03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فیوچر ٹریڈ ،ترکہ میں ملکیت اور قبضے کی طرح ہے،لہٰذا جائز ہونی چاہیے،کیا یہ بات درست ہے؟
85935خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

فیوچر ٹریڈ ترکہ میں ملکیت اور قبضے کی طرح ہے لہٰذ اجائز ہونی چاہیے۔وراثت میں ایک شخص جب انتقال کرتا ہےتو اس کی ملکیت یا مال وراثت کے طور پر اس کے وارثین میں منتقل ہوتا ہے اگر چہ وارثین کو قبضہ فوراً نہیں ملتا، لیکن ان کی اعتباری ملکیت فوراً قائم ہو جاتی ہے کہ اس دوران اگر مثال کے طور پر گھر وغیرہ کی قیمت گھٹتی یا بڑھ جاتی ہے تو اس کا فائدہ یا نقصان ورثاء کو ہی ہوگا۔ اسی طرح فیوچر ٹریڈنگ میں معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس دوران جتنی بھی کسی کوائن کی ویلیو بڑھی یا گھٹی ہے،اس حساب سے معاہدہ پورا ہو کر قیمت پر قبضہ آپ کےپاس (Wallet) میں آجاتا ہے، جو ملکیت کی دلیل ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ سؤال میں فیوچر ٹریڈ کو وراثت پر قیاس کرکے جائز قرار دیا گیا ہے،حالانکہ فیوچر ٹریڈ کو وراثت پر قیاس کرنا درست نہیں،وہ اس طرح کہ وراثت کوئی عقد معاوضہ نہیں ہے بلکہ وراثت میں ملکیت اضطرارا ثابت ہوتی ہے،کسی عقدمعاوضہ کے نتیجے میں ثابت نہیں ہوتی۔

حوالہ جات

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 229)

والمراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه.

الموسوعة الفقهية الكويتية (11/ 206)

التركة لغة: اسم مأخوذ من ترك الشيء يتركه تركا. يقال: تركت الشيء تركا: خلفته، وتركة الميت: ما يتركه من الميراث، والجمع تركات  .وفي الاصطلاح، اختلف الفقهاء في تعريفها.فذهب جمهور الفقهاء - المالكية والشافعية والحنابلة - إلى أن التركة: هي كل ما يخلفه الميت من الأموال والحقوق الثابتة مطلقا.وذهب الحنفية إلى أن التركة: هي ما يتركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعينه.ويتبين من خلال التعريفين أن التركة تشمل الحقوق مطلقا عند الجمهور، ومنها المنافع. في حين أن المنافع لا تدخل في التركة عند الحنفية. فإن الحنفية يحصرون التركة في المال أو الحق الذي له صلة بالمال فقط على تفصيل يأتي .

      محمد حمزہ سلیمان

      دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

      ۰۷.جمادی الآخرۃ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب