03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پانچ بیٹے ، دو بیٹیاں اور ایک بیوی کے درمیان میراث کی تقسیم
85796میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کیا فرماتے ہیں علماء اور مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید کے والد کا انتقال ہوا تو ان کے انتقال کے وقت ان کے پانچ بیٹے دو بیٹیاں اور ان کی اہلیہ حیات تھیں، البتہ زید کے والد نے اپنا مکان زید کی والدہ کے نام کر دیا تھا اور انہیں دے دیا تھا یہ کہہ کر کہ یہ آپ لے لیں ،کل کو اس کا کوئی اور وارث نہ نکل آئے  اور زید کے والد نے گھر کے استعمال کے لیے ایک عدد گاڑی لے رکھی تھی جو کہ کئی سالوں سے گھر میں استعمال ہو رہی تھی ، وہ انہوں نے اپنے بچوں کو لے کر دی ہوئی تھی استعمال کی غرض سے، اس کے علاوہ ان کے زیر استعمال ایک عدد موبائل فون تھا اور گھر میں استعمال کے لیے ہارڈ ویئر ٹولز وغیرہ یعنی مرمت کے آلات تھے جو کہ انہوں نے اپنے بڑے بیٹے کو استعمال کے لیے دیے ہوئے تھے ۔  اس کے علاوہ ان کے کچھ ذاتی کپڑے وغیرہ تھے اور ایک عدد پلاٹ یا زمین تھی،  جس کا رقبہ تقریباً کم و بیش 10 کنال یا اس سے کچھ زائد بنتا ہے۔

مندرجہ بالا صورتحال کو دیکھتے ہوئے شرعی حکم یہ معلوم کرنا ہے کہ کن چیزوں میں میراث کا حکم لگے گا یا کیا کیا چیزیں میراث کے طور پر تقسیم کی جائیں گی اور کس طرح تقسیم کی جائیں گی اور اگر ان کو تقسیم نہ کیا جائے یعنی کہ میراث نہ دی جائے تو اس کے لیے شریعت میں کیا وعید ہے اور اگر کوئی شخص اللہ کی رضا کے لیے میراث کو تقسیم کرتا ہے تو اس کے لیے کیا اجر و ثواب ہے یا کیا فضیلت ہے؟ برائے مہربانی جواب دے کر ممنون اور مشکور فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً کثیرا۔

نوٹ: سائل نے وضاحت کی کہ شوہر نے مکان مذکور کے  کاغذات  بھی اہلیہ کے نام کروائے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ہبہ تام(مکمل) ہونے کے لیے موہوب لہ(بیوی)  کا قبضہ ضروری ہے، جب کہ یہاں وہ مکان خالی کرکے بیوی کے حوالے نہیں کیا گیا بلکہ شوہر اس میں ساتھ رہتارہا ہے  اس سے عرفاً  قبضہ مکمل نہیں ہوا،لہذا  مکان سمیت  مذکورہ تمام چیزوں (گاڑی،موبائل فون، مرمت کے آلات،ایک عدد پلاٹ، زمین ) میں میراث جاری ہوگی اور یہ اشیاء مرحوم کے ترکہ میں شمار ہوں گی۔

مرحوم  کے  ترکہ سے تجہیز و تکفین کا خرچ نکالنے کے بعد اگر ان کے ذمہ قرض وغیرہ مالی واجبات ہوں تو انہیں ادا کیا جائے، پھر اگر انہوں نے کوئی وصیت کی ہو تو باقی  ماندہ ترکہ کے ایک تہائی تک  اسے پورا کیا جائے، پھر جو ترکہ بچ جائے اس کو چھیانوے (96) برابر حصوں میں تقسیم کرکے    مرحوم کی بیوی کو بارہ حصے،پانچ بیٹوں میں سے ہر ایک کو  چودہ چودہ  ،  دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کو سات سات حصے دئیے جائیں گے۔

         فیصد کے حصاب سے بیوی  کا حصہ 12.5%، بیٹوں میں سے ہر ایک کا حصہ 14.58%، بیٹیوں میں سے ہر ایک کا حصہ7.29% ہوگا۔

         ذیل کے نقشے میں یہ تفصیل مزید وضاحت سے دکھائی گئی ہے:

نمبر شمار

نام ورثہ

عددی حصے

فیصدی حصے

1

بیوی

12

12.5%

2

بیٹا

14

14.58%

3

بیٹا

14

14.58%

4

بیٹا

14

14.58%

5

بیٹا

14

14.58%

6

بیٹا

14

14.58%

7

بیٹی

7

7.29%

8

بیٹی

7

7.29%

وراثت تقسیم کرنے کی فضیلت: اللہ تبارک وتعالی فرماتے ہیں: ’’ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گاوہ اس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، ایسے لوگ ہمیشہ ان (باغات) میں رہیں گے اور یہ زبردست کامیابی ہے۔‘‘( سورہ نساء: ۱۳)

میراث تقسیم نہ کرنے پر وعید: اللہ تبارک وتعالی فرماتے ہیں:’’ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گااور اس کی مقرر کی ہوئی حدود سے تجاوز کرے گا، اسے اللہ دوزخ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کو ایسا عذاب ہوگا جو ذلیل کرکے رکھ دے گا۔‘‘(سورہ نساء:۱۴)

حوالہ جات

قال اللہ تبارک وتعالی:﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [النساء: 11] 

وقال أیضا﴿وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ﴾ [النساء: 12] 

قال العلامۃ الحصکفي  رحمہ اللہ:  (يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) والمأذون المديون والمبيع المحبوس بالثمن والدار المستأجرة وإنما قدمت على التكفين لتعلقها بالمال قبل صيرورته تركة (بتجهيزه) يعم التكفين (من غير تقتير ولا تبذير) ككفن السنة أو قدر ما كان يلبسه في حياته ولو هلك كفنه،  فلو قبل تفسخه كفن مرة بعد أخرى، وكله من كل ماله (ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) ويقدم دين الصحة على دين المرض إن جهل سببه وإلا فسيان كما بسطه السيد، (وأما دين الله تعالى فإن أوصى به وجب تنفيذه من ثلث الباقي وإلا لا ثم) تقدم (وصيته) ولو مطلقة على الصحيح خلافا لما اختاره في الاختيار (من ثلث ما بقي) بعد تجهيزه وديونه،  وإنما قدمت في الآية اهتماما لكونها مظنة التفريط (ثم) رابعا بل خامسا (يقسم الباقي) بعد ذلك (بين ورثته). (رد المحتار :6/ 759)

وفیہ ایضا:فقال (فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) وأما مع ولد البنت فيفرض لها الربع. (رد المحتار :6/ 769)

وفیہ ایضا:فقال (ويصير عصبة بغيره البنات بالابن وبنات الابن بابن الابن) وإن سفلوا (والأخوات) لأبوين أو لأب (بأخيهن) فهن أربع ذوات النصف والثلثين يصرن عصبة بإخوتهن. (رد المحتار :6/ 775)

قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ:(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها،وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب،  أو دارا فيها متاعه، أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح وبعكسه تصح. (الدر المختار مع رد المحتار :5/ 690)

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: واعلم أن الضابط في هذا المقام أن الموهوب إذا اتصل بملك الواهب اتصال خلقة، وأمكن فصله لا تجوز هبته ما لم يوجد الانفصال، والتسليم كما إذا وهب الزرع، أو الثمر بدون الأرض والشجر أو بالعكس، وإن اتصل اتصال مجاورة فإن كان الموهوب مشغولا بحق الواهب لم يجز.

وفیہ ایضا: ولو وهب دارا دون ما فيها من متاعه لم يجز، وإن وهب ما فيها، وسلمه دونها جاز كذا في المحيط. (رد المحتار :5/ 690)

قال جماعۃ من العلماء رحمہم اللہ: ولو وهب دارا فيها متاع الواهب وسلم الدار إليه أو سلمها مع المتاع لم تصح والحيلة فيه أن يودع المتاع أولا عند الموهوب له ويخلي بينه وبينه ثم يسلم الدار إليه فتصح الهبة فيها وبعكسه لو وهب المتاع دون الدار وخلى بينه وبينه صح، وإن وهب له الدار والمتاع جميعا وخلى بينه وبينهما صح فيهما جميعا، هكذا في الجوهرة النيرة.( الفتاوى الهندية:4/ 380)

احسان اللہ

دار الافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

/05جمادی الآخرۃ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان اللہ بن سحرگل

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب