03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر سودی بینک میں سیونگ اکاونٹ کھلوانے کا حکم
85959سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

السلام علیکم! میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا ہم میزان بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پاکستان میں کام کرنے والے غیر سودی  بینکوں  میں ہونے والے معاملات اسلامی اصولوں کے مطابق  شرعی ایڈوائزرزکی  نگرانی  میں ہوتے ہیں، اس لیے کسی بھی غیر سودی  بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوا  کر  اس سے نفع حاصل کر سکتے ہیں ۔

حوالہ جات

قال الشیخ محمد تقی العثمانی حفظہ اللہ: البنوك الإسلامية لا تعمل على أساس الفائدة الربوية، بل إنما تقبل هذه الودائع على أن يشاركها أصحابها في ربحها إن كان هناك ربح، فليست هذه الودائع في البنوك الإسلامية قروضا، وإنما هي رأس مال في المضاربة، وإنها تستحق حصة مشاعة من ربح البنك، وتحتمل حصة مشاعة من الخسران إن كان هناك خسران، وليست مضمونة على البنك، فلا يضمن البنك أصلها ولا ربحها، إلا إذا حصل هناك تعد من قبل البنك، فإنه يضمن بقدر التعدي.

 (بحوث في قضايا فقهية معاصرة ،ص: 363)

سعد امین بن میر محمد اکبر

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

13/جمادی الثانیہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سعد امین بن میر محمد اکبر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب