| 85806 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
امتحان میں نقل کرنا شرعا ً کیسا ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
امتحان کامقصدطالب علم کی علمی استعداد اورصلاحیت کوجانچنا ہوتاہے۔طالب علم کی ذمہ داری ہے کہ دیانت داری کے ساتھ اپنی صلاحیت اور استعداد کو ممتحن کے سامنے پیش کرے ،اس دوران نقل کرنا یہ خیانت اور دھوکہ دہی ہے جوکہ بڑا گناہ ہے ،لہذا طالب علم کی ذمہ داری ہے کہ امتحان میں پاس ہونے کےلیے مطلوبہ صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کرے ،خیانت دھوکہ دہی سے پرہیز کرے ۔
نیز نقل کے ذریعہ ڈگری لینا اور اس ڈگری سے ملازمت حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں ، خاص طور پر اگر اس ڈگری پر ہی اس نوکری کامدار ہوتو ایساکرناجائز نہ ہوگا۔ باقی اگر کسی نے اس طرح ملازمت حاصل کرلی ہو تو جو تنخواہ وصول کی جائے ،اس کے حلال یا حرام ہونے سے متعلق ضابطہ یہ ہے کہ اگر اس شعبے کے ماہرین کی نظر میں مذکورہ شخص متعلقہ ملازمت اور نوکری کی صلاحیت رکھتاہو اور پھراس کے تمام امور دیانت داری کے ساتھ انجام بھی دیتا ہو ،تو اس کی تنخواہ حلال شمار ہوگی ۔
حوالہ جات
وعنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها فنالت أصابعه بللا فقال : " ما هذا يا صاحب الطعام ؟ " قال : أصابته السماء يا رسول الله قال : " أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس؟ من غش فليس مني . رواه مسلم .مشكاة المصابيح للتبريزي (2/ 144)
ارشاد احمدبن عبد القیوم
دار الافتاءجامعۃالرشید ،کراچی
9/جمادی الاخریٰ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ارشاد احمد بن عبدالقیوم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


