| 85914 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں حافظ اور عالم بننا چاہتا ہوں، لیکن میری والدہ کی خواہش ہے کہ میں دنیاوی تعلیم حاصل کروں جس کی وجہ سے میں پریشان ہوں، دو سپارے میں نے گھر پر مکمل حفظ کرلیے ہیں، اور وہ کہتی ہیں کہ حفظ بعد میں کرلوں، لہذا اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں.
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اس میں شک نہیں کہ حافظ قرآن بننے اور علم دین حاصل کرنے کے بہت فضائل ہیں،اس لیے آپ کا جذبہ قابل رشک ہے،تاہم اس کے ساتھ ساتھ دنیوی علوم وفنون کو حاصل کرنے کی اجازت ہے، بلکہ جائز مقاصد کے پیشِ نظر اس كومستحسن بھی قرار دیا گیا ہے، لہذا ایسا طریقہ کار اختیار کرنا چاہے جس میں دونوں تعلیمیں ایک ساتھ حاصل ہوں،آجکل ایسے ادارے موجود ہیں جن میں اس ترتیب پر تعلیم دی جاتی ہے۔اس میں والدہ کی خواہش اور اپ کا ذوق پورا ہوجائے گا۔دوسری بات یہ کہ آجکل مدارس میں درس نظامی یعنی علم دین حاصل کرنے کےلیے ابتدائی درجات میں تقریبا میٹرک تک کی تعلیم ضروری شرط کے طور پر رکھی جاتی ہے،اس لحاظ سے بھی عصری علوم حاصل کرنےچاہیے تاکہ آگے دینی تعلیم کو جاری رکھنے میں آسانی ہو۔
حوالہ جات
تفسير الألوسي (5/ 220):
وأنت تعلم أن الرمي بالنبال اليوم لا يصيب هدف القصد من العدو لأنهم استعملوا الرمي بالبندق والمدافع ولا يكاد ينفع معهما نبل وإذا لم يقابلوا بالمثل عم الداء العضال واشتد الوبال والنكال وملك البسيطة أهل الكفر والضلال فالذي أراه والعلم عند الله تعالى تعين تلك المقابلة على أئمة المسلمين وحماة الدين، ولعل فضل ذلك الرمي يثبت لهذا الرمي لقيامه مقامه في الذب عن بيضة الإسلام ولا أرى ما فيه من النار للضرورة الداعية إليه إلا سببا للفوز بالجنة إن شاء الله تعالى، ولا يبعد دخول مثل هذا الرمي في عموم قوله سبحانه: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِباطِ الْخَيْلِ۔
سنن الدارمي (ص: 575، رقم الحدیث: 2591):
أخبرنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب قال: حدثني يزيد بن أبي حبيب، عن أبي الخير: مرثد بن عبد الله، عن عقبة بن عامر أنه تلا هذه الآية: {وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة} ألا إن القوة الرمي۔
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
15/ جمادی الثانیہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


