| 85738 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
ایک شخص نے اپنے 4 بچوں 2 بیٹوں اور 2 بیٹیوں میں سے 3 کو ان کی شادی پر گولڈ کا زیور دیا جبکہ آخر تک ساتھ رہنے والے 1 چھوٹے بیٹے (جسے زیور نہیں دیا تھا) کے حوالے مکان کردیا۔ اب جن بچوں کے پاس زیور ہے وہ اس میں حصے نہیں دینا چاہتے جبکہ جس بیٹے کے پاس مکان ہےوہ اس میں سے حصےدینا چاہتا ہے اور نہ زیور والوں کے پاس کوئی تحریری ثبوت ہے اور نہ مکان کی کوئی لکھت ہے ،البتہ زیور والوں کے پاس زیور کا قبضہ اور مکان ملنے والے کے پاس مکان کا قبضہ ہے تو ایسے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟
سائل کی طرف سے تنقیح کے بعد یہ بات واضح ہوئی کہ بڑے بیٹے کو والدین نے شہر اور صوبے سے باہر جاب کرنے سے منع کیا تو بڑے بیٹے نے گھر کی تعمیرکرنے اور چھوٹے بھائی ، 2بہنوں کی شادی کے تمام اخراجات اٹھانے کا وعدہ کر کے والد اور بھائی بہنوں کو منا لیا، اس کے بعد بڑے بیٹے نے زیادہ آمدن والی جاب کرکے اپنی آمدن چھپانا شروع کر دی اور گھر پر اپنی آمدن کا صرف 10 سے 15 فیصد حصہ صرف 2ہزار روپے مہینہ دینے لگا۔خرچہ کم دینےکی وجہ سے گھر میں اکثر لڑائی ہوتی تو چھوٹا بیٹا اپنے بڑے بھائی سے کہتا کہ میں کنوارہ ہوکربھی اپنی آمدن کا70 فیصد گھر پر خرچ کر رہا ہوں مگرتم شادی شدہ اور بچوں والے ہو کر جوائنٹ فیملی سسٹم میں اپنی 50فیصد آمدن بھی نہیں دے رہے، یہ تو غلط بات ہے۔یہ سن کر بڑا بیٹا اپنے چھوٹے بھائی اور والد کو یہ کہہ کرمطمئن کردیتا کہ میں شادیوں کےلیے ہی جمع کر رہا ہوں۔ اس طرح 13 سال گزر گئے اور بڑا بیٹا اپنے بھائی بہن کی شادیوں سے پہلے ہی جوائنٹ فیملی سسٹم سے الگ ہو کر گھر کے اوپر والے پورشن میں شفٹ ہو گیا۔ یاد رہے یہ پورشن اس سے پہلےکرائے پر تھا اور اس کے والد کی آمدن کا ذریعہ تھا جس کا کرایہ4000چار ہزار روپے ماہوار آرہا تھا۔بڑے بیٹے نے اوپر شفٹ ہو کر والد کو کرائے کی آمدن سے محروم کر دیا اور صرف لائٹ گیس کے 1500 روپے دینے لگا۔ بڑے بیٹے کے پاس شادیوں کےلیے جمع کی گئی رقم کم از کم صرف 8ہزار روپے مہینہ تھی۔ 1 سال کی رقم 96000 ہزار بنی اور 13سال جوائنٹ فیملی میں رہتے ہوئے 1244000بارہ لاکھ چوالیس ہزار روپے جمع ہوئے جو بڑے بیٹے نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے نہ تو والد کے مکان کی تعمیر پر خرچ کیے اور نہ ہی بھائی بہنوں کی شادیوں پر خرچ کیے اور نہ ہی ان کو زیور بنوا کر دیا،بلکہ اس رقم سےاپنا ایک الگ پلاٹ اسی علاقے کے قریب خرید لیا۔ اس نا انصافی اور وعدہ خلافی کے باوجود والدین اوربھائی بہنوں نے یہ سوچ کرصبر کیا کہ چلو پلاٹ لےکر وہ اپنا گھر تو بنا ہی لیں گے اور ہمیں تنگ نہیں کریں گے۔چھوٹا بیٹا وعدے کے مطابق والدین کے ساتھ ان کے گھر میں رہا گھر کی تعمیر اور اپنی اور بہنوں کی شادیوں میں خرچہ کیا،جبکہ بڑے بیٹے نے لیے گئےقریبی پلاٹ پر7 کمروں کا3منزلہ مکان تعمیر کرا لیا۔اسی علاقے میں اپنا گھر ہوتے ہوئے بھی والد کی زندگی میں ہی والد سے اپنا حصہ مانگ لیا اور حصہ نہ دینے پرمستقبل میں کورٹ جانے کی دھمکی بھی دی۔اس بات پر والد کو اپنے بڑے بیٹے پر بہت غصہ آیا۔ پھروالد نے گھرپر چھوٹے بیٹے کو کہا کہ تمہارے بھائی نے اپنا الگ گھر بنا لیا ہے تمہیں بھی کچھ کرنا چاہیے رقم جمع کرو اور کوئی پلاٹ وغیرہ لو اور کچھ کر کے دکھاؤ۔ والد کو قانونی معاملات کی سمجھ نہیں تھی مگر بڑے بیٹے کو ڈر تھا کہ کہیں وہ اپنا گھر چھوٹے بیٹے کو نہ دے جائیں ۔ اس لیے بڑے بیٹے نےحصہ لینے کےلیے اپنا طریقہ بدلا اور والد کے ذہن میں یہ بات ڈالی کہ جو والدین اپنی زندگی میں ہی اپنی پسند کی اولاد کے نام مکان کردیں تو پھر ان والدین کی خدمت کوئی نہیں کرتا۔ اس طرح والد نے کسی کے نام اپنا مکان نہیں کیا تاہم اپنی وفات سے چند دن پہلے اپنا گھر زبانی طور پر چھوٹے بیٹے کے حوالے کر دیا اور مکان کا کرایہ لینے اور گھر کا نظام چلانے کی ہدایات بتائی۔ لہذٰا اب بڑے بیٹے کےلیے شریعت کا کیا حکم ہے اور چھوٹے بیٹے کےلیے کیا حکم ہے؟بڑا بیٹا زیور اور جمع کی گئی رقم سے خریدے گئے پلاٹ میں سے حصہ نہیں دینا چاہتا جبکہ چھوٹے بیٹے کے پاس موجود مکان میں سے اپنا حصہ لینا چاہتا ہے ایسے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
انسان اپنی زندگی میں اولاد کو اگر کسی چیز کا مالک بنادے اور اولاد اس پر قبضہ کرلے تو وہ مال اس شخص کے ترکہ میں شمار نہیں ہوتا ۔صورت مسئولہ میں اس شخص نے اپنے جن بچوں کوجو زیورات دیےتھےاوربچوں کےحوالہ کردیےتھے وہ ہبہ ہے اور چھوٹے بیٹے کو جومکان دیا تھا اس میں چونکہ مرحوم خود رہائش پذیر تھے اس لیے ہبہ مکمل نہیں ہوا یہ مرحوم کے ترکہ میں شمار ہوگا اس میں تمام ورثہ بڑے بھائی سمیت سب کا حق ہے بڑے بھائی کے قبضے میں جو زیور اور جمع کی گئی رقم سے خریدا گیا پلاٹ ہے وہ بڑے بھائی کی اپنی ملکیت ہےاس میں شرعا بھائی بہنوں کا کوئی حصہ نہیں۔
جھوٹ بول کر پیسے جمع کرنا اور وعدہ خلافی کرنا حرام ہے اس پر توبہ استغفار کرے ،آئندہ کے لیے جھوٹ بولنے اور وعدہ خلافی سے گریز کیا جائے۔تاہم اخلاق ومروت کا تقاضہ یہ ہےکہ بڑے بھائی کو والد صاحب کی خواہش اور وعدے کے مطابق تبرعا چھوٹے بھائی کے حق میں اپنے حصے سے دستبردار ہوجانا چاہیے ۔
حوالہ جات
وتصح بقبول أي :في حق الموهوب له ،أما في حق الواهب فتصح بالإيجاب وحده؛ لأنه متبرع ..و تصح بقبض بلا إذن في المجلس ؛فإنه هنا كالقبول فاختص بالمجلس وبعده به .أي :بعد المجلس بالإذن...
وتتم الهبة بالقبض الكامل(الدر المختار مع رد المحتار:(691/5
أما ركن الهبة فهو الإيجاب من الواهب فأما القبول من الموهوب له فليس بركن... فأما القبول والقبض ففعل الموهوب له فلا يكون مقدور الواهب(بدائع الصنائع:(127/6
لا تجوز الهبة إلا محوزة مقسومة مقبوضة يستوي فيها الأجنبي والولد إذا كان بالغاً، وقوله لا يجوز: لا يتم الحكم، فالجواز ثابت قبل القبض باتفاق الصحابة، والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة .)البحر الرائق:(238/6
ولو وهب دارا فيها متاع الواهب وسلم الدار إليه أو سلمها مع المتاع لم تصح والحيلة فيه أن يودع المتاع أولا عند الموهوب له ويخلي بينه وبينه ثم يسلم الدار إليه فتصح الهبة فيها وبعكسه لو وهب المتاع دون الدار وخلى بينه وبينه صح، وإن وهب له الدار والمتاع جميعا وخلى بينه وبينهما صح فيهما جميعا، هكذا في الجوهرة النيرة...لو وهب لابنه الصغير دارا وهو ساكن فيها يعني الواهب لا يجوز كما هو رواية عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى.(الفتاوى الهندية:(380,392/4
انس رشید ولد ہارون رشید
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
/1جمادی الثانیۃ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | انس رشید ولد ہارون رشید | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


