کیا تو اس نے امام کعبہ کا حوالہ دے کر کہا کہ دم نہیں ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔حلق یا قصر کے لئے ضروری ہے کہ حدود حرم  کے اندر ہو، اس لئے اگر کسی نے حدود حرم سے باہر حلق یا قصر کیا تو صحیح قول کے مطابق اس پر دم لازم ہوگا،البتہ امام ابویوسف رحمہ اللہ کی رائے  یہ ہے کہ دم لازم نہیں ہے،تاہم ترجیح پہلے قول کو ہے۔

2۔ یہاں عمرہ اور احرام الگ الگ ہیں،اس لیے کہ سرمنڈوانے سے پہلے عمرہ کے احرام سے نکل گئے ہیں،اس لیے یہ متعدد جنایات ہیں،تو متعدد دم لازم ہوں گے۔اور ان میں تداخل نہیں ہوگا۔

3۔اگرجنایت بلاعذر ہوتواس  پر حرم کی حدود میں ایک جانور ذبح کرنا واجب ہے، چاہے  ادا کرنے کی استطاعت

ہویانہ ہو، لیکن جب  تک استطاعت  نہ ہو تب تک توبہ واستغفار کرے، جب بھی دم ادا کرنے پر قدرت ہوگی

تب دم ادا کرنا لازم ہوگا، اور اگر اپنی زندگی میں دم ادا نہ کر سکا،  تو ترکہ میں مال ہونے کی صورت میں وصیت کرنا لازم ہے،تاہم اس بارے میں بھی امام رافعی رحمہ اللہ نے استطاعت نہ ہونے پر تین روزے رکھنے کی گنجائش دی ہے۔لہذا اگر کوئی شخص ایسا ہے کہ اس کے پاس دم دینے کی استطاعت نہیں،اور مستقبل میں بھی ایسے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں کہ وہ اس ذمہ داری کو ادا کرسکے گا تو اس کے لیے اس قول کے مطابق عمل کرنے کی گنجائش ہوسکتی ہے۔

اوراگرعذرکی وجہ سے دم لازم ہواہے،توپھرمحرم کواختیارہے،چاہےجانور ذبح کرے،یاصدقہ فطرکی مقدارگندم  فقراءپرصدقہ کرے،یاتین روزےرکھ لے۔

حوالہ جات

العناية شرح الهداية (3/ 63):

(وإن حلق في أيام النحر في غير الحرم فعليه دم، ومن اعتمر فخرج من الحرم وقصر فعليه دم عند أبي حنيفة ومحمد) رحمهما الله تعالى (وقال أبو يوسف) - رحمه الله -: (لا شيء عليه) ۔

وفی الشامیة(2/557):

"وعدم القدرة على الكفارة فليست  بأعذار في حق التخيير ولو ارتكب المحظور بغير عذر فواجبه الدم عينا، أو الصدقة فلا يجوز عن الدم طعام ولا صيام، ولا عن الصدقة صيام؛ فإن تعذر عليه ذلك بقي في ذمته. اهـ. وما في الظهيرية من أنه إن عجز عن الدم صام ثلاثة أيام ضعيف كما في البحر."

وفی تقریرات الرافعی (1/165):

(قوله وما فى الظهيرية من أنه ان عجز عن الدم صام ثلاثة أيام ضعیف الخ) ذكر السندی مانصه قال الشيخ محمد سنبل: اذا لم يجد الدم صام ثلاثة أيام كما فى المحيط البرهاني ،والظهيرية ونقل الفارسي نحوه عن الذخيرة، قال: ونقل شيخنا نحوه عن الاسرار ولا ينافيه ما في شرح الطحاوى وغيره أنه يحب الدم لا يجزيه غيره، وينبغى أن يحمل على ما اذا وجده،فمافي اللباب وشرحه تبعاللكبير على خلافه ،وما فى البحر الرائق أيضا ففيه ما فيه اه قلت وفى هذا جواب عن قول صاحب البحر ولم أر لغيرها،وفى الفتوى بهذا رفق على الضعفاء والمساكين۔

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

30/ جمادی الاولی 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب