03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رفاہی ادارے کا چندہ جمع کرنے کے لئے(فنڈریزنگ)کےلئےکمیشن پر بندہ رکھنا
85743جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

فاؤنڈیشن فائٹنگ پاورٹی ایک رفاہی ادارہ ہے جو کہ مختلف شعبہ جات میں خدمات سرانجام دے رہا ہے،کیا مذکورہ ادارہ کسی کو اس بنیاد پر ملازمت فراہم کرسکتا ہے کہ آپ ادارے کے لئے جو عطیات جمع کریں گے اس میں سے کچھ فیصد آپ کو دیا جائے گا؟

نیز ادارے کے وہ ملازمین جن کی تنخواہ متعین ہے کیا ان کو بھی یہ پیش کش کی جاسکتی ہے؟تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور مستحق افراد کے ساتھ تعاون میں اضافہ ہو۔

تنقیح:جن ملازمین کی تنخواہ متعین ہے ان کے ذمے ادارے کے دیگر کام ہیں،چندہ جمع کرنا ان کی ذمہ داری میں شامل نہیں،سوال کا مقصد یہ ہے کہ ان افراد سے مذکورہ طریقے کے مطابق چندہ جمع کرنے کا کام لیا جاسکتا ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی بنیاد پر کسی شخص کو ملازمت پر رکھنا جائز نہیں،کیونکہ ایک تو اجرت ملازم کی محنت سے حاصل ہونے والے چندہ سے مقرر کی جارہی ہے اور دوسرا یہ کہ ملازم کے ذمے جو کام لگایا جارہا ہے وہ اس پر قادر نہیں،اس لئے کہ یہ تو فقط لوگوں کو ترغیب دینے پر قادر ہے،چندہ دینا یا نہ دینا لوگوں کے اختیار میں ہے،یہ ان سے زبردستی نہیں لے سکتا۔("احسن الفتاوی":7/ 276)

لہذا سوال میں ذکر کئے گئے طریقے کے بجائے ملازم کی متعین اجرت مقرر کی جائے اور اس کے ذمے یہ کام لگایا جائے کہ وہ لوگوں کو چندے کی ترغیب دے گا اور چندہ جمع کرنے کی کوشش کرے گا،باقی چندہ اکٹھا ہو یا نہ ہو،اسے اس کی طے شدہ اجرت ملے گی اور اس بنیادی طور پر طے شدہ اجرت میں چندے کی کمی بیشی کی وجہ سے کوئی فرق نہیں آئے گا،اس طرح مطلقا اجرت طے ہوجانے کے بعد جمع شدہ چندے سے بھی اس اجرت کے دینے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔

نیز بنیادی اجرت طے ہونے کے بعد کام میں دلجمعی اور ترغیب کی خاطر جمع ہونے والے چندے میں سے متعین فیصدی حصہ بھی اسے دینے کی گنجائش ہوگی۔

اور یہی حکم ادارے سے منسلک ان افراد کا بھی ہے جن کے ذمے ادارے کے دیگر کام ہیں اور ان کی تنخواہ متعین ہے کہ ان سے بھی فیصدی کمیشن پر چندہ جمع کرنے کا کام نہیں لیا جاسکتا۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (6/ 56):

"(ولو) (دفع غزلا لآخر؛ لينسجه له بنصفه) أي بنصف الغزل (أو استأجر بغلا؛ ليحمل طعامه ببعضه أو ثورا؛ ليطحن بره ببعض دقيقه) فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل في ذلك نهيه – صلىﷲ عليه وسلم - عن قفيز الطحان وقدمناه في بيع الوفاء.

والحيلة أن يفرز الأجر أولا أو يسمي قفيزا بلا تعيين ثم يعطيه قفيزا منه فيجوز".

"الدر المختار " (6/ 46):

"(تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرةأو مدة أو عمل، وكشرط طعام عبد وعلف دابة ومرمة الدار أو مغارمها وعشر أو خراج أو مؤنة رد. أشباه".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

01/جمادی الثانیہ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب