03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فیوچر ٹریڈ،قماراورسٹےبازی پرمشتمل نہیں،لہٰذا جائز ہونی چاہیے،کیا یہ بات درست ہے؟
85936خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

فیوچر ٹریڈنگ اور قمار (جوا، سٹے بازی ) میں کئی اہم فرق ہیں،لہٰذا فیوچر ٹریڈ جائز ہونی چاہیے،مثلاً:

نفع ونقصان کی بنیاد:قمارمکمل طور پر اتفاق یا شرط پر مبنی ہوتا ہے،جبکہ فیوچر ٹریڈ مارکیٹ کےاصولوں،قیمت کے اتار چڑھاؤ، اور اثاثے کی خریدو فروخت پر مبنی ہے۔

عوض:قمار میں حقیقی عوض نہیں ہوتا، اورایک فریق کا نفع دوسرے کی ہار پر منحصر ہوتا ہے۔ فیوچر ٹریڈنگ میں حقیقی اثاثے کی قیمت کی بنیاد پر نفع یا نقصان ہوتا ہے،جیسے Bitcoin یا کسی اور اثاثے کی مارکیٹ ویلیو۔

محنت اور علم:قمار میں کوئی محنت یا تحقیق شامل نہیں،صرف قسمت پر انحصار ہوتا ہے۔ فیوچر ٹریڈنگ میں مارکیٹ کا تجزیہ،لوگوں کا رویہ،چارٹ کو دیکھنا،جو لوگوں کی خرید و فروخت کو ظاہر کرتا ہےاور دیگر مہارتیں شامل ہوتی ہیں،جو اسے محض اتفاق سے الگ کرتی ہیں۔

نفع و نقصان کا انحصار:قمار میں دونوں فریقوں میں سے ایک کا مکمل نقصان دوسرے کا نفع ہوتا ہے۔ فیوچر ٹریڈنگ میں نفع و نقصان مارکیٹ کی اصل قیمت کے اتار چڑھاؤ پر منحصر ہے، اور یہ معاہدۂ بیع (خرید و فروخت) کے اصول پر مبنی ہوتا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یہ کہنا درست نہیں ہے کہ فیوچر ٹریڈ، قمار پر مشتمل نہیں،بلکہ فیوچر ٹریڈ میں دیگر خرابیوں کے علاوہ ایک خرابی قمار کی بھی پائی جاتی ہے،وہ اس طرح کہ بیع ان عقود میں سے ہے جو مستقبل کی جانب منسوب ہونے کو قبول نہیں کرتے،الدر المختار میں اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ فی الحال تملیک کے معنی میں ہوتے ہیں،لہٰذا مستقبل کی جانب منسوب نہیں ہوتے،جیسے کہ یہ عقود شرط پر معلق نہیں ہوتے،کیوں کہ اس میں قمار پایا جاتا ہے،اس کے تحت علامہ شامی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

"حاصل یہ کہ یہ مخاطرہ کے طور پر تملیک ہے اور جب یہ عقود فی الحال تملیک  کے لیے ہیں تو ان کو خطر پر معلق کرنا درست نہیں ہے، کیوں کہ اس میں قمار کے معنی پائے جاتے ہیں"۔

            فیوچر ٹریڈ میں قمار پائے جانے کی تفصیل یہ ہے کہ فیوچر ٹریڈ میں عقد بیع کے وقت مبیع (Subject matter)  حوالے نہیں کی جاتی بلکہ حقیقت اور نتیجے کے اعتبار سےیہ طے کیا جاتا ہے کہ آج طے کی گئی قیمت کے مطابق،فلاں متعین تاریخ کو قیمت میں جو فرق ہوگا اس بنیاد پر نفع نقصان کا فیصلہ کریں گے،یہی عنصرقمار میں بھی پایا جاتا ہے۔اسی طرح جہاں تک بات ہے قمار میں  ایک کی جیت(نفع) دوسرے کی ہار(نقصان)پر منحصر ہوتی ہے جبکہ فیوچر ٹریڈ میں ایسا نہیں ہوتا،یہ بات بھی غلط ہے،اس لیے کہ فیوچر ٹریڈ میں بھی بعینہ یہی ہوتا ہے کہ اندازے کے مطابق مستقبل کی کسی تاریخ پر قیمت کا اندازہ لگایا جاتا ہےاور پھر اس متعین تاریخ(at the time of settlement) پر ایک کا نفع دوسرے کے نقصان پر منحصر ہوتا ہے۔سوال میں مذکور دیگر فروق بھی اسی نوعیت کے ہیں لہٰذا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ فیوچر ٹریڈ میں قمار یعنی سٹہ بازی کا عنصر شامل نہیں ہے۔

حوالہ جات

(فقہ البیوع،ج:۱،ص:۴۸۴)

۲۲۱ - الشرط الثاني : أن يكون البيع معقوداً في الحال

ومن شروط انعقاد البيع أن يُعقد في الحال، فلا ينعقد البيع إن أضيف إلى مستقبل، مثل أن يقول: بعتك هذا الشيئ بكذا لتاريخ كذا. وإنه في حكم التعليق في عدم صحة البيع بالاتفاق، ولكن الظاهر من عبارات الحنابلة والشافعية أنهم يدخلون الإضافة في التعليق ويجعله الحنفية قسماً مستقلاً عن التعليق، لفرق دقيق بینهما،وإن كان حكمهما في فساد البيع واحداً…وبالجملة، فالبيع من العقود التي لا تقبل الإضافة إلى المستقبل، وعلله في الدر المختار بأنها تمليكات للحال، فلا تضاف إلى الاستقبال، كما لا تعلق بالشرط، لما فيه من القمار. " وقال ابن عابدين رحمه الله تعالى: "حاصله أنه تمليك على سبيل المخاطرة، ولما كانت هذه تمليكات للحال، لم يصح تعليقها بالخطر لوجود معنى القمار. "

      محمد حمزہ سلیمان

      دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

      ۰۷.جمادی الآخرۃ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب