| 85959 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
السلام علیکم! میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا ہم میزان بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پاکستان میں کام کرنے والے غیر سودی بینکوں میں ہونے والے معاملات اسلامی اصولوں کے مطابق شرعی ایڈوائزرزکی نگرانی میں ہوتے ہیں، اس لیے کسی بھی غیر سودی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوا کر اس سے نفع حاصل کر سکتے ہیں ۔
حوالہ جات
قال الشیخ محمد تقی العثمانی حفظہ اللہ: البنوك الإسلامية لا تعمل على أساس الفائدة الربوية، بل إنما تقبل هذه الودائع على أن يشاركها أصحابها في ربحها إن كان هناك ربح، فليست هذه الودائع في البنوك الإسلامية قروضا، وإنما هي رأس مال في المضاربة، وإنها تستحق حصة مشاعة من ربح البنك، وتحتمل حصة مشاعة من الخسران إن كان هناك خسران، وليست مضمونة على البنك، فلا يضمن البنك أصلها ولا ربحها، إلا إذا حصل هناك تعد من قبل البنك، فإنه يضمن بقدر التعدي.
(بحوث في قضايا فقهية معاصرة ،ص: 363)
سعد امین بن میر محمد اکبر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
13/جمادی الثانیہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سعد امین بن میر محمد اکبر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


