03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کمپنی کا لوگوں سے بطورِ مضاربت رقم لینے کا حکم اور معاہدہ کا جائزہ
85867مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

ہم نے دار الافتاء جامعۃ الرشید سے مضاربت کے بارے میں فتویٰ نمبر: 78480 لیا تھا، اس کی روشنی میں درجِ ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:-

(1)۔۔۔ سائل نے ابھی اپنی کمپنی کے لیے اس فتویٰ کے مطابق جدید قواعد و ضوابط بنادئیے ہیں جن کی کاپی منسلک ہے، اس کی تصدیق درکار ہیں کہ یہ شرائط اس فتویٰ کے مطابق درست ہیں یا نہیں؟

(2)۔۔۔ مذکورہ فتویٰ کے سوال کی شرط نمبر 2 (ایک لاکھ روپے پر متوقع ماہانہ اوسط نفع پانچ ہزار سے نو ہزار کے درمیان ہوگا) کی تفصیل درکار ہے کہ یہ کیوں جائز ہے؟ اگر یہ نفع اصل سرمایہ کی بنیاد پر دیا جارہا ہو تو یہ مضاربت کے شرعی اصولوں کے خلاف نہیں؟ اسی طرح اگر اس سے مراد نفع کی تعیین ہو کہ اصل نفع کو دیکھے بغیر آپ کو ایک لاکھ پر نو ہزار روپے میں ملیں گے تو یہ شریعت کے خلاف نہیں؟ نیز یہ بتائے بغیر کہ اتنے سرمایہ پر اتنا نفع متوقع ہے اور آپ کو اتنا دیں گے، کیا یہ درست ہے؟

(3)۔۔۔ مذکورہ فتویٰ کے سوال کی شرط نمبر 3 (منافع کی بیس فیصد رقم بطورِ سروس چارجز وصول کرنا) یہ شرط شریعت کے مطابق ہے یا مخالف؟ اگر کمپنی والے تمام اخراجات نکالنے کے بعد رب المال سے سروس چارجز کے نام پر اس کے منافع کے بیس فیصد کا مطالبہ کرے تو یہ جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو اس کو کس چیز کے بدلے میں قرار دیا جائے گا، جبکہ اخراجات پہلے ہی نکالے گئے ہوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(1)۔۔۔  ان میں شرط نمبر:4 مبہم ہے، 12 ماہ سے پہلے رقم نکالنے پر بقدرِ نقصان کٹوتی سے کیا مراد ہے؟ اگر اس سے مراد حقیقی نقصان ہے تو اس کی ضرورت نہیں، کیونکہ نقصان 12 ماہ سے پہلے ہو یا بعد میں، اس کا حکم ایک ہے، جس کا ذکر شرط:10 میں کیا گیا ہے۔ اور اگر اس سے مراد یہ ہو کہ کمپنی 12 ماہ سے پہلے رقم نکالنے پر کٹوتی کرے گی تو یہ جائز نہیں۔ سابقہ سوال کی اس شرط میں نقصان کی بات نہیں تھی، ٹیکس کی بات تھی اور سائل نے اس کی وضاحت یہ کی تھی کہ ہم رقم دبئی سے بھیجتے ہیں، ٹیکس سے مراد رقم بھیجنے پر آنے والے اخراجات ہیں۔

اسی طرح شرط:7 میں مزید سرمایہ دینے کی صورت میں سرمایہ کو 7 کاروباری دن کے بعد کمپنی کے کاروبار میں شامل کرنے سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ سات دن کمپنی وہ رقم اپنے لیے بطورِ قرض استعمال کرے گی یا انتظامی مجبوری کی وجہ سے فوری طور پر کاروبار میں شامل کرنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے اپنے پاس بطورِ امانت رکھے گی؟ دوسری صورت (انتظامی مجبوری کی وجہ سے بطورِ امانت اپنے پاس رکھنے) میں کوئی حرج نہیں۔ پہلی صورت جائز نہیں، کیونکہ یہ رقم کمپنی کے پاس امانت ہوتی ہے جو وہ اپنے لیے استعمال نہیں کرسکتی، اگر بالفرض اس شرط میں اپنے لیے استعمال کرنے کی صراحتا اجازت لی جائے تب بھی یہ جائز نہیں ہوگی؛ کیونکہ اس صورت میں مضاربت کو قرض کے ساتھ مشروط کرنا لازم آئے گا جو صفقۃ فی صفقۃ (ایک عقد کو دوسرے عقد کے ساتھ مشروط کرنا) میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔  

(2)۔۔۔ اگر اس فتویٰ کو بغور پڑھا جائے تو اس میں کوئی ابہام نہیں، بات واضح ہے، اس میں رب المال کے لیے سرمایہ کے حساب سے نفع کی تعیین یا لم سم رقم کی شکل میں نفع کی تعیین کو ہرگز جائز قرار نہیں دیا گیا، ذیل میں پہلے سوال کی شرط نمبر 2 ملاحظہ فرمائیں:

"100,000  پاکستانی روپیہ پر متوقع اوسط ماہانہ واپسی (نفع) تقریبا 5,000 پاکستانی روپیہ سے 9,000 پاکستانی روپیہ کے درمیان ہوگا۔ "

اب اس فتویٰ میں اس کا جو جواب دیا گیا ہے وہ ملاحظہ فرمائیں :

"اگر شرط نمبر 2 کا مقصد نفع کی تعیین نہیں، بلکہ ایک اندازہ بتانا ہو کہ عام طور سے 5,000 سے 9,000 کے درمیان نفع آتا ہے، جیسا کہ سوال میں درج اس شرط کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہو رہا ہے تو یہ شرط مضاربت کے شرعی اصولوں کے خلاف نہیں۔ لیکن اگر نفع کی تعیین مقصود ہو کہ 5,000 نفع آپ کو لازماً ملے گا، باقی 9,000 تک بھی مل سکتا ہے تو پھر یہ شرط شرعا درست نہیں؛ جس کی تفصیل ذیل میں شق (2) کے تحت آرہی ہے۔"

پھر مزید تفصیل محولہ شق میں ذکر کی گئی ہے۔ لہٰذا مضاربت میں نفع کی تعیین نفع کے فیصدی تناسب سے کرنا ضروری ہے کہ جتنا بھی نفع ہوگا، اس کا اتنا فیصد (مثلا 50 فیصد) آپ کو ملے گا اور اتنا فیصد (مثلا 50 فیصد) ہم لیں گے۔ نفع کو سرمایہ کے ساتھ مربوط کرنا کہ آپ کے سرمایہ کا دس فیصد آپ کو بطورِ نفع ملے گا یا لم سم رقم کی شکل میں متعین کرنا جائز نہیں۔

(3)۔۔۔  اس فتویٰ میں بیس فیصد نفع بطورِ سروس چارجز لینے کو کاروبار کے مجموعی نفع میں کمپنی کے حصہ پر محمول کر کے لکھا گیا ہے کہ اگر اس سے مراد نفع میں کمپنی کا حصہ ہو کہ بیس فیصد نفع کمپنی کا ہوگا اور اسی فیصد رب المال کا تو یہ جائز ہے، یہ بات وضاحت کے ساتھ فتویٰ میں موجود ہے۔

لہٰذا اگر اس سے نفع میں کمپنی کا حصہ مراد نہ ہو، بلکہ کاروبار کے اخراجات نکالنے اور نفع تقسیم کرنے کے بعد رب المال کے حصۂ نفع سے ویسے ہی بیس فیصد کمپنی کو دینا مراد ہو تو یہ جائز نہیں، البتہ کمپنی اور رقم دینے والا باہم رضامندی سے عقد کے وقت ہی نفع میں کمپنی کا حصہ اس قدر  زیادہ رکھے تو یہ جائز ہے، مثلا اگر کمپنی اور رب المال نفع پچاس، پچاس فیصد کے حساب سے تقسیم کرتے ہیں اور پھر کمپنی اس سے اس کے پچاس فیصد کا بیسواں حصہ مانگتی ہے تو شروع سے اس بیس فیصد کو کمپنی کے حصۂ نفع میں شامل کر کے اس کے لیے ستر فیصد نفع اور سرمایہ دینے والے کے لیے تیس فیصد نفع مقرر کیا جائے۔  

حوالہ جات

۔

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

        12/جمادی الآخرۃ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب