| 85887 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے متعلق کہ ایک شخص (میرے بھائی) محمد اسامہ ولد جمیل احمد کا نکاح اپنی خالہ زاد سائرہ بنت محمد صفر کے ساتھ 20 جنوری 2022 کو بحق مہر مؤجل 30000 روپے کہ ہوا۔اور رخصتی فوراً نہیں ہوئی بلکہ تقریباً دو سال کا وقت طے پایا ۔ ( اس سے قبل منگنی 24 دسمبر 2021 کو ہوئی تھی اس وقت بھی دو سال کا وقت طے کیا تھا لیکن پھر لڑکی والے اپنی بات سے پھر گئے اور رخصتی دینے سے انکار کردیا تھا ) اب جب رخصتی کا وقت قریب آیا تو ان لڑکی والوں نے رخصتی دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ ہم اس نکاح سے مطمئن نہیں ہیں اور ہم اس نکاح کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور ہم خلع چاہتے ہیں ہم نے خلع دینے سے انکار کردیا اور انہیں سمجھایا ،لیکن وہ نہ مانے اور عدالت جانے کی دھمکی دی ، بلآخر انہوں نے عدالت جاکر خلع کے لیے درخواست دائر کردی اور اس میں کچھ غلط ی بھی کی ۔ مثلاً لڑکا بد تمیز ہے، اور یہ ہماری غربت کا مزاق بناتے ہیں ،طعنہ دیتے ہیں اور یہ کہ یہ ہمیں جہیز میں کیا کیا دینگے کی باتیں کرتیں ہے وغیرہ وغیرہ ۔ یہ باتیں کو کہ سراسر غلط ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ہمیں عدالت کی جانب سے طلب کیا گیا لیکن ہم نہیں گئے کیونکہ ہم خلع نہیں دینا چاہتے تھے اور اس گناہ میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے ۔ عدالت کی طرف سے انہیں (لڑکی والوں کو ) خلع کی ڈگری دیدی گئی ۔ مفتیانِ کرام! صرف اس وجہ سے خلع لینا کہ ہم اس سے مطمئن نہیں جائز ہے ؟؟ عدالتی خلع سے خلع ہوجاتی ہے ؟؟؟ جواب سے رہنمائی فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں جزاکم اللہ خیرا کثیرا مولوی محمد احمد میرپورخاص سندھ 03124970966
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خلع دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد مالی ہے،جس میں بیوی اپنے مہرکےعوض شوہرکےنکاح سے خلاصی حاصل کرتی ہے،جس طرح دیگر عقود مالیہ میں عاقدین یا ان کے وکلاءکی جانب سےایجاب وقبول شرعا ضروری ہو تا ہےتو اسی طرح خلع میں بھی ایجاب وقبول شرعا ضروری ہوگا ۔اگر میاں بیوی کی طرف سے یا ان کے وکلاءکی طرف سے ایجاب وقبول پا یا جا ئے تو یہ خلع شرعا معتبر ہو گی اوراس سے ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی ،اوراگر عدالتی خلع میں شوہریا اس کےوکیل کی طرف سے قبول نہ پایا گیاتو یہ خلع معتبر نہ ہوگی۔ تاہم کبھی خلع کی ڈگری میں ایسے اسباب موجود ہوتے ہیں،جو ٖفسخ نکاح کا سبب بن سکتے ہیں جن کی بنا پر اس فیصلے کو شرعا بھی معتبر مانا جاتاہے۔لہذا خلع کی ڈگری کسی دارالافتاء میں بالمشافہ دکھاکریا ارسال کرکے استفاء کرلیا جائے۔
مذکورہ صورت میں جب لڑکی والے خلع مانگ رہے ہیں تو آپ کو چاہیے کہ خوہ مخواہ ضد نہ کریں اور خلع دے کر خود دوسری جگہ نکاح کر لیں اور لڑکی بھی آزاد ہوکر دوسری جگہ نکاح کرسکے ۔
حوالہ جات
﴿فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا یُقِیمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡهِمَا فِیمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِۦۗ تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَعۡتَدُوهَا وَمَن یَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَأُو۟لَٰۤئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ 229﴾ [البقرة: 229-230]
قال ابن الهمام رحمہ اللہ:(وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به) لقوله تعالى {فلا جناح عليهما فيما افتدت به} (فإذا فعلا ذلك وقع بالخلع تطليقة بائنة ولزمها المال) لقوله صلى الله عليه وسلم «الخلع تطليقة بائنة. (فتح القدير: 4/ 211)
قال العلامة الكا ساني رحمه الله:وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول. (بدائع الصنائع : 3/ 145)
واجد علی
دارالافتاء جا معۃ الرشید کراچی
13/جمادی الثانیہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | واجد علی بن عنایت اللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


