| 85833 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میری بیٹی کی شادی نومبر یا دسمبر 2016 میں ہوئی، اور کچھ مدت کے بعد ان کا ایک بچہ بھی ہوا۔ وہ بہت خوش تھے، لیکن اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ کچھ مدت کے بعد، یعنی 2019 میں، اُن کے شوہر کا ایکسیڈنٹ ہوا۔ وہ ایک مہینہ یا کچھ اور وقت تک کوما میں رہے، اور اُس کے بعد اُن کی آنکھیں کھل گئیں، لیکن وہ کسی کو پہچانتے نہیں تھے۔ اسی طرح، کچھ مدت کے بعد وہ باتیں کرنے لگے، لیکن آج تک اپنے بہن بھائیوں کے علاوہ کسی کو نہیں پہچانتے۔ یہاں تک کہ اپنی بیوی کو بھی نہیں۔ نہ ہی اُنہیں نماز اور نہ ہی کسی اور وقت کا شعور ہے، اور نہ ہی اتنا ہوش ہے کہ وہ اپنے پیشاب کو روک سکیں۔ وہ خود چل پھر نہیں سکتے اور نہ ہی کسی درد کا احساس ہوتا ہے، مثلاً کسی اور شخص کی طرح بخار یا سر درد وغیرہ کی شکایت نہیں کرتے۔ ان کے بھائی اُن کی خدمت کرتے ہیں۔ ان کی بیوی، یعنی میری بیٹی، نے ان کی خدمت کی، لیکن پھر وہ خود بیمار ہو گئی۔ میں اُسے اپنے گھر لے آیا۔اب سوال یہ ہے کہ
میری بیٹی اُس شخص کے نکاح میں کتنی مدت تک رہ سکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت کے مطابق، نکاح شوہر کی بیماری یا معذوری سے خود بخود ختم نہیں ہوتا۔ آپ کی بیٹی اپنے شوہر کے نکاح میں صبر کے ساتھ رہنا چاہے تو رہ سکتی ہے اور خدمت کرکے اجرِ عظیم کما سکتی ہے۔ تاہم، چونکہ شوہر کی مذکورہ کیفیت جنون کی طرح ہے، نہ ہی وہ حقوق زوجیت پر قادر ہے اور نہ ہی نان و نفقہ کمانے پر، نیز عورت جوان ہے اور دیگر خطرات بھی ہو سکتے ہیں، لہذا اگر اس کے لیے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہو تو وہ شرعی عدالت میں فسخِ نکاح کی درخواست دے سکتی ہے۔ قاضی حالات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گا۔
صبر اور خدمت پر اجر ضرور ہے، لیکن شوہر کی ایسی بیماری کی صورت میں نکاح ختم کرانا بھی شرعاً جائز امر ہے۔ لہذا اسے دو راستوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار ہوگا۔
اگر عورت حالات کے پیشِ نظر جدائی کا راستہ اختیار کرتی ہے تو اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ وہ اپنا دعویٰ قریبی عدالت میں پیش کرے گی اور دو معتبر مرد یا ایک معتبر مرد اور دو معتبر عورتوں کی گواہی سے اسے ثابت کرنا ہوگا۔ پھر عدالت علاج کے لیے خاوند کو ایک سال کی مہلت دے گی۔ اگر سال میں خاوند ٹھیک ہو گیا تو اچھی بات ہے، رشتہ برقرار رکھا جائے گا، ورنہ اس کے بعد جنون، نفقہ کی عدم ادائیگی وغیرہ جیسی صحیح بنیاد پر عدالت سے فسخِ نکاح کی ڈگری حاصل کی جائے گی، اور اس کے بعد یہ عورت عدت گزار کر کہیں اور نکاح کر سکے گی۔
واضح رہے کہ موجودہ زمانے میں عدالتوں سے جاری ہونے والی خلع کی اکثر ڈگریاں غیر شرعی بنیادوں پر ہونے کی وجہ سے شرعاً غیر مؤثر ہوتی ہیں اور ان سے نکاح ختم نہیں ہوتا۔ لہذا جب آپ کی بیٹی ضرورت کے وقت عدالت سے خلع لے تو کسی شرعی بنیاد مثلاً جنون یا نفقہ نہ ملنے کی وجہ سے دعویٰ دائر کرے اور اپنے اس دعویٰ کو شرعی گواہوں (دو دیانتدار مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی) سے ثابت بھی کرے، ورنہ غیر شرعی بنیاد اور بغیر شرعی گواہوں کے ایک فریق کے بیانِ حلفی پر لیا جانے والا عدالتی فیصلہ شرعاً غیر معتبر ہوگا اور اس سے نکاح ختم نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
التهذيب في اختصار المدونة (2/ 221)
[قال مالك:] وإذا حدث بالزوج جنون بعد النكاح عزل عنها وأجل سنة لعلاجه، فإن صح وإلا فرق بينهما، وقضى به عمر بن الخطاب.
الذخيرة للقرافي (4/ 432)
إذا حدث بالزوج جنون بعد النكاح عزل عنها وأجل سنة لعلاجه فإن صح وإلا فرق بينهما وقضى به عمر رضي الله عنه وقال ربيعة إن أذاها لم تحبس عنده وإلا لم يجز طلاقه.(وکذا فی منح الجليل شرح مختصر خليل (3/ 385)
فی الفتاوى الهندية - (1 / 544)
تَجِبُ عَلَى الرَّجُلِ نَفَقَةُ امْرَأَتِهِ الْمُسْلِمَةِ وَالذِّمِّيَّةِ وَالْفَقِيرَةِ وَالْغَنِيَّةِ دَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ كَبِيرَةً كَانَتْ الْمَرْأَةُ أَوْ صَغِيرَةً يُجَامَعُ مِثْلُهَا كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ سَوَاءٌ كَانَتْ حُرَّةً أَوْ مُكَاتَبَةً كَذَا فِي الْجَوْهَرَةِ النَّيِّرَةِ
وفی الموسوعة الفقهية الكويتية (5/ 254)
وإذا عجز الزوج عما وجب عليه من النفقة على التفصيل السابق، وطلبت الزوجة التفريق بينها وبين زوجها بسبب ذلك، فعند المالكية والشافعية والحنابلة يفرق بينهما.وذهب الحنفية إلى أنه لا يفرق بينهما بذلك، بل تستدين عليه، ويؤمر بالأداء من تجب عليه نفقتها لولا الزوج.
الموسوعة الفقهية الكويتية (29/ 287)
- إذا عجز الزوج عما وجب عليه من النفقة، وطلبت الزوجة التفريق بينها وبين زوجها، فعند المالكية والشافعية والحنابلة يفرق بينهما، وذهب الحنفية إلى أنه لا يفرق بينهما بذلك بل تستدين عليه، ويؤمر بالأداء من تجب عليه نفقتها لولا الزوج.
والقانون الوضعی لباکستان عن التفریق بین الزوجین بسبب عدم دفع الزوج نفقتھاانما وضعت حسب قول الجمھورفھورافع للخلاف.
الموسوعة الفقهية الكويتية (41/ 67)
للمرأة حق طلب التفريق بينها وبين زوجها لعجزه عن الإنفاق، فإن امتنع فرق الحاكم بينهما.
وإليه ذهب المالكية وهو الأظهر عند الشافعية والصحيح عند الحنابلة ، وهذا التفريق فسخ عند الشافعية والحنابلة وطلاق رجعي عند المالكية، وهذا مروي عن عمر وأبي هريرة وابن عمر رضي الله عنهم، وبه قال سعيد بن المسيب والحسن وإسحاق وأبو ثور وغيرهم.
مستندين في ذلك إلى قوله عز وجل: {فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان } فقد أمر سبحانه بإمساك الزوجة بالمعروف أو التسريح بإحسان، وعدم إنفاق الزوج عليها تفويت للإمساك بالمعروف، فيتعين الثاني وهو التسريح بالإحسان .ولما روي أن عمر رضي الله عنه كتب إلى أمراء الأجناد فيمن غاب عن نسائه من أهل المدينة، فأمرهم أن يرجعوا إلى نسائهم إما أن يفارقوا وإما أن يبعثوا بالنفقة، فمن فارق منهم فليبعث بنفقة ما ترك .ولما روي عن سعيد بن المسيب أن أبا الزناد سأله عن الرجل لا يجد ما ينفق على امرأته، قال: يفرق بينهما، قال أبو الزناد: قلت: سنة؟ فقال: سنة . قال الشافعي: ويشبه أنه سنة النبي صلى الله عليه وسلم.ولأنه إذا ثبت الفسخ بالعجز عن الوطء، والضرر فيه أقل، فلأن يثبت بالعجز عن النفقة التي لا يقوم البدن إلا بها أولى.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
9/6/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


