| 85858 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میں ایک اسٹارٹ اپ میں کام کرتا ہوں،یہاں میری سیلری ہے اور 0.75 اکویٹی ہے۔ میرا کام سوفٹ ویئر ڈویلپ کرنا ہے اور بزنس ڈسکشن میں کوئی عمل دخل نہیں۔ یہ ایک مارکیٹنگ کمپنی ہے جو SDK یا plugin دیتی ہے،جب دوسری کمپنی سے کنٹریکٹ ہو جاتا ہے اور وہ اس SDK کو اپنے digital platforms یعنی ویب سائٹ یا موبائل ایپ میں انٹیگریٹڈ کر دیتے ہیں اور پھر جو client company کا ڈیٹا receive ہوتا ہے تو اس پر مارکیٹنگ کیمپینس چلتی ہیں۔ ابھی تک جن بزنس کے ساتھ ہم کام کر رہے تھے وہfood, medical, e-commerce،ان ڈومینز کی companies تھیں۔ اب کمپنی کا رجحان banks, boycotted companies کی طرف بڑھ رہا ہے اور business deal کی طرف جارہے ہیں،جیسا کہ conventional banks میں کام کو صحیح نہیں سمجھا جاتا تو اس حوالے سے اس کمپنی کی آمدن کا کیا حکم ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ میں SDKs (Software Development Kits)، Plugins اور Widgets تین طرح کے ٹولز استعمال ہوتے ہیں، یہ تینوں ٹولز مختلف مقاصد اور طریقوں سے سسٹم کی فعالیت کو بڑھانے یا کسی خاص مقصد کے لیے سسٹم کی تخصیص میں مدد دیتے ہیں۔
(Software Development Kit)SDK
ایس ڈی کے(SDK)مختلف ٹولز، لائبریریز، دستاویزات، اور دیگر وسائل کا ایک مجموعہ ہوتا ہے ، جو ڈویلپرز کو مخصوص سافٹ ویئر یا پلیٹ فارم پر ایپلیکیشنز بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ ایس ڈی کے میں عموماً API (Application Programming Interface) بھی شامل ہوتا ہے، جس کے ذریعے ڈویلپرز سسٹم کی موجودہ خصوصیات یا فنکشنز کو اپنی ایپلیکیشن میں شامل کرسکتے ہیں۔
مثال: اگر آپ موبائل ایپلیکیشن ڈویلپ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو IOS یا Android کا SDK استعمال کرنا پڑے گا۔
Plugin
پلگ ان ایک اضافی ماڈیول ہوتا ہے، جو کسی بنیادی سسٹم یا سافٹ ویئر کی فعالیت میں اضافہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہوتا ہے۔ پلگ انز، سافٹ ویئر کی بنیادی صلاحیتوں کو توسیع دینے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، اور یہ عموماً کسی خاص فریم ورک یا ایپلیکیشن کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں۔
مثال: ویب براؤزر میں "Add Blocker" ایک پلگ ان ہے، جو اضافی خصوصیت (ایڈ بلاکنگ) فراہم کرتا ہے۔
Widget
ویجیٹ ایک چھوٹا سا گرافیکل یوزر انٹرفیس (GUI) عنصر ہوتا ہے، جو کسی ویب سائٹ یا ایپلیکیشن میں مخصوص فنکشن فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ویجیٹ ایک خود مختار، محدود فعالیت کے حامل ٹول کے طور پر کام کرتا ہے، اور اسے کسی بڑی ایپلیکیشن یا ویب سائٹ کے اندر ضم کیا جا سکتا ہے۔ یہ صارفین کو فوری معلومات یا آسان فعالیت فراہم کرتا ہے جیسے کہ موسم کی معلومات،کیلنڈر یا کیلکولیٹر۔
مثال: ایک ویب سائٹ پر موسمی اطلاعات دکھانے والا ویجیٹ، جو آپ کی لوکیشن کے مطابق موسمی رپورٹ فراہم کرتا رہتاہے۔
خلاصہ
- SDK ٹولز کا ایک مکمل سیٹ ہوتا ہے، جو ڈویلپرز کو ایپلیکیشن بنانے میں مدد دیتا ہے۔
- Plugin کسی موجودہ سسٹم کی خصوصیات کو بڑھانے کے لیے استعمال ہونے والا ماڈیول۔
- Widget ایک چھوٹا یوزر انٹرفیس جزو ،جو مخصوص معلومات یا یا مخصوص قسم کی فعالیت فراہم کرتا ہے۔
ایک حسی مثال سے یوں سمجھ سکتے ہیں کہ SDK کی مثال خالی پلاٹ یا زمین کی ہے،جس پر تعمیرات یا فصل لگائی جاسکتی ہے،pluginکی مثال زمین پر کی گئی تعمیرات میں دیگر سہولیات کا انتظام ہے،مثلاً بجلی کے عام کنکنشن سے خاص گھر کے لیے کنکشن کا انتطام کرنا وغیرہ،widget کی مثال گھر کے باہر لگے ہوئے تین مختلف گھنٹیوں کے بٹن ہیں جو مکان کی تین مختلف منزلوں میں رہنے والے مکینوں کے لیے الگ الگ ہیں ۔
شرعی حکم
اگر سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی صرف ایسے سافٹ ویئر بناتی ہو جو سودی بینک،انشورنس کمپنی یا اسی طرح کے کسی ناجائز کام کرنے والی کمپنی میں،صرف ناجائز کاموں کے لیےہی استعمال ہوتے ہوں یا ان سافٹ ویئر کا استعمال جائز اور ناجائز دونوں طرح کے معاملات میں ہوتا ہو لیکن سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی ناجائز معاملات میں معاونت کی نیت سے معاملہ کرتی ہو ،اپنا سافٹ ویئر بیچتی ہو اور دیگرخدمات فراہم کرتی ہو یا عقد کرتے وقت مذکورہ سافٹ ویئر کے ناجائز معاملات میں استعمال کی صراحت کردی گئی ہو تو ایسی صورت میں ایسی سافٹ ویئر کمپنی کی آمدن جائز نہیں ہوگی،البتہ اگر وہ سافٹ ویئرز جائز معاملات میں بھی استعمال ہوتے ہوں اور عقد کرتے وقت، ناجائز معاملات میں استعمال کی صراحت نہ کی گئی ہو اور نہ سافٹ ویئرز ناجائز معاملات مین تعاون کی نیت سے بیچے گئے ہوں اور نہ بیچتے وقت یہ معلوم ہو کہ بینک یا انشورنس کمپنی یا اسی طرح کے کسی ناجائز کام کرنے والی کمپنی ان سافٹ ویئرز کو لازماً ناجائز معاملات میں استعمال کرے گی تو ایسی صورت میں ایسی سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی کی آمدن کراہت کے ساتھ جائز ہوگی۔
حوالہ جات
قال الشیخ المفتی محمد تقی العثمانی حفظہ اللہ :
والذي ظهر لي بفضل الله وكرمه في الفرق بينهما هو أن ما قامت المعصية بعينه: هو ما كانت المعصية في نفس فعل المعين بحيث لا تنقطع عنه نسبتها بفعل ذلك الفاعل المختار، وذلك بثلاث وجوه :
الأول: أن يقصدَ الإعانةَ على المعصية، فإن مَن باعَ العصيرَ بقصد أن يتخذَ منه الخمر …والثاني: بتصريح المعصية في صلب العقد: كمَن قال:بعني هذا العصير؛ لأتخذه خمراً، فقال:بعته…والثالث:بيعُ أشياء ليس لها مصرف إلا في المعصية،فيتمحضُ بيعها وإجارتها وإن لم يصرَّح بها).انتهیٰ…(وإن لم يكن محرِّكاً وداعياً بل موصلاً محضاً، وهو مع ذلك سبب قريبٌ بحيث لا يحتاج في إقامة المعصية به إلى إحداث صنعة من الفاعل: كبيع السلاح من أهل الفتنة، وبيع العصير ممن يتخذه خمراً، وبيع الأمرد ممن يعصي به، وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر، أو يتخذها كنيسة، أو بيت نار وأمثالها، فكلُّه مكروه تحريماً بشرط أن يعلمَ به البائعُ والآجر من دون تصريح به باللسان، فإنّه إن لم يعلم كان معذوراً، وإن علم وصرّح كان داخلاً في الإعانة المحرمة... ویتخلص منه أن الإ نسان إ ذا قصد الإ عانة علی المعصیةبإ حدیٰ الوجوه الثلاثة المذکورة، فإ ن العقد حرام لا ینعقد، والبائع آثم. أ ما إ ذا لم یقصد ذالک، وکان البیع سبباً للمعصیة فلایحرم العقد ، ولکن إ ذا کان سبباً محرکا فالبیع حرام،و إ ن لم یکن محرکاً،وکان سبباً قریباً بحیث یستخدم فی المعصیة فی حالتها الراهنة ،ولا یحتاج إ لی صنعة جدیدة من الفاعل،کُره تحریماً و إ لا فتنزیهاً…وكذلك الحكم في برمجة الحاسُب الأليّ(الكمبيوتر)لبنك ربويّ،فان قصد بذلك الإ عانةأوكان البرنامج مشتملاعلي مالايصلح إ لّافي الأعمال الربوية،أو الأعمال المحرّمة الأخري،فإ ن العقد حرام وباطل.أمّا إ ذا لم يقصدالإ عانة،وليس في البرنامج ما يتمحّض للأعمال المحّرمة،صّح العقد وكره تنزيها.
(فقہ البیوع،ج:۱،ص:۱۸۷،رقم البحث :۷۴[ إن کان احد العاقدین یقصد بالعقد ارتکاب معصیۃ])
اعلم أن فسخ المكروه واجب على كل واحد منهما أيضا بحر وغيره لرفع الإثم مجمع.
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:
وقدمنا عن الدرر أنه لا يجب فسخه، وما ذكره الشارح عزاه في الفتح أول باب الإقالة إلى النهاية ثم قال وتبعه غيره وهو حق؛ لأن رفع المعصية واجب بقدر الإمكان اهـ. قلت: ويمكن التوفيق بوجوبه عليهما ديانة. بخلاف البيع الفاسد، فإنهما إذا أصرا عليه يفسخه القاضي جبرا عليهما. ووجهه أن البيع هنا صحيح ويملك قبل القبض ويجب فيه الثمن لا القيمة، فلا يلي القاضي فسخه لحصول الملك الصحيح.
(قوله مجمع) عبارته: ويجوز البيع ويأثم. اهـ وليس فيه ذكر الفسخ.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 105)
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
12.جمادی الآخرۃ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


