03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فیوچر ٹریڈ زمین کی خرید وفروخت کی طرح ہے،لہٰذا جائز ہونی چاہیے،کیا یہ بات درست ہے؟
85933خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

جب آپ زمین خریدتے ہیں تو اس کا جسمانی قبضہ حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا لیکن جیسے ہی آپ اس زمین کی ملکیت قبول کرتے ہیں تو آپ اس کے نفع و نقصان کے ذمہ دار بن جاتے ہیں (مثلاً قیمت کم ہو جائے یا کوئی نقصان ہو)۔ فقہاء نے یہ واضح کیاہے کہ یہ نفع و نقصان قبول کرنا شرعی قبضہ اور ملکیت کے لیے کافی ہے، چاہےجسمانی طور پر زمین آپ کے قبضے میں نہ ہو۔لہذا فیوچر ٹریڈنگ میں پوزیشن کھولتے ہی آپ اس کے نفع یا نقصان کے مالک بن جاتے ہیں جو اس اثاثے کے ملکیت میں آنےکی دلیل ہے، ایسے ہی کرنسی کے لین دین میں جب رقم آپ کے اکاؤنٹ میں آجاتی ہےتو یہ شرعی قبضہ شمار ہوتا ہے، حالانکہ آپ نے اسے جسمانی طور پر نہیں دیکھا ہوتا،پھر بھی شریعت اسے اعتباری ملکیت شمار کرتی ہے،لہٰذا( زمین کی خرید وفروخت پر قیاس کرتے ہوئے )فیوچر ٹریڈ جائز ہونی چاہیے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ سؤال میں فیوچر ٹریڈ کو زمین کی خرید وفروخت اور اس کے نتیجےمیں زمین پر شرعی قبضے کے تحقق پر قیاس کرکے جائز قرار دیا گیا ہے،حالانکہ زمین کی خرید وفروخت اور زمین میں خریدار کے شرعی قبضے کے تحقق پر فیوچر ٹریڈ کو قیاس کرنا درست نہیں،وجہ اس کی یہ ہے کہ فقہائے احناف کے ہاں زمین کی خرید وفروخت قبضہ حاصل کرنے سے پہلے بھی جائز ہے ،فقط تخلیہ کافی ہے،کیوں کہ قبضہ سے پہلے خرید وفروخت کی ممانعت کی اصل وجہ غرر ہے ،غرر کا مطلب کسی چیز کاحصول مشکوک ہوناہے، جبکہ زمین کا وجود اور اس وجود کا باقی رہنا تقریباً یقینی ہوتا ہے،اس بناء پر اگر کسی نے زمین خرید لی اور قبضہ حاصل کرنے سے پہلے آگے فروخت کردی تو اس میں حرج نہیں ہوگا، البتہ زمین کے علاوہ باقی چیزیں قبضہ حاصل کیے بغیر فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔یاد رہے دو طرح کی اشیاء ہوتی ہیں،ایک کو کہتے ہیں منقولی(moveable) اور دوسری قسم کی اشیاء کو کہتے ہیں غیر منقولی(immoveable)،غیر منقولی اشیاء کو چونکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جاسکتا لہٰذا اس میں فقط تخلیہ(Relinquishment) سے بھی شرعی قبضے کا تحقق ہوجاتا ہے،جبکہ منقولی اشیاء میں شرعی قبضے کے تحقق کے لیے ضروری ہے کہ بائع اپنے مالکانہ تصرف سے الگ کرکے خریدار کا قبضہ حقیقی یا حکمی طور پر یقینی بنائے،جبکہ کرپٹو وغیرہ کا تعلق منقولی اشیاء سے ہےاوران کی فیوچر ٹریڈ میں قبضہ نہیں کروایا جاتا۔دوسری بات یہ ہے کہ کرپٹو کا تعلق اعیان(جو متعین بالتعیین ہو) سے نہیں بلکہ غیراعیان(جو متعین بالتعیین نہ ہو)سے ہے،اور غیر اعیان میں سوائے قبضے کے تعیین ممکن نہیں ہوتی ،لہٰذا فقط نفع نقصان کی ذمہ داری منتقل کرنے سے کرپٹو میں تعیین نہیں ہوگی بلکہ شرعی قبضے کے تحقق کے لیے ضروری ہوگا کہ کرپٹو کو باقاعدہ خریدار کے اکاؤنٹ میں منتقل کیا جائے،جوکہ عقد کے وقت نہیں کیا جاتا،لہٰذا فیوچر ٹریڈ کو زمین کی خرید وفروخت پر قیاس کرنا درست نہیں ہے۔(فیوچر ٹریڈ کے عدم جواز کی تفصیلی وجوہات کے لیے دیکھیے"فیوچر ٹریڈنگ کاحکم")

حوالہ جات

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

 ۰۷.جمادی الآخرۃ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب